- الإعلانات -

وزیراعظم پاکستان معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے پُرعزم

ملک میں مہنگائی کے طوفان کی آمدآمدہے ،اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کی سفارش کردی ہے اور یقینی طورپرحکومت بھی اسے منظور کرلے گی، گیس اور پٹرول مہنگاہونے کے بعدعوام کہاں کھڑی ہوگی، ہرآنے والے دن میں ایک نہ ایک چیز کی قیمتوں میں اضافے کی نوید سنادی جاتی ہے، اس کے باوجودوزیراعظم پُرامید ہیں کہ وہ عنقریب اس معاشی بحران سے نکل جائیں گے ، ہ میں ان کی نیت پرکوئی شک نہیں البتہ ان کی ٹیم کی کاوشیں ضرور مشکوک ہیں کیونکہ ابھی تک نہ ہی حالات قابو میں آرہے ہیں اورنہ ہی ڈالر کی قیمت ، ادار ے خودمختار ہیں اور اب انہیں ذمہ دار ٹھہرایاجائے گا، جیسا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کے بار ے میں کہاگیاکہ اس حوالے سے سٹیٹ بنک ذمہ دار ہے ، مگر آخرکار ذمہ داری ریاست کے سربراہ کے سرہی آتی ہے ، اپوزیشن بھی عید کے بعد تیار بیٹھی ہے ،اگر فیصلے سڑکوں پرہی کرنے ہیں تو پھر حالات خراب ہوجائیں گے ، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دے ،بڑھتی ہوئی قیمتوں کوکنٹرول کیاجائے ۔ اوگرانے مالی سال 2019-20 کیلئے مختلف کیٹگریز کے چھوٹے صارفین کیلئے گیس 188 فیصد تک مہنگی کرنے کی سفارش کی ہے ۔ گیس کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی طرف سے منظوری ملنے کے بعد کیا جائے گا ۔ اوگرا کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجموعی طور پر گیس صارفین کیلئے 47 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ گیس صارفین کیلئے سلیب کی تعداد کو بڑھا کر 16 کردیا گیا ہے ۔ اوگرا نے 50 کیوبک میٹرز گیس استعمال کرنے والے صارفین جن کی تعداد 18 فیصد بنتی ہے ۔ گیس کی قیمت میں 188 فیصد اضافہ کی سفارش ہے اور ایسے صارفین کا ماہانہ بل جو کہ پہلے 274 روپے ;200;تا تھا اب بڑھ کر 789 روپے ;200;ئے گا ۔ دوسرے سلیب میں 100 کیوبک میٹرز تک گیس استعمال کرنے گھریلو صارفین کیلئے قیمت میں 183 فیصد اضافہ کی سفارش کی گئی ۔ ایسے صارفین کی تعداد 29 فیصد ہے ان کا موجودہ ماہانہ بل 550 روپے ;200;تا تھا بڑھ کر 1555 روپے ماہانہ ہوجائے گا، 200 کیوبک میٹرز تک گیس استعمال کرنے والے صارفین جو کہ 32 فیصد ہیں ان کیلئے 74 فیصد اضافے کی سفارش کی ہے ۔ ان کے بل 2215 روپے سے بڑھ کر 3854 روپے ماہانہ ;200;ئیں گے، 300 کیوبک میٹرز سے زائد گیس استعمال کرنے والے صارفین کے سلیب کیلئے قیمت میں 12 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے ۔ ان کے ماہانہ بل پہلے 3449 روپے ;200;رہے ہیں جو بڑھ کر 6918 روپے ہوجائیں گے ۔ اوگرا نے 110، 210 اور 310 کیوبک میٹرز تک گیس استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بالترتیب 45 فیصد اور 72 فیصد تک نرخ بڑھانے کی سفارش کی ہے ۔ نئے نرخوں کے مطابق 110 کیوبک میٹرز تک گیس استعمال کرنے والے صارفین کے گیس کے بل 1229 سے بڑھ کر 1777 اور 210 کیوبک میٹرز تک گیس استعمال کرنے والوں کیلئے موجودہ بل 2421 روپے بنتا ہے بڑھ کر 4160 روپے ماہانہ ہوجائے گا ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اوگرا نے 310 کیوبک میٹرز تک گیس استعمال کرنے والے صارفین کیلئے 27 فیصد تک گیس سستی کرنے کی سفارش کی ہے ۔ ایسے صارفین جن کے موجود ہ بل 10064 روپے ماہانہ ;200;تے ہیں ان کے بل کم ہوکر 7378 روپے ماہانہ ہوجائیں گے ۔ 400 اور 410 کیوبک میٹرز تک گیس استعمال کرنے والے صارفین کو سابقہ رقم کی ایڈجسٹمنٹ کے تحت ریلیف دیا جائے گا ۔ دوسری جانب وزیراعظم نے کہا ہے کہ معاشی اور اقتصادی صورتحال بہتر بنانے پر توجہ مرکوز ہے مشکل معاشی صورتحال سے جلد نکل جائیں گے اہم فیصلے کئے ہیں چند ماہ میں بہتر نتاءج سامنے ;200;ئیں گے ملک و قوم کا مفاد سیاسی مفاد سے بالا تر معاشی استحکام کی جانب گامزن ہیں قومی اداروں کی تنظیم نو سے معاشی استحکام کی طرف بڑھیں گے، علاوہ ازیں عمران خان کی زیر صدارت وزیرِ اعظم کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کا اجلاس، ہوا ، ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلقہ امور پر غور کیا گیا ، مشیر ماحولیات ملک امین اسلم نے الیکٹرک وہیکل پالیسی پر بریفنگ دی ، صوبہ پنجاب میں ماحولیاتی آلودگی کی ایک بڑی وجہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر توجہ دی جائے ۔ وزیرِ اعظم نے مشیر ماحولیات کو ہدایت کی کہ الیکٹرک وہیکل پالیسی کو آئندہ دو ہفتوں میں حتمی شکل دے کر کابینہ کے سامنے منظوری کےلئے پیش کیا جائے ۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کےلئے تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی ادارے رابطے میں رہیں تاکہ موسم گرما میں ممکنہ سیلاب کی صورتحال میں بروقت ضروری اقدامات کئے جا سکیں ، وزیرِ اعظم کو ماحولیات کی بہتری کے حوالے سے موجودہ حکومت کے سب سے اہم منصوبے ،دس ارب پودے لگانے کے منصوبے پر اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ بھی دی گئی ۔ بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت میں پلاسٹک بیگ کے استعمال کے حوالے سے قواعد و ضوابط ترتیب دیے جاچکے ہیں اور 14اگست2019 سے وفاقی دارالحکومت میں پلاسٹک بیگ کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی ۔

بھارت تحریک آزادی کشمیر دبانہیں سکتا

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی پوری طرح جاری ہے اوربین الاقوامی برادری نے اپنی آنکھیں بندکررکھی ہیں ، تحریک آزادی کشمیر آب وتاب پر ہے ،دس نہتے کشمیریوں کی شہادت کے بعد مقبوضہ وادی کے حا الات انتہائی خراب ہوگئے ہیں ، قابض بھارتی فوج نے کرفیونافذ کردیا، لیکن ان پابندیوں سے آزادی کی تحریک کودبایانہیں جاسکتا، کشمیریوں کاخون رائیگاں نہیں جائے گا،اب یہ آزادی کے دیوا نے بھارتی ظلم سے آزادی لے کررہیں گے ۔ گزشتہ روز مقبوضہ وادی میں مکمل احتجاجی ہڑتال کی گئی جبکہ ریاست بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ مکمل ہڑتال کے باعث سڑکیں سنسان، کاروباری اور تعلیمی مراکز بند رہے ۔ جنوبی کشمیر میں بھارتی پابندیوں کے باوجود شہدا سپردخاک نماز جنازہ میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی ۔ جنوبی کشمیر میں گزشتہ روز موبائل انٹرنٹ سروس، ریل سروس بند رہی ، تعلیمی ادارے بھی بند رہے ۔ سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے ہڑتال کی اپیل کی تھی ۔ سرینگر میں تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا کام بندرہا جبکہ کشمیر یونیورسٹی نے بھی پوسٹ گریجویشن کے داخلی امتحانات موخر کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ ادھر بھارتی فورسز نے جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں ایک گاءوں کو محاصرے میں لیکر تلاشی ;200;پریشن شروع کیا ۔ انتہاپسند ہندوءوں کی طرف سے مسلمان شہری کے قتل کے بعد جمعہ کو بھی ڈوڈہ ضلع کے بھدرواہ قصبے میں کرفیو نافذ رہا ۔ گائے کے نام نہاد محافظین کی طرف سے مسلمان شہری کے قتل پر شدید کشیدگی پائی جاتی ہے ۔