- الإعلانات -

اےران پر بڑھتا ہوا امرےکی دباءو

اےک سال بعد اےران کے ساتھ امرےکہ کے ےک طرفہ طور پر نکل جانے سے اےران نے جواباً اعلان کےا ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر اندر افزودہ ےورےنےم کی پےداوار شروع کر دے گا اور اس کے ذخائر بھی رکھے گا البتہ اسے کسی ملک کو فروخت نہےں کرے گا ۔ اےران نے جدےد ٹےکنالوجی مےں مہارت حاصل کرنے کےلئے ےورےنےم کی افزودگی کا پروگرام روس کے فنی تعاون سے شروع کےا ۔ پروگرام کے آغاز کے ساتھ ہی امرےکہ اور اسرائےل کی طرف سے اےران کی اےٹمی تنصےبات کو تباہ کرنے کی دھمکےاں دی جانے لگےں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اےران ےورےنےم کی افزودگی مےں مہارت حاصل کرنے کے بعد اس پروگرام کو اےٹمی اسلحے کی تےاری کےلئے استعمال کرے گا ۔ اےران کے اس پروگرام سے اسرائےل سب سے زےادہ خاءف اور معترض رہا اور اسرائےلی وزےر اعظم اور فوجی سربراہوں کی طرف سے متعدد مرتبہ نہ صرف اےران پر حملہ کرنے کے انتباہ جاری کئے گئے بلکہ فوج اور بالخصوص فضائےہ کے سربراہ کی طرف سے تو اسرائےلی فضائےہ کو اےران پر حملہ کرنے اور اےٹمی تنصےبات کو تباہ کرنے کےلئے ہر لمحہ تےار رہنے کی ہداےات بھی جاری کےں ۔ اےران جہاں امرےکہ اور اسرائےل کی دھمکےوں سے مرعوب ہوئے بغےر ہر جارحےت کا منہ توڑ جواب دےنے کا اعلان کرتا رہا وہاں اس نے اپنے اےٹمی پروگرام کے متعلق امرےکہ ،اسرائےل،ےورپی ےونےن اور بعض دوسرے مغربی ممالک کے تحفظات و خدشات دور کرنے مےں بھی کبھی کسی تساہل ےا لےت و لعل کا مظاہرہ نہ کےا ۔ اس کا ہمےشہ ےہ موقف رہا کہ وہ جدےد ٹےکنالوجی پر دسترس حاصل کر کے اسے ملک کی تعمےروترقی کےلئے استعمال کرنا چاہتا ہے اور اےٹمی اسلحہ تےار کرنے کا ہر گز کوئی ارادہ نہےں رکھتا ۔ اس موقف کا عملی ثبوت فراہم کرتے ہوئے اس نے ماضی مےں بےن الاقوامی اےجنسی کو اپنی تنصےبات کا معائنہ کرنے کی اجازت بھی دی ۔ اےجنسی کے سربراہ محمد البرادی نے اےران کی تنصےبات خود بھی دےکھےں اور کہا کہ اےران مےں اےٹمی اسلحہ کی تےاری کے شواہد کہےں نظر نہےں آئے ۔ اےٹمی پروگرام کے حوالے سے اےران کے بھی کچھ تحفظات ہےں اس کا کہنا ہے کہ اسرائےل کے پاس اےک سو اےٹم بم موجود ہےں جبکہ بعض دفاعی اداروں کے مطابق ےہ تعداد اس سے کہےں زےادہ ہے جو عالمی امن کےلئے سنگےن خطرہ ہے ۔ امر واقعہ ےہ ہے کہ امرےکہ اور اسرائےل کےلئے کسی مسلمان ملک کا اےٹمی قوت بن جانا اور جدےد ٹےکنالوجی پر دسترس حاصل کر لےنا کسی بھی صورت قابل برداشت نہےں اس سے پہلے پاکستان کو جس دباءو ،اقتصادی اور دفاعی پابندےوں کا سامنا کرنا پڑا وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہےں حالانکہ برصغےر مےں اےٹمی اسلحہ کی دوڑ کی ذمہ داری ہر گز پاکستان پر عائد نہےں ہوتی نہ ہی اس نے ےہ پروگرام شروع کرنے مےں پہل کی تھی ۔ اسرائےل کی طرف سے پاکستان کی اےٹمی تنصےبات پر بھی حملے کی کوشش کی جا چکی ہے جسے پاک فضائےہ نے ناکام بنا دےا ۔ 2015ء مےں اقوام متحدہ کی سےکورٹی کونسل کے پانچ رکن ممالک اور جرمنی نے اےران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پاےا تھا جس کے تحت اےران نے نےوکلےائی پروگرام محدود کرتے ہوئے بےن الاقوامی مبصرےن کو دورے کی اجازت دے دی تھی ۔ بدلے مےں عائد پابندےوں مےں کچھ نرمی کی گئی تھی ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امرےکی صدر بننے پر مئی 2018ء مےں امرےکہ ےک طرفہ طور پر معاہدے سے دستبردار ہو گےا اور اگست2018ء مےں اےران پر اقتصادی پابندےاں لگا دی گئےں ۔ اس کے رد عمل مےں اےران نے اشارہ دےا کہ اگر معاہدہ مےں شامل دےگر فرےق بھی امرےکہ کے ساتھ ملے تو وہ اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کر دے گا ۔ اےران کے اس اعلان پر ےورپ اور چےن جو امرےکی دھمکےوں اور پابندےوں کے باعث مخمصے کا شکار تھے دوبارہ جوہری معاہدے کی حماےت کا اعلان کر دےا تا کہ اےران کو جوہری پروگرام پہ عملدرآمد سے روکا جا سکے اور اس پرعائد اقتصادی پابندےاں اٹھائی جائےں ۔ امرےکہ نے اےران کی طرف سے امرےکی فوجوں اور مفادات کو لاحق خطرہ کے پےش نظر اپنا بحری بےڑا ابراہم لنکن اور بی ۔ 52بمبار طےارے بھجوا دیے ہےں ۔ امرےکہ نے اس ساری جنگی صورتحال کا بڑا دلچسپ جواز پےش کےا ہے کہ ہمےں اےران کی طرف سے خلےج مےں اپنی تنصےبات اور اپنے اتحادےوں پر حملے کا خطرہ ہے ۔ اس ملک سے خطرہ سمجھ سے بالا تر ہے جس ملک کے گزشتہ اےک برس کے دوران اسرائےل نے جنوبی اور وسطی شام مےں بےس سے زےادہ اڈے ،تربےتی مراکز اور اسلحہ گودام تباہ کئے ہےں ان حملوں مےں اےران کے بہت سے فوجی اور رضاکار مارے گئے لےکن اےران نے جواب مےں اےک کنکر بھی اسرائےل کی طرف نہےں پھےنکا ۔ ادھر سعودی عرب کے مشرقی صوبہ مےں ملک کی آئل رےفائنری اور تےل کی تنصےبات پر بھی حملہ کی اطلاع ہے ۔ ےمن کی حوثی افواج نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ سعودی عرب مےں تےل کی تنصےبات اور آئل ٹےنکرز پر ہونے والے حملوں کی نوعےت کا تعےن نہےں ہو سکا اور نہ ہی کسی بھی ملک نے اےران ےا کسی دوسری طاقت پر اس کا الزام عائد کےا ہے تاہم ےہ واقعات اےرانی وزےر خارجہ محمد جاوےد ظرےف کے اس انتباہ کے فوری بعد رونما ہوئے ہےں جس مےں انہوں نے کہا تھا کہ علاقے مےں کوئی بڑا واقعہ رونما ہو سکتا ہے تاکہ کشےدگی مےں اضافہ کا جواز تلاش کےا جا سکے ۔ اےرانی صدر حسن روحانی نے اعتراف کےا ہے کہ امرےکہ کی سخت اقتصادی پابندےوں کی وجہ سے سخت دباءو مےں ہےں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اےران کے خلاف نفسےاتی جنگ کا آغاز کر دےا گےا ہے لےکن ہم امرےکہ سے فوجی تصادم کا امکان رد نہےں کر سکتے ۔ آج بظاہر طرفےن کی طرف سے جو جنگی تےارےاں نظر آ رہی ہےں ،ماضی مےں بھی اےسا ہوتا رہا ہے ےعنی خلےج فارس مےں ابراہم لنکن بحری بےڑاکوئی پہلی بار نہےں گےا اور نہ ہی قطر مےں موجود العدےد ائےر بےس پہ پہلی بار بی ۔ 52اترے ہےں ۔ اس سارے منصوبے کے پےچھے اسرائےلی خفےہ معلومات کام کر رہی ہےں ۔ اسرائےلی انٹےلی جنس رپورٹوں کے مطابق اےران خلےج مےں حملے کی تےاری کر رہا ہے ۔ اسرائےل کا اصل منصوبہ ےہ ہے کہ وہ امرےکہ سے اےران کی جوہری تنصےبات پر حملے کروائے اور اےران کو مکمل تباہی سے ہمکنار کر دے ۔ اےک بار پھر امرےکہ کی طرف سے اےران کے خلاف جنگی غبارے مےں اسی طرح ہوا بھری جا رہی ہے جےسے عراق،شام اور لےبےا پر حملوں سے پہلے بھری گئی تھی ۔ اےرانی عوام اپنی حکومت کے ساتھ مخلص ہےں وہ اپنے ملک اور انقلاب کے دفاع کےلئے ہر قسم کی قربانی دےنے کےلئے آمادہ دکھائی دے رہے ہےں ۔ اگرچہ اےرانی عوام کی اےک قابل لحاظ تعداد اےسی ہے جو مغربی آزادی کی خواہاں ہے لےکن ملکی سلامتی کے معاملے مےں سب کی سوچ ےکساں ہے اور ےہ اےک حقےقت ہے کہ امرےکہ کو سب سے زےادہ خطرہ بھی اےرانی عوام کے باہم اتحاد اور ہم آہنگی سے ہے حالانکہ اےرانی عوام کو تقسےم کرنے اور ان کے ذہن سے انقلابی سوچ ختم کرنے کےلئے امرےکہ کروڑوں ڈالر خرچ کر چکا ہے ۔ امرےکہ کے علم مےں ہے کہ اگر اس نے اےران پر حملے کی غلطی کی تو اس کے جواب مےں اےران پوری دنےا مےں امرےکی مفادات کو نقصان پہنچائے گا ۔ اےران کا ممکنہ ردعمل سنگےن تر ہو گا جس سے دنےا مےں تباہی و بربادی کے آثار نماےاں ہوں گے اور اتنے بڑے پےمانے پر انسانی ہلاکتےں ہوں گی جس کا تصور کرنا بھی محال ہے ۔ آبنائے ہرمز مختصر سمندری راستہ ہے جہاں تےل بردار جہازوں کی آمدورفت کا سلسلہ شروع رہتا ہے ۔ جنگ کے دوران اگر اےران اس راستے سے گزرنے والے کسی اےک جہاز کو بھی نشانہ بنانے مےں کامےاب ہو جاتا ہے تو غالب امکان ہے کہ راستہ بند ہو جائے گا جو تےل کی قےمتوں مےں طوےل المدت اضافہ کا سبب بنے گا اور اس کے ساتھ اےسے عسکری گروہوں کی قوت مےں اضافہ ہو گا جو تشدد اور دہشت گردی کے ذرےعے مختلف ملکوں کے امن اور معےشت تباہ کرنے کا سبب بنتے رہےں گے ۔ دہشت گردی کے خلاف اب تک جو کامےابےاں حاصل کی گئی ہےں وہ نہ صرف ضائع ہو جائےں گی بلکہ ان کی شدت مےں اضافہ ہو جائے گا ۔ ا;203; نہ کرے اگر ےہ خطرہ حقےقت بنتا ہے تو ہم اس کی زد مےں ہوں گے کےونکہ جنگ کے مہلک اثرات ہمےشہ پڑوسی ممالک پر مرتب ہوتے ہےں ۔