- الإعلانات -

رمضان کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جائے

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ۔ اس کے قوانین اسلام کو مد نظر رکھ کر بنائے گئے ہیں ۔ چونکہ یہاں مسلمانوں کے علاوہ دوسری اقلیتیں بھی رہتی ہیں لہذا یہاں کے قوانین میں ان کے مذاہب کا بھی خیال رکھا گیا ہے ۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ اپنے مذہب کی بھرپور پیروی کی جائے اور کسی دوسرے کے مذہب کو چھیڑا نہ جائے ۔ ہمارے ہاں ہر سال رمضان کے مہینے میں احترام رمضان آرڈیننس جاری کیا جاتا ہے جو اقلیتوں سمیت مسلمانوں کو بھی رمضان کے تقاضوں کو پورا کرنے اور ان پر پابند رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔ کیوں کہ بعض لوگ رمضان المبارک میں کسی عذر یا بغیر عذر دن کے اوقات میں کھلے عام کھاتے پیتے نظر آتے ہیں تو پولیس حرکت میں آجاتی ہے اور پھر معاملہ گھمبیر ہوجاتا ہے ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے 1981 میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر نے احترام رمضان آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت تحت عوامی مقامات پر کھانا پینا اور سگریٹ نوشی ممنوع ہوئی ۔ اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مختلف نوعیت کی سزائیں بھی تجویز ہوئیں ۔ اس کے بعد تقریباً ہر سال احترام رمضان آرڈیننس جاری ہوتا ہے ۔ بحیثیت مسلمان ہ میں تو رمضان کے احترام اور اس کے تقدس کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہے ۔ یہ آرڈیننس زیادہ تر اقلیتوں کی یاد دہانی کے لئے نافذ کیا جاتا ہے مگر آج کل کے حالات میں یوں لگتا ہے کہ اس آرڈیننس کی زیادہ ضرورت ہمارے مسلمان عوام کو ہے ۔ ہم نے مذہب کو اس قدر آسان لے لیا ہے کہ اس کا تقدس، احترام اور پابندیاں توڑنا ایک فیشن بن گیا ہے ۔ نماز، روزہ و دیگر اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانا ایک سٹیٹس سمبل بن گیا ہے ۔ ہمارے مسلمان نوجوان لڑکے لڑکیاں بغیر کسی عذر کے روزے نہیں رکھتے ، نماز نہیں پڑھتے اور دوسروں کو بھی اس سے روکتے ہیں ۔ سچے مسلمان جوانوں کو بنیاد پرست کہہ کر پکارتے ہیں ۔ اسلام نے مسافر، بیمار اور بچے پر روزے کی چھوٹ دی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھلے عام اس چھوٹ کی دھجیاں اڑائی جائیں ۔ رمضان میں کھلے عام کھانا پینا ایک رواج بن گیا ہے ۔ مذہبی طورپر مسافروں کےلئے روزہ کی پابندی میں نرمی ہے ۔ اسی لئے قانونی طورپر بس اڈوں ، ریلوے سٹیشن پر چند ایک ہوٹلوں کو دن میں کھلا رہنے کی اجازت دی گئی ہے وہ بھی اس صورت میں کہ اول تو وہ ہوٹل شہری انتظامیہ سے اس کا اجازت نامہ حاصل کریں اور پھر اپنی ہوٹل کے ارد گرد پردہ کریں تاکہ دوسرے لوگوں کی نظریں ان پر نہ پڑیں ۔ ماحول ایسا رکھیں کہ کھانے کی آواز باہر تک نہ جائے تاکہ روزہ دار پریشان نہ ہوں ۔ لیکن دیکھا یہ جا رہا ہے کہ سفری جگہوں کے علاوہ بھی لا تعداد ہوٹل کھلے ہیں اور علی اعلان کھانا چل رہا ہے ۔ کوئی پوچھنے والا بھی نہیں اور انہیں خود بھی کوئی خیال نہیں ۔ آج کل جیسے کہ گرمی کے روزے ہیں تو دھوپ میں نکلنے والے کو سب سے زیادہ پیاس ہی تنگ کرتی ہے ۔ ایک روزہ دار دفتر آتے جاتے یا کاروباری شخص اپنی دکانوں یا دوسرے کاروبار پر آتے جاتے گرمی اور پیاس سے بے حال ہوتے ہیں ۔ ایسے میں سڑک پر جگہ جگہ شربت اور میٹھے پانی کی ریڑھیاں ان کےلئے پریشانی کا باعث بنتی ہیں ۔ ایک اور بد تہذیبی جو رمضان میں دیکھنے میں آتی ہے وہ سگریٹ نوش افراد ہیں جو ایک پل بھی سگریٹ کے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ وہ سرعام ہاتھوں میں سگریٹ لئے بے خوف و خطر پیتے نظر آتے ہیں ۔ بیمار افراد بھی اپنی بیماری کے حساب سے روزے رکھیں ۔ یہ نہیں کہ ہلکی سی کمزوری ہونے ، سر درد ہونے یا طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کر کے روزہ چھوڑ دیا جائے ۔ بلکہ خطرناک بیماری کی صورت میں اپنے معالج سے مشورہ کیا جائے اور اس کے کہنے پر روزہ چھوڑا جائے ۔ پھر بھی اس بات کا خیال رکھاجائے کہ روزہ نہ ہونے کی صورت میں دیگر روزہ دار گھروالوں کو پریشانی نہ ہو ۔ روزے کی حالت میں بھوک پیاس لگتی ہے اور جسم میں کمزوری آجاتی ہے ۔ یہ ایک فطری عمل ہے لیکن اس کو بنیاد بنا کر روزہ نہ رکھنا ، اللہ تعالیٰ کے حکم کو نہ ماننا بہت غلط بات ہے ۔ روزہ فرض کیا گیا ہے ۔ یہ کوئی نفلی یا واجب عبادت نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر بھی میں دوں گا ۔ تو جہاں وہ روزہ دار کو اجرعظیم دے گا وہاں وہ روزہ نہ رکھنے پر بازپرس بھی کرے گا اور خاص طور پر ان لوگوں سے جو بلا عذر روزہ نہیں رکھتے اور پھر اس کا احترام بھی نہیں کرتے ۔ جہاں تک بچوں کا سوال ہے تو چھوٹے بچوں پر تو روزہ ویسے بھی فرض نہیں ۔ ایک خاص مدت تک بچوں کو روزے سے چھوٹ ہے ۔ مگر گھر کا ماحول ایسا بنایا جائے کہ چھوٹے بچے بھی روزے کا احترام کریں ۔ ان کو کھانا دیتے وقت کسی علیحدہ جگہ پر بٹھایا جائے ۔ سب سے سامنے پانی پینے یا دیگر اشیاء کھانے سے منع کیا جائے ۔ یہیں سے ان کی تربیت ہوگی جو بڑے ہو کر بھی ان کے کام آئے گی اور احترام رمضان ان کی زندگی میں رچ بس جائے گا ۔ ویسے بھی بحیثیت شہری ہمارا یہ فرض ہے کہ ملکی قوانین سے واقفیت حاصل کریں ۔ اپنی ذمہ داریوں اور حقوق سے واقف ہوں اور خاص طور پر رمضان میں ہ میں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ نہ صرف کسی کے مذہبی جذبات مجروح ہوں بلکہ ہم خود بھی قانون کی نظر میں مجرم ٹھہرنے سے محفوظ رہیں ۔