- الإعلانات -

وزیراعظم کا کرپٹ مافیا سے نجات حاصل کرنے کا عزم اور اپوزیشن کی بے وقت کی راگنی

زیراعظم عمران خان نے کہا کہ بلاول اور مریم کے ملنے پر حیرت نہیں سارے چور اکٹھے ہوناچاہتے ہیں عوام کبھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے، معیشت اسی وقت درست ہوسکتی ہے جب اس کرپٹ مافیا سے نجات حاصل کرلی جائے، کپتان کی یہ بات درست ہے کہ کیونکہ جب بھی حکومت کرپشن کیخلاف زیادہ تیزی سے کام شروع کرتی ہے تو اپوزیشن کو جمہوریت اور خدانخواستہ ملکی استحکام خطرے میں نظر آنا شروع ہو جاتا ہے جبکہ حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں ، البتہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری پر ضرور عوام کو تحفظات ہیں تاہم وزیراعظم کا عزم مصمم ہے کہ وہ درست فیصلے کررہے ہیں اور مشکل وقت سے نکل جائیں گے ، اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے مابین سیاسی فائرنگ عروج پر ہے اور دونوں ایک دوسرے کیخلاف بے دھڑک، بغیر حدود و قیود کے الزام تراشیاں کررہے ہیں بلکہ اب تو کچھ رہنما ایسے الفاظ بھی استعمال کرجاتے ہیں جن کو کہنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا پڑتا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک دوسرے کیخلاف بیان بازی کریں ۔ وزیراعظم عمران خان نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے افطار ڈنر کو تنقید کا نشانہ بنا تے ہو ئے کہا ہے کہ ;200;ج سارے جمہوریت بچانے کے نام پر جمع ہوئے ہیں ، بدقسمتی سے ان ہی لوگوں کی وجہ سے ملک ;200;گے نہیں بڑھا، و ہ کہتے تھے دو پارٹی سسٹم کی وجہ سے اقتدار میں نہیں ;200;سکتا، تاریخ کے سب سے بڑے قرضے اور سب سے مشکل حالات میں پاکستان ہ میں ملا لیکن ثابت کرکے دکھا ءوں گا، خطے میں سب سے اوپر پاکستان جائے گا، اسلام آباد میں شوکت خانم ہسپتال فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ملک اس وقت معاشی طور پر مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ ہماری سوچ کی سب سے بڑی طاقت دل کھول کر فلاحی کاموں میں حصہ لینا ہے، مشکل وقت میں قوم کو حوصلہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے ان سارے لوگوں کیوجہ سے پاکستان آگے نہ بڑھ سکا ۔ پاکستانی عوام اس ملک کی ترقی کی امید ہیں ۔ جمہوریت بچانے کیلئے جو لوگ اکٹھے ہو ئے ہیں ان لوگوں کی وجہ سے ہمارا ملک آگے نہیں بڑھا،ملک اس وقت معاشی طور پر مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت، دگرگوں حالات اور اپوزیشن کا گھیرا تنگ ہونے پر گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے تمام سیاسی جماعتوں کو افطار ڈنر پر مدعو کیا جس میں اسفندیارولی، محموداچکزئی، اختر مینگل اور سراج الحق شریک نہیں ہوسکے، یہ شرکت گو کہ بوجہ تھی لیکن اس کے پیچھے بھی ایک لمبی کہانی ہے ۔ جماعت اسلامی نے عید کے بعد ملک گھیر احتجاج کا اعلان کردیا ہے جبکہ اپوزیشن نے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک کیلئے اے پی سی بلانے کا اعلان کیا ہے ۔ اب عید کے بعد معلوم ہوگا کہ اے پی سی میں کون کون شریک ہوتا ہے تاہم اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ اگر کوئی کرپٹ سیاستدان ثبوتوں کے ساتھ پابند سلاسل ہوتا ہے تو اس کی حمایت نہیں کی جانی چاہیے آخر کار کوئی تو ایسا شخص ہو گا جو اس نظام کو درست کرے گا، ابھی حکومت کو پورا سال بھی نہیں ہوا کہ اسے گرانے کی باتیں شروع ہو رہی ہیں لیکن وزیراعظم اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ کرپشن کو ختم کریں گے اور کرپٹ افراد کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی کوئی این آراو دیا جائے گا ۔ ادھر دوسری جانبپاکستان کی اپوزیشن کی جماعتوں نے عیدالفطر کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس کی سربراہی کے فراءض جمعیت علما اسلام کے (ف)کے امیر مولانافضل الرحمن دیں گے ۔ ان کی دعوت پر بلائی گی آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن کی جماعتیں حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لیے لاءحہ عمل طے کریں گے ۔

اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے عید الفطر کے بعد مہنگائی بیروزگاری روپے کی گرتی ہوئی قدر سے پیدا ہونے والی صورتحال پر اپنا اپنا احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اپوزیشن جماعتیں نے باہم مل بیٹھنے پر اتفاق رائے کیا ۔ اس بات کا اعلان پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کی جماعتوں کے قائدین کے اعزاز میں دئیے گے افطار ڈنر کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دیئے گے افطار ڈنر میں شاہد خاقان عباسی، مریم نواز حمزہ شہبازایاز صادق خواجہ آصف پرویز رشید شامل تھے ۔ پیپلز پارٹی کے رہنماوں یوسف رضا گیلانی سید خورشید شاہ رضا ربانی راجہ پرویز اشرف نیئر بخاری فرحت اللہ بابر جماعت اسلامی کے رہنماوں لیاقت بلوچ اور میاں اسلم اے این پی کے رہنماءوں میاں افتخار اور زاہد خان قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاءو نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو پی ٹی این کے علی وزیر محسن داوڑ اور دیگر رہنماءوں نے شرکت کی ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ کچھ نا اہل لوگ برسر اقتدار آگئے ہیں پچھلے چھ سات ماہ کے اندر ملک کی کشتی گہرے سمندر میں ہچکولے کھا رہی ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس بات پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں موجودہ حکومت ملک کو چلانے میں ناکام ہو چکی ہے ۔ جولائی 2018 میں متنازعہ ہونے والے الیکشن کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں ۔ اب تو مہنگائی کی ابتدا ہوئی ہے نام نہاد احتساب کے نام پر اپوزیشن کو دبایا جارہا ہے ۔ آل پارٹیز کانفرنس میں ایک بیانیہ جاری کیا جائے گا ۔ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاو نے کہا کہ نو ماہ موجود ہ حکومت نے عوام کو بیروزگار اور مہنگائی کے سوا کچھ نہیں دیا پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کا فائدہ یہ ہے کہ دو جمہوری حکومتوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی ، چارٹر آف ڈیموکریسی میں مزید نئی چیزیں شامل کی جائیں گی اور ملک کو آگے لے جایا جائے گا ۔ پوائنٹ آف نورٹرن پر بات نہیں پہنچنی چاہیے ۔

چیئرمین نیب کی اہم پریس کانفرنس

چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ وہ کسی بزنس مین کو نہیں بلائیں گے، آج تک کسی ایک بزنس مین کی ٹیلی گراف ٹرانسفر(ٹی ٹی) میں مداخلت نہیں کی تاہم ارباب اختیار اور حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ جن کے کیسز نیب میں چل رہے ہیں انہیں عہدے نہ دئیے جائیں ، کروڑوں روپے کیسے ملک سے باہر جارہے ہیں ، کیسے آرہے ہیں ، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نیب ان سے پوچھنے کیلئے حق بجانب ہے ۔ چیئرمین نیب کی گزشتہ روز ہونے والی پریس کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ ملک میں کاروبار تقریباً تباہی کے دہانے پر پہنچ رہا ہے اور جتنے بھی کاروباری حضرا ت ہیں وہ کسی نہ کسی صورت پریشان ہیں ، اس کی سب سے بڑی وجہ ٹیکس نیٹ کے معاملات تھے مگر جب سے وزیراعظم نے وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے سربراہوں کی تبدیلی کی ہے اس کے بعد سے کچھ نہ کچھ سکھ کا سانس آنا شروع ہوگیا ہے ۔ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے بھی کاروباری طبقے کو یقین دہانی کرائی کہ کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا جائے گا جوکہ ان کیخلاف جائے اسی طرح مشیر خزانہ کی جانب سے بھی حوصلہ افزائی کی گئی چونکہ یہ افراد اپنے اپنے شعبوں میں یکتا اور ماہر ہیں چونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے ٹی ٹی کے معاملات بھی چل رہے تھے اس کے حوالے سے بھی چیئرمین نیب نے قطعی طورپر سارے معاملات کو کلیئر کردیا ہے، ٹی ٹی کا لگانا کوئی پاکستان میں انوکھا نہیں ہورہا ، ٹی ٹی دنیا بھر میں لگائی جاتی ہے تاہم ہمارے ملک میں گزشتہ دنوں اس مسئلے کو مس ہینڈل کیا گیا جس کی وجہ سے جس کے نتاءج بھی سامنے آئے ، ساتھ ہی چیئرمین نے کہاکہ اگر کوئی شخص 5لاکھ کی جگہ 50 لاکھ روپے خرچ کرے تو کیا نیب خاموش رہے گا ایسی صورت میں کیونکر نیب خاموش رہ سکتا ہے، ملکی خزانے کو بے دریغ لوٹنے والے پابند سلاسل نہیں ہوں گے اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوسکتے ، حکومت کو چاہیے کہ جن کرپٹ افراد کو گرفتار کرے ان سے ایک ٹائم فریم کے دوران لوٹی ہوئی دولت کی برآمدگی یقینی بنائے ۔