- الإعلانات -

کیلاش ۔ ۔ ۔ !

اللہ رب العزت نے وطن عزےز پاکستان کو انتہائی خوبصورت تخلیق کیا ہے ۔ جہاں بلند و بالا پہاڑ ہیں تو وہاں سرسبز مےدان بھی ہیں ۔ جہاں رےت کے صحرا ہیں ،وہاں آب وتاب سے بہتے درےا بھی ہیں ۔ پاکستان میں چار موسم ہیں ۔ وطن عزےز میں ہرقسم کی سبزےاں ، فصلیں اورپھل پیدا ہوتے ہیں ۔ ےہ ملک معدنےات اور دےگر قدرتی دولت سے مالامال ہے ۔ پاکستان میں مختلف ثقافتیں اور تہذیبیں موجود ہیں ۔ وطن عزےز میں مختلف زبانےں بولی جاتی ہیں ۔ پاکستان ہر لحاظ سے اےک خوبصورت ملک ہے ۔ ےہ سےاحت کےلئے اہم اور زرخےزملک ہے ۔ ہ میں نہ صرف خود اپنے ملک کے مختلف حصوں کی سےر وسےاحت کرنی چاہیے بلکہ ہ میں غےرملکےوں کو بھی پاکستان میں سےاحت کےلئے راغب کرنے کےلئے کردار ادا کرنا چاہیے ۔ سےاحت کے ذرےعے زرمبادلہ کماےاجاسکتا ہے ۔ خاکسارپاکستان فےڈرےشن آف کالمسٹ اور ڈےسکور پاکستان کے تعاون سے اےڈےشنل سےکرٹری پنجاب طےب فرےد، چےئرمین فلم سنسر بورڈ کمیٹی شعےب بن زاہد، اسسٹنٹ کمشنر میر پوراےس بےگ ، میجر نعمان سمےت مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد کے ہمراہ کیلاش گےا ۔ کیلاش کے طلسماتی مقامات ، حسےن وادےاں اور منفرد کلچر قابل دےد ہےں ۔ کیلاش چترال سے 35 کلومےٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ کیلاش دراصل تےن وادےوں بمبورےت ، رامبور اور برےر کا مجموعہ ہے ۔ کیلاش کی نماےاں خصوصےت ان کی ہزاروں سال پرانی تہذےب و ثقافت ہے ۔ کیلاشیوں کے بارے میں مختلف رواےات ہیں ۔ اےک رواےت کے مطابق327قبل مسےح کو جب ےونان کا سکندر اعظم اس وادی سے گذرا تھا تو ان کے کچھ لوگ ےہاں کسی وجہ سے رک گئے تھے ۔ کیلاشی انہی کی اولاد ہےں جبکہ اےک اور رواےت ہے کہ آرےائےوں کے کچھ قافلے ےہاں رک گئے تھے اور ےہی پر آباد ہوگئے ۔ چونکہ ان کا بعد میں کسی اور تہذےب کے لوگوں کے ساتھ رابطہ اور ملاپ نہ رہا ،اس لئے ان کے کلچر پر کسی کا اثر نہ ہوا ۔ کیلاشیوں کی تعداد اب تقرےباً چار ہزار ہے ۔ کیلاشی خواتےن سےاہ لباس زےب تن کرتی ہیں اور گلے میں موتےوں کے ہار پہنتی ہیں ۔ کوڑےوں ، سےپیوں اور موتےوں سے بناےا گےاکپڑے کا حصہ سر پر اوڑھاجاتا ہے ۔ مرد اونی ٹوپی پہنتے ہیں جس پر کسی پرندے کا پر ہوتا ہے ۔ کیلاشےوں کا عقےدہ ہے کہ اگر انھوں نے اپنے لباس ےا عقائد میں تبدےلی کی تو ان پر دےوتا کا عذاب نازل ہوگا ۔ ےہ سال میں تےن مےلے مناتے ہیں ۔ (الف) چلم چاشت ےا جوشی:ےہ مئی کے وسط میں مناتے ہیں ۔ ےہ میلہ تےن دن تک جاری رہتا ہے ۔ اس مےلے میں دودھ پنےر وغےرہ تقسےم کرتے ہیں اور کھےتوں میں جاتے ہیں ۔ اےک دوسرے کے گھروں میں ملنے کےلئے جاتے ہیں ۔ کیلاشی لڑکیاں پھول چنتی ہیں اور اےک دوسرے کو تحفے میں دےتی ہیں ۔ خواتےن اور لڑکیاں ڈھول کی تھاپ پر مخصوص رقص کرتی ہیں ۔ لڑکے اور لڑکیاں اےک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ۔ (ب)اچل:ےہ جولائی کے وسط میں گندم اور جو کی کٹائی کی خوشی میں مناتے ہیں ۔ اس میں بھی دےگر مےلوں کی طرح رقص کی محفلیں سجاتے ہیں اور ضےافتوں کا اہتما م کیا جاتا ہے ۔ (ج)چاءو ماءوس:ےہ دسمبر کے آخر میں مناےا جاتاہے اوےہ میلہ اےک ہفتے تک جاری رہتا ہے ۔ ےہ ان کا سب سے بڑا میلہ ہوتا ہے ۔ اس مےلے میں نئے سال کی آمد کی خوشی کا اظہار ہوتا ہے ۔ کیلاش کے لوگ سورج اور چاند گرہن کو دےوتا کا عذاب سمجھتے ہیں اور اس عذاب کو ٹالنے کےلئے بکروں کی قربانی کرتے ہیں ۔ کیلاشےوں کی عبادت گاہ ملوش میں خواتےن کا داخلہ ممنوع ہے ۔ کیلاش کے لوگ موت پر غم نہیں کرتے بلکہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔ انکے عقےدے کے مطابق جس طرح پیدائش خوشی کا موقع ہے اور اسی طرح موت بھی خوشی کا موقع ہے ۔ ےہ لوگ لاش کو کمیونٹی سنٹر میں اےک ےا دو دن کے لئے رکھتے ہیں اوراس کے گرد رقص کرتے ہیں ۔ اس موقع پر مہمانوں کےلئے بکرے اور بےل وغےرہ ذبح کرتے ہیں اور شراب کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔ ان کا عقےدہ ہے کہ مرنے والے کو خوشی سے روانہ کرناچاہیے ۔ کچھ عرصے پہلے تک مردے کو لکڑی کے تابوت میں قبرستان میں کھلے آسمان تلے رکھتے تھے اور تابوت میں مردے کی اشےاء بھی ساتھ رکھتے تھے لیکن اب مردوں کو دفن کرتے ہیں ۔ فوتےگی کی طرح ان کی خوشی بےاہ کے تقرےبات بھی دلچسپ ہیں ۔ میلوں میں لڑکیاں رقص کرتی ہیں تو لڑکے ان کو پسند کرتے ہیں ۔ دونوں کی رضا مندی سے لڑکا لڑکی کو بھگاےاجا سکتا ہے ۔ لڑکی کو بھگانے کے بعد وہاں کے بزرگ ان کے پاس جاتے ہیں اور اس سے درےافت کرتے ہیں ۔ اگر وہ خوشی سے لڑکے کے ساتھ بھاگی ہو تو شادی کے دےگر رسومات ادا کرتے ہیں اور زبردستی کی صورت میں لڑکی کو واپس کیا جاتا ہے ۔ شادی کی تقرےبات میں پرتکلف کھانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں لڑکی والے خصوصی طور پر شرکت کرتے ہیں ۔ شادی کے چوتھے دن لڑکی کے ماموں کو اےک بےل اور بندوق بطور تحفہ دےتے ہیں اور دونوں خاندانوں کے درمےان تحاءف کا تبادلہ کیا جاتا ہے ۔ رضا مندی سے شادی شدہ خاتون کو بھی بھگاےا جاسکتا ہے اور اس صورت میں اسکے سابق شوہر کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا ہے ۔ اس طرح بچوں کی پےدائش پر بھی منفرد تقرےبات کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ پہلے بچے کی پیدائش پر ناناکے گھر میں دعوتِ طعام کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن اس کے اخراجات ددھےال ادا کرتے ہیں اورلڑکی کے ہر رشتہ دار کودو، دو ہزار روپے دےتے ہیں ۔ ےہ رسم اس وقت تک چلتی ہے جب تک مخالف جنس کا بچہ پیدا نہ ہو ۔ مثلاً اگر مسلسل لڑکے ےا لڑکیاں پیدا ہوں تو ےہ رسم جاری رہتی ہے ۔ قارئےن کرام !کیلاش کا میلہ دلچسپ اور منفرد تھا جس کو دےکھنے کےلئے نہ صرف پاکستانی سےاح بڑی تعداد میں موجود تھے بلکہ تقرےباً دو ہزار کے قرےب غےر ملکی سےاح بھی آئے ہوئے تھے ۔ پاکستان فےڈرےشن کالمسٹ کے صدر ملک سلمان اور ڈسکور پاکستان کے سی ای او ڈاکٹر قےصر رفےق پاکستان میں سےاحت کے فروغ کےلئے کوشاں ہیں ۔ بلاشبہ پاکستان بہت خوبصورت ہے اورےہ سےاحت کےلئے بہت پرکشش ملک ہے ۔