- الإعلانات -

رمضان المبارک اور افطار کلچر

اس ماہ رمضان کی مبارک ساعتوں مےں اےک خوش کن خبر پڑھنے کو ملی کہ وزےر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پنجاب مےں سرکاری خرچ پر افطار پارٹےوں پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ اس پابندی کا اطلاق وزراء ،سےکرٹری اور دےگر سرکاری حکام پر ہو گا ۔ ماضی اس حقےقت پر شاہد ہے کہ ہر سال رمضان المبارک مےں سرکاری سطح پر افطار پارٹےوں کے نام پر قومی خزانے کو بے درےغ لٹاےا جاتا رہا ہے ۔ افطار پارٹےوں کےلئے سرکاری خرچ پر بڑے بڑے ہوٹل بک کئے جاتے جن کے صرف اےک روز کے بل ہی لاکھوں سے متجاوز ہو جاتے ۔ بلاشبہ سرکاری خرچ پر افطار پارٹےوں پر پابندی عائد کرنے کا فےصلہ ہر لحاظ سے قابل تحسےن و ستائش ہے اس سے قومی خزانے پر بوجھ نہےں پڑے گا اور اس سے بچت بھی ہو گی اس حوالے سے وزےر اعلیٰ پنجاب کی توصےف نہ کرنا نا انصافی کے زمرے مےں آئے گا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد ےقےنی بناےا جائے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سخت اےکشن لےا جائے ۔ وطن عزےز کے دوسرے صوبوں اور وفاق کو بھی اس فےصلے پر حکومت پنجاب کی تقلےد کرنے کی ضرورت ہے ۔ رمضان المبارک نےکےوں کا موسم بہار ہے ۔ جن اشےائے ضرورےہ پر بقائے حےات کا انحصار اور بقائے نوع انسانی کا دارومدار ہے ان اےام مےں انہی چےزوں سے مقررہ وقت تک رک جانے کا حکم ہے ۔ ےہی کڑا امتحان ہے جو بشری تقاضوں سے اپنے تئےں بچانے کا متقاضی ہے ۔ روزہ متبرک خواہشات کے ذرےعے ضبط نفس کا نام ہے جس سے جسم اور روح کی تطہےر کا پاکےزہ عمل انجام پاتا اور روح کی تراوت ،جسم کے سکون اور دل کی ٹھنڈک کا باعث بنتا ہے ۔ تمام مسلمان اس ماہ مقدس کی اہمےت اپنے عمل اور اخلاق کے ساتھ واضع کرتے ہےں ۔ اجتماع عبادات کے سبب باہمی اخوت اور محبت فروغ پاتی ہے ۔ جہاں اہل اسلام کےلئے ےہ مہےنہ نعمتےں اور خوشخبرےاں لے کر آتا ہے وہاں ےہ ماہ مبارک ان کےلئے اےک کڑا امتحان بھی ہے کہ ہم کہاں تک اس امتحان مےں سرخرو ہوتے ہےں ۔ اگر ہم روزہ کی اصل روح اپنے مےں بےدار نہےں کرتے تو پھر جسم کی پےاس اور بھوک کی اذےت سہنا بے سود اور ہمارا روزہ رکھنا ےا نہ رکھنا برابر ہے ۔ معاملہ نےتوں پر ہوتا ہے ۔ اگرہماری نےت مےں فتور ہے ،ہم اپنا محاسبہ نہےں کر پاتے ،ہمارے غلط دنےاوی کام جوں کے توں ہےں تو ےہ قول و فعل کے تضاد کی بدترےن شکل ،اپنے نفس سے دھوکہ اور اپنے خالق و مالک سے بھی دھوکہ دہی کا ارتکاب ہے ۔ ہماری عبادتےں ،ہماری رےاضتےں اس خالق کائنات کا شان نہ تو بڑھا سکتی ہےں اور نہ ہی گھٹا ےا کم کرنے پر قادر ہےں ۔ روزہ سے تو ہم اپنے سے نجاست و گندگی دور کر کے اپنی اصلاح کا عمل انجام دے رہے ہےں ۔ بقول شاعر

من نکردم پاک از تسبےح شاں

پاک ہم اےشاں شود دور فشاں

ترجمہ : مےں تےری عبادت کر کے ،تےری حمد و تسبےح بےان کر کے تجھے پاک نہےں کر رہا بلکہ اس عمل سے تو اپنی (نجات) اور اپنے سے گندگی دور کرنے کا اصلاحی عمل انجام دے رہا ہوں ۔ ماہ رمضان کے اےام مےں اےک تکلےف دہ حقےقت کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ان دنوں مےں نمود و نمائش کے افطار کلچر کو فروغ حاصل ہو رہا ہے ۔ اےک طرف وطن عزےز مےں غربت ،بھوک اور بے روز گاری کے کارن خود کشےاں ہو رہی ہےں دوسری طرف فائےو سٹار ہوٹلوں اور اپنے محل نما مکانوں مےں افطارےوں کے انتظامات پر دولت کو بے درےغ لٹاےا جانا ہمارے ضمےر پر اےک سوالےہ نشان ہے ۔ بڑے ہوٹلوں کے باہر افطاری کےلئے کثےر آءٹمز کے بورڈ آوےزاں ہےں ۔ افطاری کا رےٹ سن کر غربت و افلاس کے مارے انسان کا ہذےان و ہےجان زدہ ہو جانا ےقےنی ہے ۔ طبقہ امراء کی ےہ ترتےب دی ہوئی افطار پارٹےاں ان کی دولت کی نمود و نمائش اورذاتی تشہےر کے ذرےعے ہےں ۔ دراصل وہ اپنی انفرادےت و برتری دکھانے اور دوسروں کے مقابلے مےں اپنے آپ کو نماےاں کرنے کی خواہش کے اسےر ہےں ۔ اےسے لوگ ان افطار پارٹےوں کے مواقع کو اپنے ہاتھ سے نہےں جانے دےتے جن مےں ان کی تشہےر کی صورت نکل رہی ہو ۔ اسلام طبقاتی فرق کی نفی کرتا ہے لےکن ےہاں تو اس کی آبےاری کے ہی سامان کئے جا رہے ہےں ۔ اےسی پارٹےوں مےں شمولےت اےک سٹےٹس سمبل بن چکا ہے ۔ شہر تو درکنار دےہات مےں بھی افطار پر بے حد اسراف کےا جاتا ہے ۔ انواع و اقسام کے پھل اور مختلف قسم کی ڈشےں دستر خوان کی زےنت بنتی ہےں ۔ اےک اندازے کے مطابق اس اےک ماہ کا گھرےلو بجٹ اےک سال کے اخراجات پر بھاری ہے ۔ جس ہادی برحق نے نمک پانی اور کھجور پر روزہ افطار کر کے اپنے دستر خوان کی شکل دنےا کے سامنے پےش کی ہم نے برعکس عمل کر کے انواع و اقسام کی ڈشےں اپنے دستر خوان پر سجنے کا اہتمام کےا ۔ اس ماہ مبارک کو ہم بسےار خوری کی نظر کر رہے ہےں لےکن افسوس کہ اس پر پشےمان بھی نہےں ۔ ضرورت ہے اپنے اندر کے مسلمان کو بےدار کرنے کی جسے معلوم ہو سکے کہ سحری و افطاری کے وقت کوئی گھر فاقہ کشی کا شکار تو نہےں ۔ روزہ تزکےہ نفس ہے ۔ ےہ تقسےم رزق اور مساوات کا درس دےتا ہے ۔ رمضان المبارک کے مہےنہ مےں ہر عاقل و بالغ مسلمان کےلئے چند سوالات اپنے ضمےر سے پوچھنے کے ہےں ۔ کےا ہم نے اس ماہ مےں ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر قربان کرنا سےکھا;238; کےا ہم نے حقوق العباد کا خےال رکھا ;238;کہےں ہم نے غرےبوں کی غربت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش تو نہےں کی ;238;ہماری زبان ،ہاتھ پاءوں اور آنکھ سے کوئی غلط حرکت سرزد تو نہےں ہوئی ;238;کےا ہم نے اپنے سےنوں مےں ہوس کے تراشےدہ بتوں کو چکنا چور کےا ;238; کےا زےادہ منافع کی خاطر اس ماہ مکرم مےں ملاوٹ کے مرتکب تو نہےں ہو رہے ;238;کےا اپنے مال سے زکواۃ ادا کر کے مخلوق خدا کی مدد کی;238; کےا ہم لوٹے ہوئے اور چھےنے ہوئے مال پر افطاری تو نہےں کر رہے;238; کےا ہم نے اپنے عمل مےں روادار ہونا اور تحمل و برداشت سےکھی ;238; کہےں ہم نے انصاف کی قدرت رکھ کر ذاتی اغراض و طمع مےں عدل کو پامال تو نہےں کےا;238; کہےں ہم سے اپنے فراءض منصبی ادا کرنے مےں کوتاہی تو سرزد نہےں ہوئی;238; اگر ہم نے اس مقدس مہےنہ مےں خود کو غفلت کا شکار رکھا اور اپنے مردہ ضمےر کو زندہ نہ کےا تو اس ماہ مےں بھی ہم نے سب کچھ کھوےا پاےا کچھ بھی نہےں ۔ ہم روزے کے عملی مظاہرے سے بے اعتنائی برت کر اس کے فےوض و برکات اور شےرےں ثمرات سے محروم ہی رہے ۔ ہم نے روشنےوں اور اجالوں کی بجائے اپنے پہ تارےکےاں مسلط کرنے کا ہی اپنے ہاتھوں اہتمام کےا ۔ اس ماہ مبارک کا تقاضا ہے کہ خےر کا آغاز کےا جائے ۔ جذبہ خدمت سے کام لےا جائے ۔ ےہ مہےنہ بھی اےسا ہے اےک نےکی کا بدلہ ستر کی شکل مےں ملتا ہے ۔ آج ہی ابتدا کرےں اپنے محلہ سے،اپنے شہر سے ،پر تعےش افطار پارٹےوں پر بے درےغ سرماےہ خرچ کرنے کی بجائے ےہی سرماےہ غربت کے خاتمہ پر صرف کرےں ۔ اگر ہم نے اےسا کےا تو ہمارے روزے بھی قبول ہےں اور ہم اس امتحان مےں سرخرو ہےں وگرنہ ہم نے اپنے اوپر تارےکےاں مسلط کرنے کا ہی خود اپنے ہاتھوں اہتمام کےا ۔