- الإعلانات -

وزیراعظم کا نوٹس احسن اقدام، سہولت کار آزاد کیوں ;238;

پیر17جون2019ء کو حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتوں نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن والے چور ڈاکو ہیں اور دنیا میں کہیں مجرم پروڈکشن آرڈر پر ایوان میں آکر حکومت اور وزیراعظم کیخلاف تقریریں نہیں کرتے،آصف زرداری سمیت کسی کے بھی پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہونگے ۔ شکر ہے وزیراعظم عمران خان نے پروڈکشن آرڈر بارے آئین میں گنجائش کے غلط استعمال پر توجہ دی کاش یہ توجہ شہباز شریف،حمزہ شہباز،سلمان رفیق اور سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے وقت دی ہوتی تو آج قوم کو پروڈکشن آرڈرکے غلط استعمال پر دکھ نہ ہوتا ۔ پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی آئین میں گنجائش اس لیے پیدا کی گئی کہ اگر پارلیمنٹ میں انتہائی ضروری بحث چل رہی ہو تو ہر علاقے اور ہر ذہن کونمائندگی دی جائے تاکہ جس موضوع پر بحث چل رہی ہو اس بارے کوئی بھی پہلو نظر اندازنہ ہو مگر یہاں پر تو نظام ہی الٹا نظر آ رہا تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اشرافیہ قوم کا مذاق اڑارہی ہے اور ہر خاص و عام کو پیغام دیا گیا کہ ہم کچھ بھی کر لیں مگر قانون کی گرفت ہم پر مضبوط نہیں ہو سکتی ،ہمارے لیے قانون کمزور اور ہم قانون سے زیادہ طاقتور ہیں ۔ بھلا ہو وزیراعظم عمران خان کا جنھوں نے اس صورتحال کا نوٹس لیا ،چلو دیر آئید درست آئید،اب بھی کونسا زیادہ وقت گزرا ہے جو موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا جا سکے ۔ یہاں پر اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی سوچنا چاہئے کہ ضروری نہیں آئین میں جو لکھا ہو اس پر آنکھیں بند کر کے عمل کیا جائے ۔ آئین پر عمل کرنا ضروری مگر آئین کو بھی مکمل پڑھنا چاہئے ۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی سوچنا چاہئے کہ کہیں اپوزیشن پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی آئینی سہولت کا غلط استعمال تو نہیں کر رہی ،ایسا تو نہیں کہ قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہو،جن کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے انھوں نے قومی اسمبلی اجلاس میں کیا کردار ادا کیا;238;کیا انھوں نے پروڈکشن آرڈر پر قومی اسمبلی فورم کا غلط استعمال کیا یا نہیں ;238;جن ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے انکی تقاریر کا جائزہ لیا گیایا اس کیلئے کوئی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی;238;کیا قومی اسمبلی یا پنجاب اسمبلی کے اسپیکرز نے عدالت کو خطوط لکھے کہ ہم نے جسمانی ریمانڈ کے دوران پروڈکشن آرڈر جاری کیے لہٰذا ان ایام کو جسمانی ریمانڈ میں شامل نہ کیا جائے;238;کیا کسی نے اپنے اختیارات سے تجاوز تو نہیں کیا;238;یا پھر اپنے اختیارات کا بے دریغ استعمال کیا ہو;238;آئین اسپیکرکو اجازت دیتا ہے کہ وہ پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مکمل اختیار رکھتا اور مرضی کا مالک ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کو اس معاملے کو بھی دیکھنا چاہئے اور متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کرنی چاہئے ۔ یہ بات طے ہے کہ اپوزیشن حکومت کیساتھ مخلص نہیں ،حکومت کیا وہ تو شائد قوم کیساتھ بھی مخلص نہیں کیونکہ اگر اپوزیشن قوم کیساتھ مخلص ہوتی تو پارلیمنٹ کے باہر ہونے والی ملاقاتوں میں اس پر اتفاق نہ ہو رہا ہوتا کہ بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے ۔ قوم کو بھی سوچنا چاہئے کہ پارلیمنٹ میں انکے بھیجے نمائندے آخر کیا کر رہے ہیں اگر وہ قانون سازی بھی نہیں کر سکتے تو پھر انکو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا فائدہ;238;کیا عوامی نمائندے ذاتی سیاست کیلئے پارلیمنٹ میں آتے ہیں یا قانون سازی کے فرض کو پورا کرنے کیلئے ایوان میں پہنچتے ہیں ;238;مگر ہمارے ملک میں عجیب ہی نظام راءج ہے ،جہاں اسپیکر چیمبر کو جیل قرار دے دیا جائے اور قوم خاموش تماشائی بن کر تماشا دیکھتی رہے اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے اپنے آپ کو بے بس محسوس کریں وہاں پر ارکان اسمبلی و سینیٹ کے کردار پر کون انگلی اٹھا سکتا ہے یا پھر کون جوابدہی مانگ سکتا ہے کیونکہ ماضی میں ایسی کوئی مثال ملتی نہیں اور ہمارے ہاں نئی مثال قائم کرنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن بات ہے ۔ اب آپ اسی بات سے اندازہ لگا لیں کہ قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس جاری ہے اور اپوزیشن آصف زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر سراپا احتجاج ہے ۔ ووٹ کو عزت دینے بیانیے کیساتھ انصاف تو یہ تھا کہ بجٹ سے متعلق بات کرتے،اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اور عوام کیلئے اپوزیشن ہنگامہ آرائی کرتی مگر عوامی نمائندوں نے ذاتی سیاست کا وطیرہ چھوڑنا ذرا بھی گوارا نہ کیا اور ڈھٹائی کیساتھ قوم کے مال پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ ایوان کی کارروائی بھی نہ چلنے دی ۔ پی پی نے تو دو قدم آگے جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور اسپیکرقومی اسمبلی کے چیمبر کے سامنے دھرنا دیکر اسپیکر کو کافی دیر تک اجلاس میں شرکت کرنے سے روکے رکھا ۔ آفرین ہے اپوزیشن کے احتجاج پرجس کے باعث قومی اسمبلی کی کارروائی نہ چل سکی اور اسپیکر کو پیر کے روز اجلاس ملتوی کرنا پڑا ۔ ہم سب کو انفرادی طور پر اپنے اپنے کردار بارے سوچنا چاہئے کہ کیا ہم قوم کے پیسے کا ضیاع تو نہیں کر رہے;238;ایسا تو نہیں کہ ہم اپنے اپنے فراءض منصبی سے غفلت برت رہے ہوں ;238;جس ملک کے پارلیمنٹیرنزکرپشن میں گرفتار افراد کیلئے سراپا احتجاج ہوں اور ایوان کی کارروائی نہ چلنے دیں تو پھر اس ملک کی ترقی کا سفر سست روی کا شکار ہی ہو گا ۔ وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ کرپشن کے سہولت کاروں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لائیں اور جس جس نے بھی جس سطح پر بھی کرپشن میں سہولت کاری کے فراءض سرانجام دیے انھیں قانون کے مطابق پابند سلاسل کیا جائے تاکہ کرپشن کرنے اور سہولت فراہم کرنے والے دونوں اپنے اپنے انجام کو پہنچ سکیں اور آئندہ اس ملک و قوم کیساتھ کھلواڑ کرنے کا کوئی سوچے بھی نا ۔