- الإعلانات -

دہرے بھارتی معیار ۔۔۔ !

وزیر اعظم عمران خان اور نریندر مودی کی بشکک میں رسمی سی علیک سلیک کےحوالے سے ہندوستانی پریس میں بہت کچھ چھپا ہے اور اکثر دانشوروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا قیام شاید عملی شکل اختیار کرے اگر بھارتی حکمران اپنی دیرینہ ہٹ دھرمی کو ترک کر دیں ۔ بہرکیف بھارتی حکمران اٹھتے بیٹھے یہ راگ الاپتے ہیں کہ بھارت نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے بلکہ وہاں انسانی حقوق کے احترام کے حوالے سے صورتحال بھی بڑی حد تک مثالی ہے ۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ وطن عزیز پاکستان کے چند حلقوں کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کا کچھ حصہ بھی اس بھارتی پراپیگنڈے سے خاصا متاثر ہے ۔ اس پر تبصرہ کرتے کئی اعتدال پسند دانشوروں نے کہا ہے کہ بھارت میں اچھوت ہندوءوں کے خلاف دہلی کے تمام بالادست ہندو طبقات جس بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کا ارتکاب کر رہے ہیں ، وہ اگرچہ کوئی نئی بات نہیں تاہم یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ اس جانب خاطر خواہ توجہ مرکوز نہیں کر رہے ۔ اس پس منظر میں کثیر الاشاعت ہندی روزنامے ’’راجستھان پتریکا‘‘ نے ایک نیوز سٹوری شاءع کی جس کے مطابق اونچی ذات کے ہندوءوں نے چند روز قبل بانس واڑہ، قصبے میں ایک 38 سالہ اچھوت ہندو خاتون کے ساتھ غیر انسانی بلکہ مکروہ رویہ اپنائے ہوئے اسے غلاظت کھانے اور پینے پر مجبور کیا گیا ۔ سبھی جانتے ہیں کہ بھارت میں ایسے واقعات روز مرہ کا معمول ہیں ، جو بھارتی حکمرانوں اور سول سوساءٹی کے لمحہ فکریہ ہونے چاہیےں اور یہ صورتحال انسانی حقوق کے عالمی چمپئنز کیلئے بھی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ہندوستان میں اچھوت ہندءوں کے ساتھ ایسا غیر انسانی بلکہ شیطانی طرز عمل بظاہر معمول کی بات ہے اور اس میں حیران ہونے والی کوئی بات نہیں ، مگر انسان دوست مبصرین نے اس امر پر افسوس اور تعجب کا اظہار کیا ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے اس گھناءونے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی اور یہ بات بھارتی حکمرانوں کے لئے ہی نہ صرف باعث شرم ہے بلکہ ایسے واقعات سے بین الاقوامی رائے عامہ کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہیں اور سے دہلی سرکار کے سیکولر ازم اور جمہوریت کے دعوءوں کی اصلیت سے بخوبی آگاہ ہونا چاہیے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے کئی بھارتی صحافیوں نے کہا ہے کہ بظاہر دنیا بھر میں اکیسویں صدی کے آغاز پر کہا جا رہا تھا کہ انسانی تہذیب و تمدن، ترقی اور شائستگی کی انتہائی حدوں کو چھو رہا ہے، ٹیکنالوجی اور میڈیا کی ترقی کے سبب دنیا ایک ’’گلوبل ولیج‘‘ میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ ایسے میں کسی گروہ یا ملک کے لئے ممکن ہی نہیں رہا کہ وہ بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو سکے اور اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈال پائے ۔ مگر اس بابت اگر بھارت کے احوال پر نظر ڈالی جائے تو ہر باشعور انسان کا سر مارے ندامے کے جھک جاتا ہے کیونکہ ہندوستان میں اپنے ہی ہم مذہب نیچی ذات کے ہندوءوں کے خلاف جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جا رہا ہے، اس بدقسمت گروہ کو اونچی ذات کے ہندوءوں کے مندروں تک میں پوجا کی اجازت بھی نہیں ، اگر کوئی بھولا بھٹکا اچھوت سورن جاتی کے مندروں میں داخل ہو جائے تو اسے جان سے مار دیا جاتا ہے کیونکہ اونچی ذات کے ہندوءوں کے خیال میں ایسا کرنے سے ان کا مندر اور بھگوان بھرشٹ اور ناپاک ہو جاتا ہے ۔۔۔ اچھوت ہندو اگر کسی برتن کو چھو لے تو اس کا وہ حشر کیا جاتا ہے جس کا تصور بھی کوئی نارمل انسانی معاشرہ نہیں کر سکتا ۔ ماہرین کی رائے ہے کہ جس معاشرے میں اپنے ہی ہم مذہبوں کے ساتھ یہ برتاءو کیا جاتا ہے وہاں دوسری مذہبی اقلیتوں کی حالت زار کیا ہو گی ۔ اس کا اندازہ کرنا شائد زیادہ مشکل بات نہیں ، مگر اس سب کے باوجود حیرانی کی بات ہے کہ عالمی برادری کے موثر حلقے مکمل چشم پوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سطحی مفادات کی خاطر بھار ت کو سب اچھا ہے کا سرٹیفیکیٹ دیتے ہوئے ذرا بھی تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ عالمی برادری کو اس امر کا احساس کرنا چاہیے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے ضمن میں محض ;667480; کی روش ہی قابل مذمت نہیں بلکہ کانگرس کا ریکارڈ بھی کسی طرح قابل رشک نہیں ۔ بلکہ اکثر بھارتی رہنما اور سیاسی جماعتیں کھلے عام مذہبی رواداری اور اعتدال پسندی کی کٹر مخالف ہیں ، یہی وجہ ہے کہ بھارت کی آزادی کے بعد سے وہاں ہزاروں بار اقلیت کش فسادات ہو چکے ہیں ۔ دوسری جانب اس حوالے سے پاکستان اعتدال پسندی کی جیتی جاگتی مثال ہے، بھارتی حکمرانوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ کسی ایک آدھ اقلیتی فرد کو کسی اعلیٰ نمائشی عہدے پر فائز کر دینا ہی سیکولرازم نہیں ، بلکہ یہ اجتماعی رویوں کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ عالمی برداری اس ضمن میں بھارت اور پاکستان کو ایک پلڑے میں نہیں تولے گی بلکہ بھارت میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے قابل مذمت سلسلے کو بند کرانے میں اپنا موثر کردار ادا کرے گی ۔ عالمی برادری کے ایک بڑے حلقے کے دہرے معیاریوں کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی کہ گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کی نسل کشی کے بعد 2005 میں نریندر مودی کو امریکی ویزہ دینے پر بھی پابندی تھی، مگر اب وہی نریندر مودی عالمی برداری کی آنکھوں کا تارہ بنے ہوئے ہیں ۔