- الإعلانات -

صدر مرسی کی وفات ، امت مسلمہ کےلئے عظیم سانحہ

مصر کے سابق صدر محمد مرسی کمرہ عدالت میں سماعت کے دوران انتقال کرگئے ۔ محمد مرسی پر قطر کیلئے جاسوسی کا الزام تھا ۔ محمد مرسی 30 جون 2012 سے تین جولائی 2013 تک مصر کے صدر رہے ۔ صدر مرسی کی وفات سے امت مسلمہ ایک عظیم رہنما محروم ہوگئی ۔ مصر میں طویل آمریت کے بعد 2012 میں انتخابات منعقد ہوئے جن میں 51 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے بعد 30جون 2012ء کو فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے رہنما جناب محمد مرسی مصر کے صدر منتخب ہوئے ۔ مصر میں انتخابات جمہوریت کے ہر پیمانے کے حوالے سے شفاف اور غیر جانبدارانہ انداز میں ہوئے ۔ ان انتخابات کو مغربی جمہوریت کے تمام پیمانوں پر پرکھا جائے تو بھی اس میں کوئی جھول نظر نہیں آتا ۔ یہ ملک جمہوریت کے راستے پر رواں ہوا لیکن ایک سال کے اندر ہی اس کی جمہوری بساط لپیٹ دی گئی ۔ آئین معطل ہوا اور فوج نے ڈاکٹر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ کر سابق صدر سمیت ان کے رفقاء کو نظر بند کر دیا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ملک کا عبوری صدر مقرر کر کے ٹیکنو کریٹ حکومت قائم کر دی ۔ صدر مرسی کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ اس نے دینی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ کے مجبور اور محصور اور بے کس مسلمانوں کی مدد کی اور اسرائیل کو پیغام دیا کہ وہ بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام بند کرے ۔ صدر مرسی کا یہ جرم اسرائیل اور مصر کے عیش پرست جرنیلوں کو پسند نہیں آیا نتیجتاً انہوں نے ان کی حکومت کا خاتمہ کردیا محمد مرسی کی مخالفت میں تمام سیکولر جماعتیں آج بھی متحد ہیں ۔ ان سب نے مل کر جمہوریت کو ختم کیا اور جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے فوج کا ساتھ دیا ۔ عدلیہ جو پہلے ہی فوج کی لونڈی بنی ہوئی تھی وہ بھی کھل کر آئین، قانون، اخلاق اور انصاف کے مقابلے میں لاقانونیت، بدمعاشی اور بے انصافی پر اتر آئی ہے ۔ تب امریکا نے مصر کی فوج جو کہ لادینیت کا شکار تھی ، کو آلہ کار بنانے کا فیصلہ کیا اور فوج کے سربراہ نے صدر مرسی اور اخوان المسلمین کے چیدہ چیدہ لیڈرز کو گرفتار کرلیا ۔ اس پر اخوان نے جگہ جگہ دھرنے دینے شروع کردیے ۔ فوج یہ دلیل دیتی ہے کہ عوام صدر محمد مرسی کے خلاف ہوگئے تھے ۔ اسی لئے ان کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا ۔ حالانکہ محمد مرسی کے حامیوں نے ثابت کیا کہ ان کے حامیوں کی تعداد ان کے مخالفین سے کہیں زیادہ ہے وہ کئی ہفتوں سے سراپا احتجاج تھے ۔ ان کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ عوام کے منتخب صدر محمد مرسی کو بحال کیا جائے لیکن فرعون صفت جرنیلوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی بلکہ صدر مرسی کے ساتھ اخوان المسلمون کی قیادت کو بھی پس دیوار زندان کردیا ۔ محمد مرسی سے اقتدار چھیننے کے بعد مصری فوج کے جنرل سیسی نے اقتدار سنبھال لیا ۔ جس کی اصلیت یہ ہے کہ وہ ایک یہودی خاتون کا بیٹا ہے جس کا نام ملیکہ تیتانی تھا ۔ 1958ء میں اْس نے مصر کی شہریت اختیار کی ۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس کا بھائی عوری صباغ اسرائیل کا وزیر تعلیم رہا ہے ۔ صرف مصری فوج کا جنرل ہی نہیں بلکہ ا س کا نامزد کردہ صدر بھی مسلمان نہیں ہے ۔ صدر عدلی منصور عیسائیوں کے اس فرقہ سے جو بقول عیسائی یہودیوں کی شاخ ہے ۔ جنرل سیسی نے اقتدار میں آتے ہی چار سے پانچ ہزار اخوان قتل، پچیس ہزار زخمی کر دیئے جن میں بہت سے معذور ہو چکے ہیں ، دس ہزار گرفتار کر لئے اور کئی ہزار لاپتہ ہیں ۔ ان سب کا گناہ یہ تھا کہ وہ راسخ العقیدہ مسلمان تھے اور جنرل سیسی یہودی ۔ لہٰذا اس نے نہ صرف 45ہزار علمائے کرام کے مساجد میں داخلے پر پابندی لگائی بلکہ مصر کی تیرہ ہزار سے زیادہ مساجد میں جمعے کی نماز روک دی ۔ اس فوجی حکومت نے فلسطینیوں کی پہلے سے بھی سخت ناکہ بندی کر دی اور غزہ کو دنیا سے ملانے والا واحد راستہ جو سرنگوں کی شکل میں تھا تباہ کر دیا اور فلسطینیوں کی مصر آمدورفت روک دی ۔ یہ تو ہے مصر کی فوجی حکومت کی اصلیت ۔ پھر بھی نہ جانے کیوں عرب ممالک اس کی حمایت کر رہے ہیں ۔ گویا ایک دو ممالک کو چھوڑ کر امریکہ اسرائیل نے تمام عربوں کے ذہنوں پر قبضہ جما رکھا ہے ۔ جنرل السیسی کی طرف سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹانے کے اقدام کی کچھ مغربی ممالک نے حمایت اور ستائش کی تھی ۔ اگر جمہوری حکومت عوامی یا فوجی قیادت کی توقعات پر پورا نہیں اْتر رہی تھی تو اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ جمہوریت کو ڈی ریل کر دیا جائے ۔ جرنیلوں اور انکی پشت پناہی کرنے والی قوتوں کو شاید عوامی سطح پر اس شدید ردعمل کا ادراک نہیں تھا جو فوج کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سامنے آیا اور پھر جلتی پر تیل کا کام فوجی حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے خلاف متعدد انسانیت سوز آپریشن کر کے کیا ۔ یہ آپریشن سب سے زیادہ خوفناک تھا ۔ اس سے یوں لگا جیسے فرعون ایک بار پھر اقتدار میں آ گیا ہے ۔ عالمی رائے عامہ بھی یہی ہے کہ معزول مصری حکومت کی بحالی کے سوا کوئی بھی حل اس ملک میں امن قائم نہیں کرسکے گا لہذا اقوام متحدہ کو مصر میں امن اور شہریوں کے تحفظ کے لئے ان ہی خطوط پر کام کرناہوگا ۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سابق امیر سید منورحسن ،سیکرٹری جنرل امیر العظیم ،لیاقت بلوچ ،راشد نسیم ،اسد اللہ بھٹو،میاں محمد اسلم ،ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ،عبد الغفار عزیز ،پروفیسر محمد ابراہیم ،ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی ،حافظ محمد ادریس، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، جماعت اسلامی کے رہنماءوں اور کارکنوں ، مذہبی و سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے مصر کے منتخب صدرڈاکٹر محمد مرسی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکرتے ہوئے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ عالم اسلام اور امت مسلمہ آج ایک عظیم رہنما محروم ہوگئی ہے ۔