- الإعلانات -

حکومتی پارلیمانی پارٹی اجلاس، قومی اسمبلی میں ہنگامہ……… مفاہمتی پالیسی کی ضرورت

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کو ابھی تک پرسکون ماحول میسر نہ ہوسکا، اپوزیشن ارکان کا الزام ہے کہ پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومتی وزراء بجٹ کو خود پاس نہیں ہونے دے رہے کیونکہ جب بھی اپوزیشن لیڈر تقریر کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو حکومتی ارکان اپنے ڈیسک پر کھڑے ہوکر شور شرابا اور ہنگامہ آرائی کرنا شروع کردیتے ہیں جبکہ اسی طرح کے الزامات حکومت کی جانب سے اپوزیشن پر عائد کیے جارہے ہیں ، اہم بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے ہونے والے گزشتہ اجلاس میں بی این پی مینگل گروپ بھی احتجاج کا حصہ بن گیا جبکہ یہ حکومتی اتحادی پارٹی ہے، اس ہنگامہ آرائی کے دوران کسٹوڈین آف ہاءوس یعنی کہ سپیکر قومی اسمبلی بھی بے بس نظر آتے ہیں اور آخر کار انہیں اجلاس ملتوی کرنا پڑا ۔ ہنگامہ آرائی زیادہ اس وقت ہوئی جب اسپیکر نے اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کیے جبکہ دوسری جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں انہوں نے ہدایت کی کہ آصف زرداری سمیت کسی بھی رکن قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کیے جائیں ۔ پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر قومی اسمبلی میں خوب ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی گئی ۔ پیپلزپارٹی کے ارکان نے اسپیکر چیمبر کے سامنے دھرنا دے کر انہیں اجلاس میں جانے سے روک دیا ۔ اس ہنگامہ آرائی کی وجہ سے شہباز شریف بھی اپنی تقریر مکمل نہ کرسکے، شاید پارلیمانی تاریخ کے یہ انوکھے اجلاس ہیں جن کو تاریخ میں کچھ اچھے لفظوں سے یاد نہیں رکھا جائے گا ۔ حکومت نے یوں تو عوام کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا تمام تر بندوبست کررکھا ہے مگر دوسری جانب قومی اسمبلی کے ہنگاموں کی وجہ سے یہ ٹیکس قطعی طورپر ضائع ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں کیونکہ قومی اسمبلی کے اجلاس پر لاکھوں ، کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور یہ اخراجات تمام تر عوام کے ٹیکس سے ادا کیے جاتے ہیں ، پھر یہ ہنگامہ آرائی کس زمرے میں ،عوام نے اپنے رہنماءوں کو ایوان بالا اور زیریں میں قانون سازی کیلئے بھیجا ہے تاکہ ان کے مسائل حل ہوسکیں لیکن وہاں پر تو ہنگامہ آرائی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ یہ مثال صرف وفاق میں ہی نظر نہیں آتی بلکہ پنجاب اور سندھ میں بھی اسی طرح کے حالات ہیں ، کتنا بڑا المیہ ہے کہ پارلیمانی نظام ہے، جمہوریت ہے، جمہور کی حکومت ہے لیکن عوام کی آواز کہیں نہیں سنائی دیتی ۔ سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں جبکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اتحادیوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلے، اپوزیشن کا کام تو تنقید کرنا ہی ہے لیکن انہیں بھی چاہیے کہ وہ تنقید برائے تنقید کی بجائے تنقید برائے تعمیر کریں ۔ حکومت ہمیشہ دینے والی طرف ہوتی ہے اور اپوزیشن لینے والی طرف ۔ لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسا درمیانہ راستہ اختیار کرے جس سے حالات کو کنٹرول کیا جاسکے نہ کہ مزید سیاسی انارکی پھیلے کیونکہ آنے والے دن غمازی کررہے ہیں کہ اسلام آباد سیاسی میدان سجنے والا ہے، بلاول بھٹو، فضل الرحمن اور شہباز شریف کی ملاقات یہ بتارہی ہے کہ اپوزیشن حکومت کیخلاف متحد ہونے جارہی ہے، صرف فرق اتنا ہے کہ بلاول بھٹو نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اپنا وقت پورا کرے جبکہ فضل الرحمن کی خواہش ہے کہ حکومت کو ختم کرنا ہی عوامی مسائل کا حل ہے، یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اس نکتہ پر اختلاف ہی اپوزیشن میں دراڑ کر باعث بنے گا ۔ ایسے میں وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ہٹ دھرمی کی بجائے معاملہ فہمی سے چلیں تاکہ پارلیمانی نظام ہی رواں دواں رہے ، عوام کی بھی شنوائی ہو، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بھی پرسکون ہوں ، قانون سازی بھی ہوسکے، بجٹ بھی منظور ہوسکے اور دیگر تعمیراتی منصوبوں پر بھی کام رواں دواں ہوسکے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ اپوزیشن جس لب و لہجے میں بات کرے اسی میں جواب دیا جائے ،ہائی پاورڈ کمیشن قرضے لینے والوں کی تحقیقات کرے گا، امیر قطر اتوار کو پاکستان آئینگے ۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں وزیر اعظم نے کہاکہ اپوزیشن ارکان صرف جھوٹ،جھوٹ اور جھوٹ بولتے ہیں ۔ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں بعض ارکان نے جارحانہ پالیسی اپنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جارحانہ پالیسی اختیار کرنے سے ہ میں نقصان ہوگا ۔ رکن قومی اسمبلی ثناء اللہ مستی خیل نے کہا کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جائے ۔ اپوزیشن کا ایوان میں رویہ قوم دیکھ رہی ہے ۔ تمام اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے،وزیر اعظم نے تمام ارکان کو بجٹ اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔

ملک کا معاشی مستقبل روشن ہے

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے بیرونی خسارے میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے، ملک میں کافی حد تک معاشی استحکام آچکا ہے، غیر یقینی صورت حال ختم کرکے لوگوں کا اعتماد بحال کرنا ہے، ملک کا معاشی مستقبل روشن ہے ۔ ایکسچینج ریٹ پر پالیسی اصلاحاتی عمل کا حصہ ہے، حکومت اسٹیٹ بینک سے قرضہ لے تو مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور ایکسچینج ریٹ پر دباءو آتا ہے، آئندہ بجٹ میں حکومت اسٹیٹ بینک سے قرض لینا نہیں چاہتی، حکومت کے قرض کم ہوئے تو مہنگائی کی شرح بڑھنا بند ہوجائے گی ۔ عید کے بعد روپے کی قدر میں کمی دیکھی جارہی ہے، جون میں کمپنیوں کے کھاتے مکمل ہوتے ہیں ، ڈالڑ کی طلب بڑھتی ہے، روپے کی قدر میں کمی سے بیرون ادائیگیوں کا زور کم ہوا ہے، اہم اپنے معاشی مستقبل سے پر امید ہیں ، برآمدات بڑھانے کے اور عوامل ہیں ، ایکسچینج ریٹ کو فکس رکھنا ہماری بیرونی خسارے کا سبب ہے، آئی ایم ایف پروگرام سے مالی خسارہ کم کرنے میں مدد ملتی ہے، بین الاقوامی مالیاتی ادارے قرضے دینے پر راضی ہوتے ہیں ، آئی ایم ایف پروگرام سے دنیا کو مثبت پیغام جاتا ہے ۔ آئی ایم ایف سے استعفیٰ دے دیا اب میرا کوئی تعلق نہیں ہے، امید ہے 3 جولائی کو آئی ایم ایف بورڈ قرضے کی منظوری دے دے گا ۔

18ویں ترمیم کی کئی شقوں میں ترمیم ہوسکتی ہے

سابق صدرمملکت وسیم سجاد نے روز نیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی کے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ18ویں ترمیم کی کئی شقوں میں ترمیم ہو سکتی ہے اور اسکی ضرورت بھی ہے ، تعلیم اور صحت کے معاملات وفاق کے پا س ہونے چاہئیں کیونکہ ملک بھر کے چاروں صوبوں سلیبس کا مسئلہ ہوتا ہے لہٰذا یہ وفاق کے پاس رہے تو بہت اچھے نتاءج حاصل ہو سکتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ جیسا کہ 18ویں ترمیم کے حوالے سے میں نے بھی کہا اور آپ بھی اس سلسلے میں پیش ہوئے اس کی شقوں میں اضافے کی ضرورت ہے اور کئی کلاز امینڈ ہو سکتی ہیں ، صحت کے حوالے سے جب ایس کے نیازی نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ہیلتھ بھی فیڈرل سبجیکٹ ہے خصوصی طور پر جب ہم پولیو یا ملیریا کے حوالے سے بین الاقوامی سطح سے مدد لیتے ہیں تو ایسے میں وفاق حکومت اس کے ہینڈل کرے تو بہت بہتر نتاءج برآمد ہوسکتے ہیں ۔