- الإعلانات -

قومی ترقیاتی کونسل کا قیام احسن اقدام

کیا کسی کو 6اکتوبر 1998کا دن یا د ہے یا پھر اس دن سے جڑا ملکی ترقی کیلئے کسی کا بیان یاد ہو;238;یا پھر7اکتوبر ہی کسی کو یاد ہو;238;

وزیراعظم عمران خان نے ترقیاتی پالیسی اور حکمت عملی بنانے سمیت وسیع اختیارات کی حامل 13رکنی قومی ترقیاتی کونسل (این ڈی سی)قائم کر دی جس کے رکن چیف آف آرمی سٹاف بھی ہونگے ۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے ۔ اب آپ کے ذہن میں سوال آرہا ہو گا کہ اس بات کا تعلق میرے کالم کے آغاز میں پوچھے سوالات سے کیا بنتا ہے ۔ تو جناب بالکل بنتا ہے کیونکہ ماضی میں ہمارے سول حکمرانوں نے ہمارا فخر پاک فوج کو ہمیشہ تنقید کی ذد میں رکھا اور کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جس میں پاک فوج پر تنقید کی جا سکے ۔ کارگل کا معاملہ ہو یا پھر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہو،ڈان لیکس ہو یا دہشتگردی کی لہر،غرض یہ کہ ماضی میں سول حکمرانوں نے ہر ہر اس موقع پر پاک فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی جس میں وہ جھوٹ بول سکتے تھے ۔ ماضی کے حکمرانوں نے بغیر سوچے سمجھے پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنایاحالانکہ پاک فوج نے دفاعی صلاحیت اور پیشہ وارانہ امورکے حوالے سے اپنا لوہا پوری دنیا میں منوایا جبکہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ اور 27فروری2019ء کا دن بھی ہمارا سر فخر سے بلند کرتا ہے جب پاک فوج نے ہمارے دشمن ملک بھارت کے 2طیارے مار گراکر بھارت کو اس کی اوقات یاد دلا دی تھی مگرماضی میں ہمارے چند سیاستدانوں نے قومی سلامتی کو پس پشت ڈالتے ہوئے مسلح افواج کے بارے ایسے ایسے بیانات داغے جس سے پاک فوج کا تو کچھ نہیں بگڑا مگرچند سیاستدانوں کے مکروہ چہرے ضرور بے نقاب ہوگئے ۔ پاک فوج پر ہلکا پھلکا تنقید کا سلسلہ اب بھی کچھ سیاستدانوں کی جانب سے جاری رہتا ہے جس پر صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ انکو ہدایت دے ۔ آمین ۔ میں ذکر کر رہا تھا کہ وزیراعظم نے قومی ترقیاتی کونسل قائم کر دی ہے ،قومی ترقیاتی کونسل ترقیاتی پالیسی اور حکمت عملی بنانے سمیت وسیع اختیارات کی حامل ہو گی اور یہ کردار محدود نہیں ہو گا،این ڈی سی کے کاموں میں معاشی بڑھوتری کے حصول کیلئے پالیسی بنانا اور ان پالیسیوں کی وضاحت بھی ہو گا،کونسل قومی اور علاقائی رابطہ سازی کیلئے طویل مدتی منصوبہ بندی کی منظوری بھی دیا کریگی اور علاقائی تعاون کیلئے گائیڈ لائنز بھی فراہم کریگی،قومی ترقیاتی کونسل کے اراکین میں وفاقی وزراء،تمام صوبوں کے وزراء اعلیٰ،آرمی چیف شامل ہیں ۔ کونسل اجلاس میں کسی بھی ادارے کے سربراہ اور وزیر کو شامل کر سکے گی اور اجلاس میں بلائے جانیوالے کسی بھی وزیریا ادارے کے سربراہ کی حیثیت بھی رکن کی ہو گی ۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کر دی ہے ،سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن اور سابق وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ کیا قومی ترقیاتی کونسل قومی معاشی کونسل کی جگہ لیگی;238;کیا فوج باضابطہ طور پر معاشی انتظام سنبھالنے کا کریڈٹ یا الزام خود پر لیگی;238;احسن اقبال نے مزید کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت پاک فوج کو تنازعات میں دھکیل رہی ہے ۔ اب قربان جائیں احسن اقبال صاحب کے اس بیان پر کہ حکومت پاک فوج کو تنازعات میں دھکیل رہی ہے،کیا مسلم لیگ ن صحافی و اینکر پرسن حامد میر پر قاتلانہ حملے کے حکومتی ردعمل کو بھول گئی ہے;238;کیا مسلم لیگ ن کارگل معاملے میں پاک فوج پر تنقید بھی بھول گئی;238;کیا مسلم لیگ یہ بھی بھول گئی کہ ڈان لیکس کس نے کی;238;کیا مسلم لیگ ن نے پاک فوج کو کبھی تنازعات میں دھکیلنے کی کوشش نہیں کی جبکہ قومی ترقیاتی کونسل میں آرمی چیف کی شمولت احسن اقدام ہے مگر ن لیگ اس پربھی خواہ مخواہ تنقید کررہی ہے ۔ 6اکتوبر1998کو بھی اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے ملکی ترقی کیلئے قومی سلامتی کونسل کے قیام کی تجویز دی تھی مگر مسلم لیگ ن کے تاحیات قائداور اس وقت کے وزیراعظم نا اہل نواز شریف کو یہ بات پسند نہ آئی اور جنرل جہانگیر کرامت سے استعفیٰ لے لیا ۔ ساری بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج قوم کو اپنے سیاسی حکمرانوں پر فخر ہو رہا ہے کہ اس نے پہلی بار اچھی اور بہترین قیادت کا انتخاب کیا جو کہ پاک فوج کو کسی دوسرے ملک کی نہیں بلکہ اپنی فوج تصور کرتی ہے اور ملکی ترقی کیلئے جہاں ضرورت پیش آئے پاک فوج کی مدد حاصل کرتی ہے اور آفرین ہے ہماری پاک فوج پرجس نے کبھی بھی سویلین حکومت کو انکار نہیں کیا اور ہمیشہ لبیک کہتے ہوئے ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا ۔ ابھی بھی جب ملکی معاشی صورتحال دگر گوں ہے تو پاک فوج نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کر کے فقید المثال کام سرانجام دیا حالانکہ پاک فوج کو ایک تو دفاعی بجٹ میں کمی اور اوپر سے ڈالر کی قدر میں اضافے کے باعث بڑھتی مہنگائی کے باعث چند مسائل کا بھی سامنا کر پڑیگامگر وہ پاک فوج ہی کیا جو کسی مسئلے سے نبرد آزما نہ ہو سکے،ہمارا فخر ہماری پاک فوج ہر مسئلے سے نپٹنا بخوبی جانتی ہے چاہے ملک میں سیلاب کا مسئلہ درپیش ہو یا پھر زلزلے جیسی آفت اور دہشت گردی کا سامنا ہو پاک فوج کو اس قوم نے ملک کو درپیش تمام آفات اور مسائل کے حل کیلئے ہمیشہ ہر اول دستہ پایا ۔ یہی وجہ ہے کہ قوم پی ٹی آئی حکومت کے قومی ترقیاتی کونسل میں آرمی چیف کی شمولیت سے خوش ہے کیونکہ پاک فوج قوم کے دلوں میں بستی ہے اور قوم کو اپنی مسلح افواج پر بھرپور اعتماد ہے ۔ لہٰذا اب حکومت کے سیاسی مخالفین یہ کہنا اور ان ڈائریکٹ کہنا چھوڑ دیں کہ عمران خان کو لانے والے تنگ آگئے،یہ بیانیہ قوم کے دلوں میں گھر نہیں کر سکتا کیونکہ قوم سب حقیقت جانتی ہے،قوم کو فیصل آباد میں احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں پر گولیاں چلانا نہیں بھولا نہ ہی قوم سانحہ ماڈل ٹاوَن بھول رہی ہے اور نہ ہی یہ قوم وفاقی دارالحکومت میں ربڑ کی گولیوں کی جگہ اصلی گولیوں کا استعمال کر کے پی آے ٹی اور پی ٹی آئی کارکنوں کو زخمی کیا جن میں چند جہان فانی سے کوچ کر گئے،قوم اس ملک کے بچے بچے کو سر سے پاؤں تک بیرونی قرضوں میں مقروض کرنیوالے حکمرانوں کو بھی نہیں بھول پا رہی او ر اس ملک میں سفارش اور کرپشن کے نظام کے فروغ کو بھی نظر انداز نہیں کر پا رہی اس لیے سیاستدانوں کو اب سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر ملکی مفاد میں سوچنا اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ وفاق میں حکومت سے صوبائی حکومت اور پھر اپوزیشن کی پوزیشن پر آنیوالوں کو قوم آئندہ گھر تک ہی محدود نہ کر دے ۔