- الإعلانات -

مسلح افواج کا بجٹ 80نہیں 17, فیصد

آج کل پاکستان کے قومیت پرست اور لبرل سیاسی پا رٹیاں دفاعی بجٹ کے بارے میں مختلف جلسوں میں ذکر کر رہے ہیں اور عام طور پر یہ ایک تا ثر دیا جا رہا ہے اور خا ص کر منظور پشتین کے جلسوں اور ریلیوں اس بات پر زیادہ تنقید کی جاتی ہے کہ مسلح افواج وفاقی بجٹ کا 80 فی صد بجٹ استعمال کر رہا ہے ۔ مگر حالات اور واقعات اس کے بر عکس ہیں ۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو اس وقت پوری دنیا میں دفاع پر 1700 ارب ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں ۔ امریکہ 611 ارب ڈالر دفاعی اخراجات کے ساتھ پہلے نمبر پر، چین 215 ارب ڈالر اخراجات کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے ۔ بھارت دفاع پر 60 ارب ڈالر، اسرائیل 19ارب ڈالر جبکہ پاکستان کے دفاعی اخراجات 9ارب ڈالر ہے جو 80فی صد نہیں جبکہ پاکستان کی وفاقی بجٹ کا 17 فی صد ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کا دفاقی بجٹ 6500ارب روپے ہے ۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ پاکستان کے دفاعی بجٹ پر انتہائی تنقید ہو تی ہے اور یہاں تک کہ پاکستان کے دفاعی بجٹ پر عالمی سطح پر سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور انکا بغیر سوچے سمجھے یہ مو قف ہے کہ پاکستان اپنے دفاع پر بے تحا شا رقم خرچ کر رہا ہے ۔ جبکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک جو ہم سے زیادہ ڈیفنس پر خرچ کر رہا ہے اُن پر کوئی تنقید نہیں کی جاتی ۔ بلا شک و شبہ پاکستان جیسے کمزور اقتصادیات والے ملک کے لئے یہ ایک خطیر رقم ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ اسکے علاوہ کوئی چا رہ نہیں ۔ اگر ہم پاکستان کے جُغر افئے پر نظر ڈالیں تو پاکستان کا کُل رقبہ تقریباً 8 لاکھ مربع کلومیٹر ہے جس میں 96 فی صد زمین اور 3;46;1 فی صد سمندر یا پانی ہے ۔ پاکستان کا افغانستان کے ساتھ2430 کلومیٹر سر حد ہے جبکہ بھارت کے ساتھ 2250 کلومیٹر ، ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر جبکہ چین کے ساتھ پاکستان کی تقریباً 600 کلومیٹر سر حد ہے ۔ خیبر پختون خوا اور قبائیلی علاقہ جات کو وسطی ایشائی ریاستوں ، افغانستان، روس اور پو ری دنیا کے لئے گیٹ وے کہا جاتا ہے ۔ جبکہ دوسری طر ف گوادر کی بھی انتہائی جُغرافیائی حیثیت ہے اور گوادرکے ذریعے ہم افغانستان، وسطی ایشائی ریا ستوں ، اومان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، ایران اور چین کے ساتھ ملا سکتے ہیں ۔ بد قسمتی کہئے یا خوش قسمتی پاکستان اپنی جُغرافیائی محل وقوع رکھتا ہے جسکی وجہ سے ما ضی اور موجودہ دور میں یہ خطہ اپنی جُغرافیائی حیثیت اور قدرتی وسائل کی وجہ ہمیشہ بین الاقوامی طاقتوں کے جنگ و جدل کا مرکز اور محور رہا ہے ۔ کیونکہ جُغرافیائی محل وقوع کے علاوہ خیبر پختون خوا، قبائلی علاقہ جات، بلوچستان ، افغانستان، وسطی ایشیائی ریاستوں ، روس جو کہ رقبے کے لحاط سے دنیا کو نصف ہے اس میں اتنے زیادہ بے تحاشا وسائل ہیں اور امریکہ اور دوسرے بڑی طاقتوں کی ان وسائل اور جُغرافیائی محل وقوع قبضہ کرنے پر نظریں لگی ہوئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کشش کی وجہ سے یہ خطہ ہمیشہ بین الاقوامی چپقلش کا حصہ رہا ہے ۔ اور ایسی جُغرافیائی محل وقو ع اور پاکستان ایک جو ہری طاقت ہونے کی وجہ سے پاکستان کے لئے دفاع کی اہمیت اور بڑھ گئی کیونکہ پاکستان کمزور دفاع کے ساتھ اپنی حفاظت نہیں کر سکتا ۔ میں نے امریکہ ، بھارت اور اسرائیل کی دفاعی بجٹ کا اسلئے ذکر کیا کیونکہ یہی ممالک پاکستان کی سلامتی کے لئے ہمیشہ ایک خطرہ بنا ہوا ہے ۔ سندھ ، بلو چستان اور قبائیلی علاقہ جات میں ان ممالک کی پاکستان کو غیر مُستحکم کرنے کے شواہد ملے ہیں ۔ علاوہ ازیں چین کی اشتراک سے پاکستان اور چین جو سی پیک کا منصوبہ شروع کیا ہے یہ بھی انتہائی اہمیت اور حساس منصوبہ ہے اور انکی حفاظت اور دفاع ایک مضبو ط مسلح افواج کے بغیر ممکن نہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں دفاع کے شعبے میں بھی بُہت کرپشن ہوتی ہوگی، مگر ہم ایک کرپٹ اور بد عنوان معاشرے میں رہ رہے ہیں جسطرح دوسرے شعبوں میں کرپشن ہوتی ہے اسی طرح دفاعی شعبے میں بد عنوانی ہوگی ۔ مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے دفاع سے غافل ہو جائیں اور دفاع کو نظر انداز کر لیں ۔ جو لوگ دفاعی اخراجات پر تنقید کرتے ہیں وہ ملک میں اُن حکمرانوں پر تنقید کیوں نہیں کرتے جو وطن عزیز میں کرپشن اور بد عنوانی میں ملوث ہو تے ہیں ۔ اگر ہم ملک میں کرپشن اور بد عنوانی پر نظر ڈالیں تو پاکستان میں سالانہ 5000 ارب روپے یعنی ہمارے وفاقی حکومت کی بجٹ کے برابر کرپشن ہو تی ہے ۔ اگر ہم دفاعی بجٹ پر تنقید کے ساتھ ساتھ ملکی سیاست دانوں کے کرپشن اور بد عنوانی کو ہدف تنقید بنائیں تو کرپشن کی نذر پیسوں سے ملک کے پسے ہوئے عوام کی تقدیر بدل سکتی ہے ۔ اس کالم کے تو سط سے میں پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر مسلح افواج کو ہدف تنقید نہ بنائیں بلکہ وطن عزیز کے سیاست دانوں سے یہ بھی مطالبہ کریں کہ وہ ملک میں مزید وسائل تلاش کریں ، ایسی حکمت عملی اپنائیں کہ ملک سے زیادہ سے زیا دہ پاکستانی باہر بھیجا جائے ، زرعی پیداور کو بڑھائیں تاکہ پاکستان مالی اور اقتصادی لحاظ سے خود کفیل ہوں کیونکہ پاکستان قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ بشری وسائل سے مالا مال ہے ۔ پاکستان کے عوام اتنے جفا کش اور محنتی ہیں مگر بد قسمتی سے ہمارے سیاست دان اپنی ذاتی چپقلشوں میں لگے ہوئے ہیں لہٰذا عوام کے درمیان مُثبت سر گر میوں کو فروع نہیں دیتے ۔ میں اس کالم کی توسط سے پاکستانیوں سے بھی استد عا کرتا ہوں کہ وہ ایسے لوگوں کو عام انتخابات میں مُنتخب کریں تاکہ وہ دلجمعی سے نہ صرف پاکستانی عوام کے مسائل حل کریں بلکہ ملکی اقتصادیات اور معیشت کو مضبو ط بنیادوں پر کھڑا کرکے ملک کو بین الاقوامی قرضوں سے نجات دلائیں تاکہ پاکستان اپنے فیصلے خود کر سکیں ۔ کیونکہ جب ہم بین الاقوامی قرضوں پر تکیہ کرتے ہیں ۔ وہ ہ میں قرضہ دے تو دیتے ہیں مگر بعد میں جائز اور نا جائز باتیں اپنے مر ضی سے ٹھونستے ہیں جو بعد میں ملکی سلامتی کےلئے بڑا چیلنج ہوتا ہے ۔ اور ڈیفنس بجٹ پر تنقید کرنا دراصل مسلح افواج پر تنقید ہے ۔