- الإعلانات -

فوجی عدالتوں پر حکومت اور پارلیمنٹ کے فیصلے کی توثیق۔۔۔ضمیر نفیس

سپریم کورٹ نے21 ویںترمیم کی منظوری کو درست اور آئین کے مطابق قرار دے کر اس پارلیمانی فیصلے کی تصدیق کر دی کہ خصوصی فوجی عدالتیں قائم کی جاسکتی ہیں جو دہشت گردی کے مقدمات کو جلد نپٹائیں گی21ویں ترمیم میں خصوصی عدالتوں کے قیام کے دورانیہ کو دوسال قرار دیاگیاہے اس کے بعد یہ ترمیم غیر موثر ہوجائے گی اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اس میں توسیع کی منظوری نہ دی یہ امر قابل ذکرہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں کا نظام پہلے سے موجود تھا لیکن اس میں مسلح افواج سے وابستہ افراد سے متعلق ہی مقدمات کی سماعت کی جاتی تھی اب21ویں ترمیم کے تحت آرمی ایکٹ میں توسیع کر دی گئی ہے اس کی رو سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سمیت سنگین نوعیت کے مقدمات بھی خصوصی فوجی عدالتوں میں چلیں گے وطن عزیز کے عوام نے پارلیمنٹ سے21ویں ترمیم کی منظوری پر جس مسرت اور اطمینان کا اظہار کیاتھا اسی اطمینان کااظہار انہوں نے سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے پر کیاہے عوام میں یہ خدشات موجود تھے کہ اگر خدانخواستہ سپریم کورٹ نے آئینی ترمیم کو آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم قرار دے کر کالعدم قرار دے دیا تو دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے حکومت اور پاک فوج کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتاہے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس قسم کے خدشات ختم ہوگئے ہیں وزیراعظم نوازشریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران سپریم کورٹ کے فیصلے کو آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی سند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے دہشت گردی کی حوصلہ شکنی ہوگی انہوں نے کہا کہ18ویں اور21ویں ترمیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے اس سے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہوئی ہے وزیراعظم نے کہا کہ فوجی عدالتیں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے ضروری ہیں سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخ میں مثبت اثرات مرتب کرے گا مسلح افواج کو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں فوج پولیس اور رینجرز دہشت گردی کا خاتمہ کر کے دم لیںگے وزیراعظم نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے سلسلے میں ارکان اور پارٹیوں کے تحفظات تھے ہم نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے یہ قدم اٹھایا تھا کیونکہ غیر معمولی حالات کے لئے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے عدالت عظمےٰ نے غیر معمولی اقدام کی توثیق کر دی ہے اس سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو تقویت ملے گی وزیراعظم نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب نیشنل ایکشن پلان اور اقتصادی راہداری کے لئے اتفاق رائے سے فیصلے کر کے ہم نے نیا کلچر پروان چڑھایاہے اس کلچر کو محفوظ رکھناہے اور اسے فروغ دیناہے مسائل چھوٹے ہوں یا بڑے ان کا حل اس ایوان میں ہے جب مسائل کے حوالے سے بات سڑکوں اور چوراہوں پر کی جائے تو اس کی ضرب پارلیمنٹ اور جمہوریت پر بھی پڑ ے گی مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے ان کامیابیوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی وزیراعظم نے بجا طور پر کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ قوم کو حاصل کامیابیوں کے استحکام کا باعث بنے گا اس فیصلہ کے بعد اب حکومت فوج اور عدلیہ دہشت گردی کے خاتمہ کے سلسلے میں ایک صفحے پر آگئی ہیں حقیقت یہ ہے کہ خصوصی فوجی عدالتوںکے قیام کا فیصلہ وقت کی آواز اور ضرورت تھا کل جماعتی کانفرنس میں تمام جماعتوں نے اس فیصلہ کی ضرورت محسوس کی اور اس کی حمایت کی چنانچہ حکومت نے اے پی سی کے فیصلے کی روشنی میں خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کے سلسلے میں21ویں ترمیمی بل کا مسودہ تیار کیا اور پارلیمانی جماعتوں سے اس کی حتمی منظوری حاصل کی جس کے بعد اسے دونوں ایوانوں سے منظور کروایا گیا تاہم بعض وکلاء تنظیموں کو اس ترمیم پر اعتراض تھا عدلیہ کے بعض حصوں سے بھی یہی تاثر آرہاتھا کہ عدالتی نظام کی موجودگی میں متبادل نظام لانے کی ضرورت نہیں البتہ اس پر سب ہی متفق تھے کہ مروجہ عدالتی نظام کی خامیاں وہ نتائج نہیں دے سکتیں جو قوم کی ضرورت اور وقت کا تقاضاہے عدالتوں میں برسہا برس تک مقدمات التواء میں رہتے ہیں چنانچہ غیر معمولی حالات کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے بلاشبہ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کے فیصلے کی توثیق کر کے یہ واضح کیاہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں حکومت اور پارلیمنٹ نے درست فیصلہ کیاہے وزیراعظم نوازشریف نے یہ کلیدی بات کہی ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل کامیابیوں کو استحکام ملے گا