- الإعلانات -

آصف زرداری اور سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری

ماضی میں جب پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت ایک دوسرے پر کرپشن کے الزام لگاتے تھے تو ان پر زرا بھی یقین نہیں آتا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ صرف اور صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور قوم کو بے وقوف بنانے کیلئے ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سیاستدانوں کیخلاف بہت سے لطیفے مشہور ہوئے ۔ پی پی اور ن لیگ کی قیادت جب ملک کو پیرس بنانے کی بات کرتی تھی تو تب بھی یقین نہیں آتا تھا کہ یہ ایسا کریں گے ،قوم کی اکثریت جانتی تھی کہ ہمارے سیاستدان صرف اور صرف اقتدار کے مزے لوٹنے اور اپنے کاروبار کو تقویت دینے کی خاطر سیاست کر رہے ہیں اور پھر وقت نے بار بار ثابت کیا کہ سیاسی قیادت نے قوم کیساتھ دھوکہ کیا اور ملک کو ترقی یافتہ بنانے کے بجائے قرضوں کا وہ بوجھ لاددیا جو اتارے نہ اتر رہا ہے ۔ اگر کوئی پڑھا لکھا اور نیک انسان سیاست میں آتا تھا تو لوگ کہتے تھے کہ سیاست گندا کھیل ہے اس میں نا پڑو ۔ غرض قوم کے دل و دماغ میں بیٹھ گیا تھا کہ سیاست ذاتی خواہشات کا وہ بازار ہے جن کو حاصل کرنے کیلئے تمام اخلاقیات اور قوانین کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے جس کے باعث قوم کی اکثریت سیاست دانوں کو ووٹ نہیں ڈالتی تھی اور عام انتخابات والے دن کو بطور چھٹی والا دن منایا جاتا تھا ۔ اور پھر گندی سیاست کے ماحول میں پی پی اور ن لیگ کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف سر اٹھانے لگی،لوگوں کو ایک امید پیدا ہوئی کہ پی ٹی آئی والے شائد کوئی نیا ٹرینڈ سیٹ کریں اور ملک میں راءج گندی سیاست کا نظام ختم کریں ،قوم کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی شکل میں ایک مسیحا نظر آنے لگا ،قوم عمران خان کے پیچھے لگ گئی اور چیئرمین پی ٹی آئی کے کہنے پر قوم اس وقت کی حکومت کیخلاف سڑکوں پر آنے لگی،چیئرمین پی ٹی آئی کے جلسوں میں لوگ جوق در جوق آنے لگے ،لاہور جلسے کے بعد کچھ سیاستدانوں نے پی ٹی آئی کی طرف رخ کرنا شروع کر دیا اور پھر آہستہ آہستہ پی ٹی آئی کا گراف اوپر جانے لگا اور یکا یک تحریک انصاف تیسری بڑی پارٹی بن کر ایسی ابھری کے پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے جس سیاستدان کو اپنی قیادت سے اختلاف پیدا ہوتا وہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو جاتا ۔ 2013کے عام انتخابات کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت قائم ہو گئی جس نے کے پی عوام کی خدمت کی اور 2018کے عام انتخابات میں مزید اکثریت کیساتھ دوسری بار نہ صرف کے پی میں حکومت قائم کی بلکہ مرکز اور پنجاب میں بھی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے نہ صرف پنجاب اور بلوچستان میں اپنی اکثریت کو گنوایا بلکہ مرکز میں بھی حکومت قائم کرنے میں کامیابی نہ ملی اور اس طرح پنجاب اور مرکز میں اپوزیشن بن کر رہ گئی،پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت 2013ء کے انتخابات میں ہی مرکز سے ختم ہو کر سندھ تک محدود ہو گئی تھی اور یہ روایت 2018ء کے انتخابات میں بھی قائم رہی اور سندھ میں پی پی نے حکومت بنا لی ۔ مرکز میں حکومت قائم کرنے سے قبل تک چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے قوم سے جو کہا قوم نے آنکھیں بند کر کے اسے سچ تسلیم کیا،2014کا طویل دھرنا ختم کرنا ہو یا بنی گالہ کا احتجاج روکنے کا اعلان ہو،35پنکچر ہوں یا پاناما لیکس کا معاملہ ہو،سول نافرمانی کا حکم ہو یا ملک بھر میں مرحلہ وار احتجاج کرنا ہو،قومی اسمبلی و سینیٹ سے استعفوں کی بات ہو یا پی پی کیساتھ ملکر حکومت کیخلاف لاہور میں احتجاج ہو،بلوچستان کی حکومت گرا کر نئی آزاد حکومت کا قیام ہو یا سینیٹ کے چیئرمین کی تبدیلی کیلئے انڈر ہینڈ پی پی کیساتھ ہاتھ ملانا ہو ۔ پی ٹی آئی کارکنوں کی لاشیں گرتی رہیں ،لوگ زخمی ہوتے رہے مگر قوم عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی اور وہ لوگ بھی سڑکوں پر سراپا احتجاج نظر آئے جنھوں نے عام انتخابات میں کبھی کسی کو ووٹ تک نہ ڈالا تھا ۔ پی ٹی آئی میں دوسری جماعتوں کے لوگ شامل ہوئے مگر پھر قوم کی امیدوں کا محور عمران خان ہی تھا،پاکستان تحریک انصاف میں کئی نظریاتی لوگ بیک ڈور چلے گئے مگر عوام نے عمران خان پر ہی یقین کامل رکھا اور اسے ہی مسیحا سمجھا ۔ غرض چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا ستارہ عروج پر رہا اور پھر2018ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں پی ٹی آئی نے مرکز اور پنجاب میں حکومت قائم کرنے کیساتھ ساتھ دوبارہ کے پی میں بھی حکومت قائم کر دی ۔ حکومت قائم کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان اپنے فیصلوں کی خود ہی تصحیح کرتے رہے جس کو اپوزیشن نے بطور سیاسی ٹول استعمال کیا اور یوٹرن یوٹرن کا شور مچا کر وزیراعظم عمران خان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی مگر قسمت کو تو کچھ اور ہی منظور تھا ،اپوزیشن کے کسی نعرے نے کام نہ کیا اور وزیراعظم کی شہرت میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا اور نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی وزیراعظم عمران خان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا جس کے باعث پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا اور تارکین وطن کا ملک پر اعتماد بڑھنے لگا ۔ پی ٹی آئی کی کامیابی اور پی پی و مسلم لیگ ن کی ناکامی کی بڑی وجہ قیادت کی جانب سے انکے قول و فعل میں تضاد تھا،پی پی اور ن لیگ کی قیادت جو کہتی تھی اس پر عمل نہیں کرتی تھی جس کے باعث قوم نے تیسری سیاسی قوت کی جانب دیکھنا شروع کیا اور پھر عمران خان کو حقیقی لیڈر ماننا شروع کر دیا ۔ قوم وزیراعظم عمران خان کوایک مسیحا اور اس ملک کی تقدیر بدلنے اور اپنی امیدوں کا محور سمجھتی ہے اس لیے وزیراعظم عمران خان کو اپنے قول و فعل میں تضاد کو اپنی زندگی سے دور رکھنا ہو گا ۔ مانتا ہوں کہ اس وقت سوشل میڈیا پر حکومت کے مخالفین بہت شور مچا رہے ہیں مگر اس کی بڑی وجہ پی ٹی آئی کارکنوں کی خاموشی ہے اس لیے مخالفین کا شور زیادہ محسوس ہو رہا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ قوم تنگ ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے،عام لوگ پی پی اور ن لیگ کی قیادت سے بہت تنگ تھے اور وہ اب بھی عمران خان پر ہی بھروسہ کر رہے ہیں مگر قول و فعل میں تضاد کی روش اگر وزیراعظم عمران خان نے اپنائی تو پھر قوم کو مایوسی ہو گی اور وزیراعظم عمران خان اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ پی پی اور ن لیگ سے تنگ قوم کی صرف وہی امید ہیں اور یہ امید شائد آخری امید ہو ۔ اگر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے قوم کو ڈلیور نہ کیا تو قوم مایوس ہو کر گھر بیٹھ جائے گی اور پھر دوبارہ سے اسے پولنگ بوتھ تک لانے میں بہت وقت لگے گا ۔ پیر17جون2019ء کو حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتوں نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن والے چور ڈاکو ہیں اور دنیا میں کہیں مجرم پروڈکشن آرڈر پر ایوان میں آکر حکومت اور وزیراعظم کیخلاف تقریریں نہیں کرتے،آصف زرداری سمیت کسی کے بھی پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہونگے مگر ٹھیک دو دن بعد 19جون کو آصف علی زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دئیے گئے ۔ پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی حکومتی مجبوری ہو سکتی ہے مگر وزیراعظم ایسا بیان نہ دیں جس سے قوم کو ایسا لگے کہ یہ سیاسی بیان تھا کیونکہ قوم ماضی کی سیاست کو دوبارہ گلے نہیں لگانا چاہتی ۔