- الإعلانات -

کشمیر اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ(1)

خطہ جنت نظیر کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی سفاک اوروحشی فوج مظالم کے پہاڑ توڑے رہی ہے ۔ کیا کیا جائے، اس وحشت بھری ہندو قوم پرستی کے جن نے، انسانیت کے مصنوعی روپ میں شیطان کا کردار ادا کرنے کی ٹھان لی ہے ۔ اسی قومیت کومحسنِ انسانیت پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علی و سلم نے اپنے آخری خطبہ حجۃ الودع میں یہ کہہ کر اپنے پیروں تلے روند دیا تھا کہ کالے کو گورے پر، عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں ۔ انسانیت کی برتری تو صرف تقویٰ کی بنیاد پر ۔ کوئی بھی غیر مذہب کا پیرو مسلمان ہو کر برابر کا حق دار بن سکتا ہے ۔ قرآن کے مطابق قو میں تو صرف اور صرف پہچان کے لیے ہیں ۔ مسلمانوں نے جب تک ان الٰہی تعلیمات پر عمل کیا تو عرب کے چرواہوں کو اللہ نے دنیا کی مہذب ترین قوم بنا دیا ۔ دنیا کی ساری قو میں ان کے طریق ِزندگی پر عمل کرنا شروع کر دیا ۔ اپنے رہن سہن تہذیب تمدن اور معاشرت میں مسلمانوں کی مثالیں دی جاتی تھیں ۔ فتوحا ت کی بات کی جائے توبنو امیہ کے دورخلافت کے ۹۹ سال کے اندر اندر دنیا کے اُس وقت کے معلوم چار براعظموں کے غالب حصہ پر مسلمانوں نے اپنی سلطنتیں قائم کر دیں تھیں ۔ اگر بھارت کی وحشت بھری قوم پرستی کی بات کی جائے، تو سفاکیت کا مظاہرہ کرنے والے کوئی اور نہیں ۔ کشمیری مسلمانوں کے ہم وطن ہیں ۔ جن کی مسلمانوں سے ہزاروں سالوں کی شناسائی ہے ۔ جن پر خود مسلمانوں نے ایک ہزار سال سے زائد مدت تک حکمرانی کی تھی ۔ وہ اکثریت میں تھے اورمسلمان اقلیت میں تھے ۔ مگر اسلام کے بتائے ہوئے طرز حکمرانی پر عمل کرتے ہوئے مسلمان بادشاہوں نے اکثریت کو مطمئن کررکھا تھا ۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں اتنی طویل مدت تک کسی بھی قوم نے حکمرانی نہیں کی ۔ کیا انگریز اپنے کم تر نظام ِ حکومت اور عوام پر مظالم کی انتہا کی وجہ سے ہندوستان پر صرف دو سو سال حکمرانی کرنے کے بعد ملک ِ ہندوستان نہیں چھوڑ گئے تھے;238;کیا انگریز کے دور میں ہوٹوں کے بورڈوں اورپارکوں کے دروازوں یہ الفاظ نہیں لکھے ہوتے تھے کہ اس میں صرف انگریز داخل ہو سکتے ۔ کسی کتے( ہندستانی) کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ۔ کیا فرانس کے باشاہ نے حکم نامہ نہیں جاری کیا تھا کہ موروں (مسلمانوں ) کو قتل کرو اور ہنددءوں کو حکومت میں ملازم رکھو ۔ کیا مسلمانوں کی طرف سے لڑی گئی ۷۵۸۱ ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کو توپوں کے سامنے باندھ کر اُڑا نہیں دیا گیا تھا;238;مسلمانوں کی جائیدادیں ضبط نہیں کی گئیں ;238; کالے پانی کی سزائیں نہیں دی گئیں ;238; یہ ہی وجوہات تھیں کہ عوام میں انگریزوں سے نفرت پیدا ہوئی اور بلا آخروہ ہندوستان سے بھاگ گئے ۔ اس کے برعکس مسلمانوں نے ہنددءوں کو آزادیاں اور بنیادی انسانی حقوق دیے ۔ اسی وجہ سے مسلمانوں نے ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک ہندوستان پر حکمرانی کی ۔ بلکہ ہندو مسلمانوں سے نفرت کرنے کے بجائے کروڑوں کی تعداد میں ہندو مہذب چھوڑ کر مسلمان ہو گئے ۔ ہم نے مودی سرکار کو اپنے ایک کالم میں مشورہ دیا تھا کہ مسلمانوں پر مظالم بندکروورنہ تمہاری حکومت ختم ہو جائی گی ۔ اوراللہ کے قانون کے مطابق کوئی عادل حکمران آجائے گا ۔ کالم کا عنوان تھا’’ مودی ہم نے تم پر ایک ہزار حکمرانی کی، تم سو سال تو پورے کرو‘‘ ۔ کیا بھارت کے قوم پرست حکمران بھارت میں اتنے زیادہ مظالم کے بعد دیر تک حکمرانی کر سکتے ہیں ;238;کیا وہاں بھارت میں مسلمانوں پران مظالم کی وجہ سے ایک اور پاکستان بننے کی زمین ہموار نہیں ہو رہی;238;َتاریخ کاتو ہی سبق ہے کہ کفر کی حکمرانی تو چل سکتی ہے ظلم کی حکمرانی نہیں چل سکتی ۔ اس فارمولے کے تحت بھارتی حکمران بھارت کو ہندو ریاست بنا کر تو حکومت کر سکتے ہیں ۔ یہ ہندو قوم کا حق ہے کہ اپنے مذہب کو اپنے ملک میں راءج کرے ۔ مگر بھارت کے قوم پرست حکمرانوں کو یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ وہ بھارت کے مسلمانوں کی قیمت پر حکومت بل لکل نہیں کر سکتے;238; یہ تاریخ کا سبق ہے اگر بھارت کے قوم پرست حکمران اسے پڑھ لیں تو ان کے لئے اچھا ہوتا ۔ اور ایک خاص بات بھی عرض کر دو کہ بھارت اور پاکستان کے مسلمانوں کو جس وقت بھی اپنا بھولا ہوا سبق یاد آگیا ۔ تو بھارت کے مظالم کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے ۔ پھر بھارت کیا بھارت کے حمایتی بھی مسلمانوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے ۔ وہ سبق جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ بھارت کیا، دنیا کا جابر سے جابر ظالم بھی مسلمانوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکے گا ۔ مسلمانوں کے دور حکومت کی یہ خوبی تھی کہ مسلمانوں نے اکثریت کے دھرم یعنی ہندو مذہب کوبل لکل نہیں چھیڑا گیا ۔ ہندوءوں کو اپنے مذہب عمل کرنے کی مکمل اجازت تھی ۔ انسانی حقوق میں مسلمان اور ہندو برابر تھے ۔ مغل مسلمان بادشا ہ بابر نے اپنے بیٹے ہمایوں کو نصیحت کی تھی کہ ہنددءوں کے مذہب کا ا حترام کرنا ۔ اسی مغل بادشاہ بابر کی بنائی ہوئی، بابری مسجد کو انتہاپسند ہندوءوں نے حکمرانوں کی آشیر آباد پر صفحہ ہستی سے مٹا دیا ۔ اب عدل جہانگیر راءج کرنے والے مغل بادشاہ کے بنائے ہوئے، دنیا کے آٹھویں عجوبہ، تاج محل آگرہ کو مسمار کرنے کی مہم چلائے ہوئے ہیں ۔ ہمایوں کے بیٹے مغل اعظم اکبر نے ہندوءوں کو حقوق سے کچھ زیادہ ہی دیاتھا ۔ شیر شاہ سوری نے جرنیلی روڈ پر ہندو اور مسلمان سرائیں تک علیحدہ علیحدہ بنائیں تھی ۔ اورنگ زیب عالم گیر ;231; عوام کے خزانے سے خرچہ لینے کی بجائے ٹوپیاں سی کر اپنا خرچ چلاتا تھا ۔ ہندوستان سارے مسلمان بادشاہوں نے ہندوءوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا ۔ اسلام امن اور شانتی کا دین ہے ۔ اس میں کسی کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا جا سکتا ۔ مسلمانوں نے ہندوستان میں کہیں بھی مندر کو توڑ کر مسجد یں نہیں بنائیں ۔ یہ بھارتی سیاستدانوں کے چھوڑے ہوئے شوشے ہیں ۔ ہندوءوں کو مسلمانوں کے خلاف اُکسا کر ووٹ حاصل کرنے کے حربے ہیں ۔ یہ مسلمان بزرگانِ دین تھے کہ جنہوں نے اسلام کے پر امن اور شانتی والے مذہب کی اپنے خانقاءوں میں بیٹھ کر تبلیغ کی اور کروڑوں ہندو مسلمان ہو گئے ۔ مسلمان حکمرانوں نے ہندوءوں کے مقامی راجاءوں کو بھی عوام پر مظالم سے روکے رکھا ۔ ہندو راجاءوں کو صرف سیاسی غلبہ کے بعد مکمل مذہبی آزادی تھی ۔ اسی لیے وہ اپنے ہندو عوام کو مسلمان بادشاہوں کی اطاعت پر راضی کرتے رہے ۔ اس کے برعکس بھارت میں مسلمانوں کو کہا جاتا ہے کہ واپس شدھی ہو جاءو ورنہ پاکستان چلے جاءو ۔ مسلمان کو پاکستان کا ایجنٹ کہا جاتا ہے ۔ گائے کا گوشت کھانے کے شک میں بے دردی سے شہید کر دیا جاتا ہے ۔ کہا جاتا کہ مسلمان ہندو ءوں کی طرح اپنے مردوں کو جلائیں ۔ بھارت میں مسلمانوں کے لیے قبرستانوں کی جگہ نہیں ۔ اذان پر پابندی لگائی جاتی ہے ۔ کشمیر میں جمعہ کی نماز پر ہوتی ہے ۔ مزاروں کو آگ لگا دی جاتی ہے ۔ مسلمان کو باندھ کر مارا جاتا اور جے شری رام کہنے کو کہا جاتا ۔ مسلمانوں کوبھارت کے آئین کے مطابق نہ نوکریاں ملتی ہیں نہ ہی تعلیمی ادروں میں داخلے ملتے ہیں ۔ سچر رپورٹ اور دوسری رپورٹیں مسلمان کی خستہ حالی کا رونا رو رہی ہیں ۔

(جاری ہے)