- الإعلانات -

کےا واقعی بجٹ عوام دوست ہے ۔ ۔ ۔?

موضوع تو کوئی اور سوچ رکھا تھا لےکن پچھلے دنوں دو احباب ملک عدم کو سدھارگئے ۔ دل آزردہ اور طبیعت افسردہ رہی اسی کارن کالم وقفے کی نذر ہوئے ۔ باب علم حضرت علی ;230; کا فرمان اےک بار پھر اپنی پوری سچائےوں سے منطبق ہوا کہ’’ مےں نے اپنے خدا کو ارادوں کے ٹوٹ جانے اور نےتوں کے بدل جانے سے پہچانا‘‘ ۔ پاک بھارت کرکٹ مےچ کی اجتماعی نظارگی کا نتےجہ بھی ماےوسی اور دل گرفتگی کا باعث بنا ۔ لڑ کر ہارتے تو ہار مےں بھی عزت ہوتی اور ےوں شرمندگی و خفت کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ اسی دوران وطن عزےز مےں بجٹ کا نزول ہوا جس نے قلم اٹھانے پر اکساےا ۔ بجٹ سال مےں اےک بار آتا ہے لےکن سارا سال وقفے وقفے سے منی بجٹوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے ۔ جس طرح سر منڈوانے سے اولے پڑنے کے خطرات بڑھ جاتے ہےں اسی طرح بجٹ آ جائے تو مہنگائی کی ژالہ باری ہونے کے اندےشہ ہائے گوناگوں مےں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ اس بار بجٹ کی آمد سے اشےائے خوردونوش کی قےمتوں مےں اضافے کا جو طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اس پر قابو پانا محال دکھتا ہے ۔ ےوں تو ہمارے ملک مےں مہنگائی کے جھکڑ اور گرانی کے طوفان ہر وقت چلتے رہتے ہےں لےکن اس بجٹ نے ہماری روز مرہ کے اقتصادی معاملات کو تہہ و بالا ہی نہےں بلکہ تہس نہس کر کے رکھ دےا ہے ۔ ہر بجٹ کے اعلان پر عوام کی آنکھوں اور دل و دماغ مےں امےد کے دیے کی جو موہوم سی لو ٹمٹمانے لگتی ہے وہ مہنگائی کے طوفان کے سامنے چراغ سحری کی طرح بجھ جاتی ہے ۔ ہمےں تو بجٹ مےں عوامی مسائل کا حل نظر آتا ہے اور نہ پاکستان کی تقدےر بدلنے کی کوئی امےد جو اپنی کرن سے ہماری کم فہمی کی تارےکی روشنانے مےں کامےاب ہوتی نظر آ ئے ۔ کروڑوں چولہے ٹھنڈے پڑ گئے تو کےا غم ۔ آئیے ناظرےن موجودہ حکومت کی طرف سے پےش کئے گئے بجٹ کا طائرانہ جائزہ لےتے ہےں جس کے سبب عوام کے تبدےلی سرکار کی طرف سے لگائے گئے امےدوں کے محل شکست و رےخت کا شکار ہےں ۔ 7306ارب روپے کے وفاقی بجٹ مےں 3151ارب روپے کاخسارہ ظاہر کےا گےا ہے ۔ آمدنی کا تخمےنہ 6716ارب روپے ہے ۔ جاری اخراجات 6192ارب روپے ہوں گے ۔ ٹےکس رےونےو کا ہدف 5555ارب روپے رکھا گےا ہے ۔ اس رےونےو مےں سے 3255ارب روپے ساتوےں اےن اےف سی اےوراڈ کے تحت صوبوں کو دیے جائےں گے ۔ بجٹ مےں 1120ارب روپے کے نئے ٹےکس لگائے گئے ہےں ۔ نئے بجٹ مےں کھانے پےنے کی اشےاء مہنگی کر دی گئی ہےں جس مےں چےنی ،گھی،خوردنی تےل ،گوشت ،خشک دودھ ،پنےر ،کرےم، منرل واٹر ، مشروبات ،سےمنٹ ،سگرےٹ ،گاڑےاں ، زےورات، فلےورڈ جوسز، سی اےن جی ، سکوائشز، چمڑے کی اشےاء،قالےن،کھےلوں کا سامان ، آلات جراحی، سٹےل راڈ اور بلٹ شامل ہےں ۔ سنگ مر مر کی صنعت ،مرغی ،مٹن ،بےف اور مچھلی کی سےمی پراسےسڈاور پکی ہوئی اشےاء پر 17فےصد سےلز ٹےکس لگانے کی تجوےز ہے ۔ تنخواہوں اور پنشن مےں اضافہ ہو گا ،تنخواہ دار طبقے کےلئے ٹےکس کی چھوٹ 12لاکھ روپے سالانہ سے کم کر کے 6لاکھ سالانہ کر دی گئی ہے ۔ 50ہزار روپے ماہوار سے زےادہ تنخواہ پر ٹےکس لگے گا ۔ اےک طرف حکومت کفاےت شعاری کی پالےسی کو شعار بنانے کا دعویٰ کرتی ہے ،دوسری طرف موجودہ پارلےمانی سےکر ٹرےوں کی تعداد سے زائد کےلئے بجٹ تجوےز کر دےا گےا ہے ۔ اس وقت پارلےمانی سےکرٹرےوں کی تعداد 23ہے جبکہ 42کےلئے بجٹ تجوےز کےا گےا ہے اور ان کی تنخواہوں مےں 19فےصد اضافے کی تجوےز دی گئی ہے ۔ ےہ تحرےک انصاف کا کےسا انصاف ہے کہ اےک جانب کفاےت شعاری کا درس دے کر اپنے صدر اور وزےر اعظم ہاءوس کا پچھلا خرچہ 98کروڑ سے زےادہ کر ڈالا اور آئندہ کے بجٹ مےں مزےد اضافہ بھی کر لےا ۔ ڈےم فنڈ مےں کمی کر کے حکومت نے اپنی ہی ترجےحات کو غلط ثابت کر دےا ۔ صحت اور تعلےم کے بجٹ مےں کمی کر دی گئی ہے ۔ تعلےمی بجٹ 97ارب روپے سے کم کر کے 77ارب روپے اور صحت کا 13ارب روپے سے کم کر کے 11ارب روپے کر دےا گےا ہے ۔ اس کمی کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے مےں روپے کی قدر مےں کمی کے تناظر مےں دےکھا جائے تو ےہ رقم مزےد کم ہو جاتی ہے ۔ حکومتی وزراء کہہ رہے ہےں کہ بجٹ غرےب دوست ہے ، کوئی ان سے پوچھے کہ جب چےنی ،خوردنی تےل ، آٹا اور گھی مہنگے ہوں گے تو کون سا غرےب ہے جو ان سے متاثر نہےں ہو گا ;238; گھرےلو ،کمرشل اور صنعتی صارفےن کےلئے گےس پر اےکسائز ڈےوٹی مےں اضافہ کےا گےا ہے ،جس کے نتےجے مےں کمرشل اور صنعتی اشےاء کی پےداواری لاگت مےں اضافے کا بوجھ بھی بالآخر صارفےن پر ہی منتقل ہو گا ۔ وہ امےر اور غرےب سبھی خرےدےں گے ۔ سےمنٹ کی بوری25روپے مہنگی ہونے سے ہر طبقہ متاثر ہو گا ۔ ملک کے کروڑوں غرےب عوام جو بجلی ،گےس اور پٹرولےم مصنوعات کی آئے روز بڑھتی ہوئی قےمتوں کے بوجھ تلے پہلے ہی دبے ہوئے تھے حکومت نے ان پر اربوں کے نئے ٹےکسوں کا نفاذ کر کے انہےں مزےد غربت کے پاتال مےں اتار دےا ہے ۔ تنخواہ دار طبقے کو رواں برس جو رےلےف مےسر رہا وہ بھی واپس لے لےا گےا ہے اور اب 5oہزار روپے ماہوار آمدنی بھی ٹےکس کی زد مےں آئے گی جبکہ اتنے پےسے کمانے والے تو پہلے ہی بچوں کی فےسےں تک ادا نہےں کر سکتے ۔ گےس اور بجلی کے بھاری بلوں کی ادائےگی کے بعد وہ بمشکل کھانے پےنے کی اشےاء خرےد سکتے ہےں ۔ تنخواہ دار طبقے کی تنخواہوں مےں اضافہ تو اےسے دکھائی دےتا ہے جےسے اےک ہاتھ سے لےنے اور دوسرے ہاتھ سے واپس دےنے کا طرےقہ وضع کےا گےا ہے ۔ اس تنخواہ دار طبقے کو اےسے خوبصورت طرےقے سے زہر کی گولی دی گئی ہے کہ وہ نہ رو سکتے ہےں نہ ہنس سکتے ہےں ۔ اےک طرف ان کی تنخواہو ں مےں اونٹ کے منہ مےں زےرے کے مترادف معمولی اضافہ کےا گےا ہے تو دوسری طرف ان پر انکم ٹےکس مےں غےر معمولی اضافہ کر کے عملی طور پر ان کی تنخواہوں مےں کمی کر دی گئی ہے اس پر اےک واقعہ ےاد آ رہا ہے ۔ واقعہ کی تفصےل کچھ ےوں ہے کہ اےک روز راقم کے اےک ملنے والے اپنی ڈےوٹی آف کر کے اپنے گھر جا رہے تھے ۔ وہ وےگن کی سب سے پچھلی سےٹ ،جس پر تےن آدمی بمشکل بےٹھتے ہےں ،پر چوتھی سواری کے طور پر ٹھنسے ہوئے تھے ۔ کنڈےکٹر نے کراےہ طلب کےا تو انہوں نے کہا کہ ساتھی مسافروں مےں سے کوئی اٹھتا ہے تو وہ کراےہ دے دےں گے کےونکہ ان کا پرس انڈر گراءونڈ ےعنی شلوار کی جےب مےں ہے تھوڑی دےر کے بعد ساتھ بےٹھی چار سوارےوں مےں سے اےک نےچے اتر گئی تو انہوں نے اپنا پرس نکالنے کےلئے جےب مےں ہاتھ ڈالا ،انہےں پرس تو مل گےا لےکن انہوں نے دےکھا کہ جےب کٹی ہوئی ہے ۔ پرس کھولا تو اس مےں سب کچھ موجود تھا لےکن پےسے نہےں تھے ۔ ہوا ےہ تھا کہ جےب تراش نے ان کی جےب کاٹ کے اس مےں سے پرس نکالا اور پرس مےں پڑی رقم اپنے قبضے مےں کرنے کے بعد خالی پرس واپس ان کی جےب مےں رکھنے کی دےدہ دلےری بھی کی تھی ۔ راقم جب بھی بجٹ مےں کئے گئے وعدوں ،عوام کو دیے گئے دلاسوں اور روشن مستقبل کی باتےں سنتا ہے تو مجھے ےہ واقعہ ےاد آ جاتا ہے ۔ حکومتےں ہر سال بجٹ مےں لوگوں کو رےلےف دےنے کے اعلان کرتی ہےں لےکن عوام کو دی گئی رےلےف کے ساتھ ساتھ مختلف حےلوں بہانوں سے ان کی جےبوں سے کچھ اور رقم بھی اتنی صفائی سے اڑا لے جاتی ہےں جتنی صفائی سے اس جےب تراش نے جےب کاٹی تھی ۔ بجٹ دراصل گونگے بلکہ بے جان ہندسوں کی شمار کاری کا نام نہےں ےہ ہندسوں کے ہاتھوں سے قوم کے مسائل کی گرہ کھولنے کی تدبےر کا نام ہے ۔ عوام زندگی کی نبض جاری رکھنے کے حسرت زدہ بجٹ کے ڈھےر مےں سے مسائل کے حل نہےں مشکلات کے سنگرےزے ہی دامن مےں ڈالےں گے ۔ ہم اےسے روشن خےال قصےدے کو کےا کرےں جو ہماری بھوک مٹاسکے نہ پےاس بجھا سکے ۔ ماضی کی طرح اس بار بھی بجٹ کہانی دہرائی گئی ۔ اس کہانی کو بشمول امےر،غرےب سب نے سنا ۔ کچھ لوگ اس سے محظوظ ہوئے ہوں گے لےکن اکثرےت کے منہ لٹک گئے ۔