- الإعلانات -

افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی ضروری

پاکستان میں پناہ حاصل کرنے والے افغان مہاجرین کی زیادہ تعداد 1979 میں سوویت یونین کے حملے کے بعد آئی جبکہ 9;47;11 کے امریکی حملے کے بعد بھی افغان مہاجرین پناہ کی تلاش میں پاکستان میں داخل ہوئے ۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرت نے ایک اعشاریہ چار ملین افغان مہاجرین کی پاکستان سے ملک واپسی کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے ۔ یو این ایچ سی آر اور افغان کمشنریٹ کے اعداد وشمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں ڈیڑھ ملین رجسٹرڈ اور ایک ملین سے زائد غیر قانونی افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں ۔ ان کی باعزت اپنے وطن واپسی کےلئے 30 جون 2019 آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے ۔ اس سے قبل بھی بہت دفعہ افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجنے کےلئے ڈیڈ لائن دی گئی مگر اس پربہت سی وجوہات کی بنا پر عمل درآمد نہ ہو سکا ۔ مگر اب کہا جا رہا ہے کہ آٹھویں بار ڈیڈ لائن پر سختی سے عمل ہوگا ۔ پاکستان نے چالیس سال تک اپنے افغان بھائیوں کی بہترین میزبانی کی ۔ اسی لئے یو این ایچ سی آراور اقوام متحدہ نے چالیس برس تک افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ۔ اب تک 43لاکھ افغان مہاجرین پاکستان سے افغانستان جا چکے ہیں جس کی واپسی رضا کارانہ طور پر ہو ئی ۔ اصل میں یہ افغانستان کا فرض ہے کہ واپس آنے والے افغانیوں کو تحفظ فراہم کرے ۔ ایسا سازگار ماحول دے جس میں ان کی واپسی اور اپنے گھروں میں بسنے کا عمل سکون سے طے پا سکے ۔ اس سلسلے میں پاکستان، ایران ، افغانستان اور اقوام متحدہ مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کی ڈیڈ لائن پر سختی سے قائم رہنے کا اعادہ بھی کیا گیا ۔ مناسب ماحول میں مہاجرین اپنے ملک میں رہائش کے ساتھ ساتھ دیگر مشاغل ، روزگار سے بھی بھرپور لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔ بین الاقوامی برادری رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے افغان مہاجرین کو مالی امداد فراہم کررہی ہے مگر مہاجرین کےلئے کیش ادائیگی کم ہو رہی ہے ۔ خیبرپختونخوا حکومت نے افغان مہاجرین کے پاکستان میں مزید قیام کی مخالفت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے سفارش کی کہ افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی ڈیڈ لائن 30 جون کو ختم ہورہی ہے اس میں مزید توسیع نہ کی جائے اور ان کی وطن واپسی کے انتظامات مکمل کرے ۔ اب وقت آگیا ہے وہ واپس افغانستان چلے جائیں ۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو رہنے کیلئے جگہ دی ان کے ساتھ پاکستان میں بھائیوں جیسا سلوک کیا گیا ۔ وزیر مملکت برائے سیفران شہریار خان آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے کہ افغان مہاجرین کو باعزت وطن واپس بھیجا جائے ۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پیغام بھیجا ہے کہ میرا مقصد تب تک پورا نہیں ہوتا جب تک افغان مہاجرین وطن واپس نہیں آتے ۔ افغان وزیر برائے مہاجرین سید حسین علمی بلخی نے کہا کہ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی خدمت کرنے پر پاکستانی عوام اور حکومت کے شکر گذار ہیں ۔ پاکستان اور ایران سے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی جلد ہوگی ۔ یہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ رضاکارانہ طور پر افغانستان جانیوالے چار لاکھ افغانوں میں سے ایک لاکھ سے زیادہ واپس آ گئے ہیں کیونکہ وہاں کے حالات ایسے نہیں کہ کوئی کاروبار کیا جاسکے ۔ افغان حکومت اور بین الاقوامی ادارے واپس جانے والے افغان باشندوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکام رہے ہیں ۔ پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل پروفیسر معین مرستیال کا کہنا تھا کہ صدر اشرف غنی نے پاکستان سے جانے والے افغان باشندوں کی آباد کاری اور بحالی کیلئے گھر ،پانی ،صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بارے میں جامع منصوبہ تیار کیا تھا لیکن بدامنی کی وجہ سے اس منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ۔ اب حکومت نے تجویز دی ہے کہ واپس جانیوالوں کو پہلے مرحلے میں زمین دی جائے اور دوست ممالک سے انہیں گھر بنانے میں تعاون کے لیے کہا جائےگا ۔ ایک بار انہیں سر چھپانے کیلئے جگہ مل جائے تو دیگر سہولیات کی فراہمی آسان ہوگی ۔ پاکستان اور با الخصوص خیبر پختونخوا میں قیام پذیر زیادہ تر افغان باشندے تجارت کے پیشے سے وابستہ ہیں جنہوں نے یہاں بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے ۔ پشاور کے مصروف ترین تجارتی مرکز کارخانوں مارکیٹ میں تاجروں کی اکثریت کا تعلق افغانستان سے ہے ۔ مہاجرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن ہو تو ایک دن یہاں نہیں رہیں گے ۔ کاروبار وہاں شفٹ کیا تھا لیکن بدامنی میں اضافے کی و جہ سے وہاں رہنا مشکل ہے تو پھر کاروبار کیسے کریں گے ۔ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے جون میں ختم ہونے کے فیصلے کے پیش نظر ان کی ڈیڈ لائن میں مزید توسیع نہ کرنے کےلئے بھی چاروں صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لیا جارہا ہے ۔ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کی ڈیڈلائن میں مزید توسیع نہ ہونے پر صوبائی حکومتوں سے بھی مشاورت شروع کر دی ہے ۔ چاروں صوبائی حکومتوں نے پہلے بھی توسیع کی مخالفت کی تھی کیونکہ دہشت گردی کے بعض واقعات میں افغان مہاجرین ملوث پائے گئے ہیں ۔