- الإعلانات -

چیف جسٹس آف پاکستان کا جوڈیشل اکیڈمی میں فکر انگیز خطاب

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے موجودہ سیاسی حالات کے بارے میں سوفیصد صحیح عکس پیش کیا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان کو بولنے ہی نہیں دیا جاتا تاہم اچھی خبریں صرف عدلیہ سے آرہی ہیں ، معیشت آئی سی یو سے باہر آئی یا نہیں لیکن صورتحال خراب ہے ۔ یہ بات بالکل درست ہے، قومی اسمبلی ، سینیٹ، پنجاب اسمبلی، سندھ اسمبلی ان میں تو بالکل سیاسی انارکی پھیلی ہوئی ہے، ایک دوسرے پر فقرہ بازی، تندوتیز طعنوں کے نشتر اور ذاتیات پر بیانات داغے جاتے ہیں ، عوام بھی انگشت بدانداں ہے کہ یہ آخر ہو کیا رہا ہے، انہی حالات کو دیکھتے ہوئے جب گزشتہ روز جوڈیشل اکیڈمی میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے ماڈل کورٹس کے ججوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ دیکھیں تو ڈپریشن،چینل بدل کر کر کٹ لگائیں تو مایوسی،معیشت کی خبریں بھی مایوس کن اور عالمی سطح پر بھی بری خبریں مل رہیں ،ملک میں عدلیہ کے سوا کوئی اچھی خبر نہیں ہے،پارلیمنٹ کی کارروائی دیکھتے ہیں تو اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان کو بولنے نہیں دیا جاتا،معیشت کا سنتے ہیں وہ آئی سی یو میں ہے، اچھی خبریں نظر نہیں آرہی ہیں ، عوام کو سستا اور تیز رفتار انصاف فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے، فوجداری ماڈل کورٹس نے 48 دنوں میں 5800 مقدمات کے فیصلے کئے، اب سول، فیملی، خواتین، بچوں ، کرایہ اور مجسٹریٹ کی ماڈل عدالتیں بنا رہے ہیں ،قتل اور منشیات کے مقدمات کے جلد از جلد فیصلے کرنے کیلئے ماڈل کریمنل کورٹس کی کارکردگی ناقابلِ یقین ہے، اب مقدمات کا التوا اور جھوٹی گواہی کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائیگا ،مجھے ماڈل عدالتوں کے لئے سرگرم اور فعال ججوں کی ضرورت ہے،ان عدالتوں میں مجھے ملک بھر سے ایسے چیتے (جج)چاہئیں جوکہ مقدمات کو جلد از جلد نمٹا سکیں ، آئین کے آرٹیکل 37ڈی کے تحت عوام کو سستا اور تیز رفتار انصاف فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے ، سپریم کورٹ میں اس وقت 2019کی 100 کے قریب اپیلیں ہی زیر التوا ہیں ، اور وہ دن زیادہ دور نہیں جب یہاں پر ایک فوجداری اپیل بھی زیر التوا نہیں ہوگی ،اور وکیل سوچیں گے کہ اب کیا کریں ;238; جبکہ جج بھی انتظار کریں گے کہ کب کوئی اپیل آئے اور وہ زنجیر عدل کو ہلائیں ۔ نظام انصاف میں فوجداری اور سول مقدمات کی صورت میں دو اہم شعبے ہیں ،سول مقدمات میں فریقین اپنے گھروں میں اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ ہوتے ہیں جبکہ فوجداری مقدمات میں ملوث ملزم سالہا سال تک جیل میں بند رہتا ہے اور کوئی اسکے بیوی بچوں کا نہیں سوچتا اور وہ بیچارے جرم نہ کرنے کے باوجود ملزم کے ساتھ ساتھ سزا بھگت رہے ہوتے ہیں ،غربت جرائم کا سبب بنتی ہے ،جب گھر کا کفیل کوئی جرم کرکے جیل میں بند ہو تو اسکی اہلیہ کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہوتا ہے اور عام طور پر وہ ان پڑھ ہوتی ہیں اسلئے ان عورتوں کو لوگوں کے گھروں میں کام کاج پر لگا دیا جاتا ہے اور اس دوران انہیں بدسلوکی اورتشدد تک کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ اس سے بھی آگے بعض اوقات جسم فروشی جیسے قبیح دھندے پر لگا دیا جاتا ہے ،ایسے ماحول میں بڑے ہونے والے بچے بھی بعد میں جرائم پیشہ انسان ہی بن سکتے ہیں ۔ اس لئے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے اجلاس میں سب سے پہلے فوجداری مقدمات کے نظام کو ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا ۔ سب سے پہلے پنجاب میں ماڈل کورٹس کا تجربہ کیا گیا ،جس کے بعد ان کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیلا دیا گیاہے ،اس وقت ملک کے 6اضلاع میں قتل اور منشیات کے زیر التواء مقدمات صفر پر آگئے ہیں جبکہ آئندہ ماہ تک مزید 10اضلاع میں بھی نمٹا دیئے جائینگے اور بتدریج ملک بھر سے ہی انہیں نمٹا دیا جائیگا ، اسکے بعد ان عدالتوں کا دائرہ کار دیگر مقدمات تک پھیلا دیا جائیگا ۔ تقریب کے آغاز سے قبل جب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ جوڈیشل اکیڈمی آئے تو اس موقع پر ان کی پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی سے ملاقات ہوئی ۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ایس کے نیازی کی خیریت دریافت کی ۔ ایس کے نیازی نے چیف جسٹس کی جانب سے فوری اور سستے انصاف کیلئے اقدامات کی تعریف کی ۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ یہ سب کچھ ایس کے نیازی کی مدد اور تعاون سے ممکن ہوا ۔ ایس کے نیازی کا کہنا تھا کہ ماڈل کورٹس کا قیام چیف جسٹس کا بہترین کارنامہ ہے،چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ نیازی صاحب یہ سب آپ کی دعاءوں کا نتیجہ ہے، اس موقع پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایس کے نیازی کو جوڈیشل اکیڈمی میں ماڈل کورٹس کے ججز کے ہمراہ وہ گروپ فوٹو بھی دکھایا جس میں ایس کے نیازی بھی موجود تھے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ نیازی صاحب اور عدلیہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے، ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے ایس کے نیازی کو تفصیلی ملاقات کی دعوت دی ۔

آخر کار حکومت اپوزیشن میں معاملات طے پاگئے

قومی اسمبلی میں آخر کار حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ابتدائی طورپر معاملات طے پا گئے اور اپوزیشن لیڈر کو تقریر کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ۔ شہباز شریف نے تقریر کرتے ہوئے وفاقی بجٹ کو مسترد کرکے حکومت کو میثاق معیشت کرنے کی پیشکش کی اور انہوں نے کہاکہ اس میں اسپیکر قومی اسمبلی اہم کردارادا کرسکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں اسپیکر قومی اسمبلی نے بھی مثبت جواب کا اظہار کیا ۔ شہباز شریف نے کہاکہ بجٹ میں ترمیم نہ کی گئی تو حکومت کو نہیں چلنے دیں گے، چاہے ساری اپوزیشن کو گرفتار کرلیا جائے ، بجٹ کی ڈٹ کر مخالفت کریں گے ۔ ملک کو معاشی جہنم بنا دیا گیا ہے ۔ قرضوں کا حساب دینے کیلئے تیار ہیں ، ادھر حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر برائے توانائی نے شہباز شریف کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ن لیگ کی پانچ سالہ حکومت میں نوٹ چھاپنے میں 101فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ سے آج مہنگائی قابو سے باہر ہے ۔ ادھر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزارت قانون کی رائے کے بعد پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کردئیے ہیں ۔ پروڈکشن آرڈر ایڈیشنل سیکرٹری محمد مشتاق کے دستخطوں سے جاری کیے گئے ۔ واضح رہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں پارٹیوں کی جانب سے اپنے اپنے رہنماءوں کے پروڈکشن آرڈرجاری کرنے کا مطالبہ تھا اور اسی ضمن میں پیپلزپارٹی کئی روز سے سپیکر چیمبر کے سامنے دھرنے بھی دے رہی تھی ۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے خورشید شاہ کو فون کرکے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے فیصلے بارے آگاہ کیا ۔ آصف علی زرداری اجلاس میں بھی شریک ہوئے ۔ آصف علی زرداری کو اسلام آباد نیب سے پارلیمنٹ ہاءوس لایا گیا ۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدام قابل ستائش ہے کہ کم ازکم ایوان میں انارکی تو نہیں پھیلے گی ایسے میں پروڈکشن آرڈر کے تحت لائے جانے والے ممبران اور حکومتی ممبران کو بھی چاہیے کہ وہ مفاہمتی پالیسی اختیار کریں نہ کہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالیں ۔ تنقید برائے تنقید نہیں جمہوریت کا حسن تنقید برائے تعمیر ہوتا ہے ۔ ایوان کا تقدس برقرار رکھنا اپوزیشن حکومت دونوں کا فرض ہے تاہم اس میں حکومت پر زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کیونکہ وہ اقتدار کی کرسی پر براجماں ہوتی ہے اپوزیشن کا کام تو تنقید کرنا ہی ہوتا ہے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے ۔