- الإعلانات -

یورپی پارلیمان اورمقبوضہ کشمیر مےں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

گزشتہ ماہ مئی میں یورپی پارلیمان کے چند ارکان جن میں اکثریت بھارتی نژاد ممبران کی تھی نے وزیر اعظم عمران خان کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی بند نہ کی گئی، تو پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے ختم کرنے کی سفارش کی جائے گی ۔ اراکین پارلیمنٹ نے اپنے خط میں من گھڑت الزام تراشی کرتے ہوئے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ۔ خط میں احمدیوں کے خلاف اِکا دُکا پرتشدد واقعات اور مسیحی خاتون ;200;سیہ بی بی کے حوالہ سے امتیازی قوانین کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے قوانین کی بدولت انتہا پسندوں کو بلا روک ٹوک مذہبی اقلیتوں پر حملے کرنے کی طاقت ملتی ہے ۔ یہ بھی الزام تراشی کی گئی کہ ان قوانین کے مسلسل غلط استعمال کے باوجود انہیں ختم کرنے کی کوشش نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست ان کے حق میں ہے ۔ مذکورہ خط میں جس طرح قیاس پر مبنی اور اِکا دُکا واقعہ کے تحت پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی گئی ہے وہ حقائق کے سراسر منافی اور بھارتی لابنگ کا کیا دھرا ہے ۔ اس پر اگلے کسی کالم میں تفصیل سے بات ہو گی، تاہم یورپی پارلیمان کے ان چند بھارتی نژاد اور بھارت نواز ارکان سے سوال ہے کہ جو کچھ مودی کے بھارت میں ہو رہا ہے یا کشمیر میں جو خون بہہ رہا ہے کبھی اس طرف بھی دھیان گیا ہے ۔ مقبوضہ وادی میں کیا ہو رہا ہے وہاں تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں معمول ہےں ۔ ذراءع ابلاغ مےں آنےوالی خبریں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی وقتاً فوقتاً آنےوالی رپورٹس تصدیق کرتی ہےں لےکن بھارتی ہٹ دھرمی اور بین اقوامی برادری کی چشم پوشی کہ مودی اےک جانب ان انسانی حقوق کی ان پامالیوں سے انکار کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بار بار مطالبہ کرنے کے باوجود ان خلاف ورزیوں کی تحقیقات کےلئے کسی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کو مقبوضہ وادی کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دےتا ۔ ابھی حال ہی کی بات ہے کہ اےمنسٹی انٹرنےشنل نے مقبوضہ وادی مےں اےک تقریب کے انعقاد کی اجازت مانگی تومودی حکومت نے حسبِ معمول اجازت دےنے سے انکار کردیا ۔ اےمنسٹی انٹر نےشنل مقبوضہ وادی مےں نافذکالے قانون ;808365;کے استعمال سے ہونےوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جائزہ پر مبنی اےک رپورٹ جسکا عنوان;3484;yranny of a ;39;lawless law;3958; ;68;etention without charge or trial under the ;74;&;75; ;80;ublic ;83;afety ;65;ct;34; کو جاری کرنے کے سلسلے مےں سرینگر مےں اےک تقریب منعقد کرنا چاہتی تھی ۔ اس رپورٹ مےں 2010مےں ;808365; کے تحت گرفتار کئے گئے کشمیریوں کے2012سے 2018کے دوران چلائے جانےوالے مقدمات کے حقائق کو سامنے لایا گیا ہے ۔ ;808365; وہ ایکٹ ہے جسکے تحت مقبوضہ کشمیر مےں دو سال تک کسی بھی مشکوک فرد کوکوئی مقدمہ چلائے بغےر زےرِ حراست رکھا جاسکتا ہے حتی ٰکہ بچے بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں ۔ اےمنسٹی انٹر نےشنل کی مذکورہ رپورٹ مےں چالیس بیالیس سال سے نافذ العمل ;808365;کے کالے قانون کا تفصیلی جائزہ لیا گےا ہے کہ یہ کالا قانون کس طرح انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی وجہ بن رہا ہے ۔ اےمنسٹی انٹر نےشنل نے اسے فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کررکھا ہے ۔ مذکورہ رپورٹ بارے معلوم ہواہے کہ یہ زےر ِحراست افراد کے مقدمات سے متعلق انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کئی ثبوت فراہم کرتی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بالا رپورٹ مےں ;808365;کی دفعات لگا کر قائم کئے گئے اےسے71 مقدمات کاتفصیلی جائزہ لیاگےا ہے جن مےں کشمیریوں کو ;82;evolving-door detention کی پالیسی کا استعمال کرتے ہوئے کبھی اےک ہی مقدمے مےں بار بار ےا مختلف الزامات کے تحت الگ الگ مقدمات مےں گرفتارکیا جاتارہا ہے ۔ اس جائزہ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ 90فیصد مقدمات مےں گرفتار افراد کواےک ہی الزام مےں پی ایس اے اور فوجداری مقدمات کا بےک وقت سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اےمنسٹی انٹر نےشنل کےلئے یہ تحقیقاتی رپورٹ تےار کرنےوالے ظہور وانی کا کہنا ہے کہ مقامی وکیلوں کےساتھ کی جانےوالی بات چیت سے معلوم ہوا ہے کہ ریاستی پولیس زےرِ حراست کشمیریوں کےخلاف ;808365;کی دفعات لگا کر مقدمات چلانے کو ترجیح دےتی ہے اوران کےخلاف فوجداری مقدمات کی حماےت نہیں کرتی کیونکہ فوجداری مقدمات مےں ملزم کےخلاف پےش کئے جانےوالے ثبوت کےلئے اعلیٰ اور بےن الاقوامی معےار کو ےقینی بنانا ضروری ہوتا ہے اور یہ بھی کہ فوجداری مقدمات مےں اس بات کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ ملزم اس وقت تک معصوم گردانا جاتا ہے جب تک کہ اسکا جرم ثابت نہ ہو جائے ۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ2018مےں ;808365; مےں کی گئی ترمیم کی وجہ سے زےرِ حراست افراد کو انکے گھروں سے دوردراز جےلوں مےں قےد کیا جاتا ہے جو انسانی حقوق کے عالمی معےار کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔ اسی طرح یہاں یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کشمیریوں کی غےر قانونی حراستوں کو تو منسوخ کرتی رہتی ہے لےکن اس کالے قانون کے تحت انتظامیہ اور بھارتی پولیس کو حاصل کھلی چھوٹ کے معاملے مےں کچھ نہیں کر پاتی ۔ اےمنسٹی انٹر نےشنل کی مذکورہ رپورٹ مےں مقبوضہ جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو کئی سفارشات بھی دی گئی ہےں اسے فوری منسوخ کرنے کے مطالبے کے علاوہ کہا گیا ہے کہ انتظامی حراست مےں لئے گئے تمام افراد کی جلد از جلد رہائی کو بھی ےقینی بناےا جائے،غیر قانونی زےرِ حراست افرادکے نقصانات کی مکمل تلافی کی جائے، دورانِ حراست ان پر کئے گئے غےر انسانی تشدد اور بدسلوکی کی فوری، شفاف اور آزاد تحقیقات کرائی جائے اورانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنےوالوں کو قانون کے کٹہرے مےں لایا جائے ۔ رپورٹ کے آخر مےں کہا گےا ہے کہ مقبوضہ وادی کی انتظامیہ کوان تمام سفارشات پر عمل درآمد کرنے کےلئے ماضی سے باہر آنا ہو گا اور کشمیریوں پر یہ ثابت کرنا ہو گا کہ انکے بنیادی انسانی معنی رکھتے ہےں ۔ یورپی پالیمارن کے وہ ممبران جنہوں نے پاکستان کو مخاطب کیا ہے اگر ان کے ضمیرمردہ نہیں ہوگئے تو بھارت جا کر مسلمانوں اور دلتوں کی کسمپرسی کا جائزہ لیں کہ وہاں انسانی جان کی حرمت کے مقابلے میں ایک گائے کی حرمت کس طرح زیادہ ہے ۔ اگر یقین نہیں آتا تو وہاں جا کر کسی آوارہ پھرتی گائے کو ذبح کرنے کی بات کر کے دیکھیں ،پھر دیکھیں کہ کس طرح ہندوانتہا پسند ان کی جان کو آتے ہیں ۔