- الإعلانات -

کشمیر اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ(2)

گزشتہ سے پیوستہ

مسلمان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک ہوتا ہے ۔ مسلمان سرکاری نوکری نہ ملنے پر چھاپڑی ،دکان اور چھوٹاموٹا کارخانہ لگاتے تو مذہبی ہنگامے کرواکر مسلمانوں کے کاروبار کو خاکستر کر دیا جاتا ہے ۔ کشمیر میں تو سفاک بھارت کی نسل پرست فوج کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے ۔ پہلے کشمیری نوجوان کو گرفتار کرتے ہیں ۔ مسنگ پرسن قرار دے دیتے ہیں ۔ ازیتیں دے دے کر قتل کر دیتے ہیں ۔ پھر جھوٹا انکاءونٹر ظاہر کرکے لاش ویرانے میں پھینک دیتے ہیں ۔ اگر وادیوں کی تلاش میں گھر گھر کی تلاشی لیتے ہیں ۔ گھروں کا گھیراءو کر کے عورتوں کے ساتھ زیادتیاں کرتے ہیں ۔ اب تک دس ہزار سے زائد کشمیریوں بے گناہ محصوم عورتوں کی اجتماعی آبروزیزی کرچکے ہیں ۔ ہزاروں نوجوانوں کو غائب کر دیا ہے جسے عام زبان میں مسنگ پرسن کہتے ہیں ۔ کشمیر میں درجنوں اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں ۔ ہزاروں کشمیری بھارت کی جیلوں میں سٹر رہے ہیں ۔ جیلوں سے جوکشمیری رہا ہوئے، ان کو عبرت بنا کر زندہ لاشیں بنا کر چھوڑاجاتا، تا کہ باقی کشمیری نوجوان خوف زدہ ہو کر اپنی آزادی کے نعرے نہ لگائیں ۔ ۷۴۹۱ء کے بعدایک لاکھ کشمیری شہید کر دیے گئے ۔ اس سے قبل مہاراہہ کی غلامی کے دوران پانچ لاکھ کشمیری شہید کیے گئے ۔ کشمیر شہیدوں کے قبرستانوں سے بھر گیا ہے ۔ آزادی کی بات کرنے والے کئی کشمیری سیاسی لیڈروں کو شہید کر دیا گیا ۔ سیاسی لیڈروں کو آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی رہبری سے روک کر جیل ڈال دیا جاتا ہے یاہاءوس اریسٹ رکھا جاتا ہے ۔ کشمیری لیڈرشبیر شاہ کو دنیا نے ضمیر کا قیدی مانا ۔ کالج کی بچیاں جب آزادی کے مظاہروں میں شریک ہوتی ہیں تو ان کو گرفتار کر کے ان کی چوٹیاں کاٹی جاتی ہیں ۔ کشمیری نوجوان کو فوجی جیب کے بونٹ سے باندھا جاتا ہے کہ پتھر اس پر پڑھیں اور بھارت فوجی سورما بچے رہیں ۔ کشمیریوں پر بلیٹ گنیں چلا کر کشمیریوں اندھا کیا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں کی زرعی زمینوں ، پھلوں کے باغوں اور دوکانوں پر گن پاءوڈر چھڑک کر خاکستر کر دیا جاتا ہے ۔ مکانوں میں باردو رکھ کر انہیں اُڑا دیا جاتا ہے ۔ ظلم کی ایک لمبی داستان ہے کتنی بیان کی جائے ۔ دنیا کی آزادی کی تاریخوں کا اگر مطالعہ کیا جائے تو کشمیری پر بھارتی قوم پرست فوجیوں کے مظالم سر فہرست ہو ں گے ۔ کسی بھی صحافی اور انسانی حقوق کی تنظیم کو کشمیر میں داخل ہی نہیں ہونے دیا جاتا ۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھارتی فوجیوں کے کچھ مظالم کے واقعات اپنی رپورٹ میں آشکار کیے ہیں ۔ جس کو ساری انصاف پسنددنیا نے ظلم مانا ہے ۔ مگر بھارت تو حکومتی سطح پر کشمیریوں کو ہمیشہ غلام رکھنے کے بھارتی آئین کی اسپیشل دفعہ ۰۷۳ اور۵۳a ،جس کے تحت کشمیر میں کوئی غیر کشمیری جائیداد نہیں خرید سکتا، اے ختم کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے ۔ تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق، پاکستان مسئلہ کشمیر کا تیسرا فریق ہے ۔ کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ ان حالات میں کشمیر کے مسئلہ کا صرف ایک ہی حل ہے ۔ وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ کشمیر کے مسلمان ذبح کیے جارہے ہیں ۔ اس لیے ان کی مدد کرنا مسلمانوں کا مذہبی بھی فریضہ ہے ۔ پاکستان کی حکومت کو بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان کرنا چاہیے ۔ علماء قرآن و حدیث کی روشنی میں حکومت کی تائید کرنے کا اعلان کریں ۔ کیا دنیا کا کوئی قانون اس کی اجازت دیتا کی ایک قوم کسی قوم کو ختم کرنے کا اعلان کرے اور دوسری قوم اس کے سامنے اپنے سر رکھ دے کہ آءو اور ہ میں ختم کر دو ۔ اگر ایسا نہیں ہے اور یقینا نہیں ،تو پاکستان کو بھارت کے خلاف اپنے دین کے مطابق جہاد فی سبیل اللہ کا عام کا اعلان کر دینا چاہیے ۔ سسک سسک کر مرنے سے بہتر کہ میدان جہاد میں جان دے دی جائے ۔ ورنہ بھارت کشمیر تو کجا، قوم پرست ہندو، پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت بنانے کے اپنے پرانے منصوبے پر اپناعمل کر کے رہے گا ۔ مودی خود دہشت گرد تنظیم ،انتہاپسند،قوم پرست آر ایس ایس تنظیم کا بنیادی رکن ہے ۔ مودی نے الیکشن مہم کے دوران بھارت عوام میں پاکستان سے جنگ کا سماں پیدا کیا ۔ پاکستان کو سبق سکھانے کے منشور پر الیکشن جیت کر اقتدار میں آیا ہے ۔ مودی حکومت کوآر ایس ایس اور دوسری ہندو انتہا پسندوں کی حمایت حاصل ہے ۔ سیاسی محاذ پر،پاکستان کے وزیر اعظم کو مودی سے بار بار امن کی درخواست کرنے کے بجائے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے ۔ جب تک بھارت کشمیر کو متنازعہ مسئلہ تسلیم نہیں کرتا مذ اکرات کی بات نہیں کرنا چاہیے ۔ بھارت کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف نہرو ۔ لیاقت معاہدے کے بات کرنی چاہیے ۔ ہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے ۔ بھارت گلگت اور بلوچستان میں کھلے عام دہشت گردی کرو ارہا ہے ۔ اپنی عوام کو اعتماد میں لے کرکشمیر میں جاری تکمیل پاکستان کی تحریک کی مکمل پشتہ بانی کرنی چاہیے ۔ پاکستان اور کشمیر کے عوام ایمنسٹی انٹرنیشنل کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس تنظیم نے اپنا انسانیت دوست منشور کے مطابق کشمیر میں بھارت کے مظالم کو مہذب دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ کشمیر کے مظالم ایک نہ ایک ضرور ختم ہونگے اور کشمیری آزادی کا سانس لیں گے ۔ انشاء اللہ ۔