- الإعلانات -

پولیس نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے

ملک میں ڈکیتیاں ہو رہی ہیں ،لوگ گلے کاٹ رہے ہیں ،پولیس کہاں ہے;238;ملک بھر میں پولیس نظام فلاپ ہو چکا ۔ سب نہیں زیادہ تر پولیس اہلکار رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں ،پولیس اور سرکاری افسران تنخواہ الگ لیتے ہیں اور عوام سے الگ لیتے ہیں ،سرکاری افسران دفاتر میں بیٹھ کر حرام کھا رہے ہیں ،بھاری تنخواہیں لیکر بھی دو نمبریاں کی جاتی ہیں ،صرف اس بات کی فکر ہے کہ اپنے الاوَنس کیسے بڑھانا ہیں ،ملک میں پولیس نام کی کوئی چیز نہیں ،پولیس آخر ایسا کیا کر رہی ہے جو تنخواہ بڑھائی جائے;238;یہ ریمارکس سپریم کورٹ کے معزز جسٹس گلزار احمد نے پنجاب کے ٹریفک وارڈنز کی تنخواہوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دئیے ۔ معزز جسٹس صاحبان عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہیں جو کہ روٹین کی بات ہے ،ریمارکس کو ہم فیصلہ نہیں کہ سکتے ،ریمارکس اور فیصلے میں فرق ہوتا ہے مگر میرے آج قلم اٹھانے کی وجہ جسٹس گلزار احمد کے ریمارکس نہیں بلکہ انکے ریمارکس کے نتیجے میں آنے والا ردعمل ہے ۔ سوشل میڈیا پر بے ہنگم اور کھلے عام توہین عدالت کی جار ہی ہے،معلوم نہیں ایف آئی اے کا سائبر کرائم سیل کیا کر رہا ہے ۔ اگر ایف آئی اے کا سائبر کرائم کچھ کر رہا ہوتا تو آج کسی میں جرات نہ ہوتی کہ کوئی توہین عدالت کر سکتا ۔ سوشل میڈیا پر جب پولیس کو قوم کا مسیحا بنا کر پیش کرتے دیکھا تو سوچا کہ ان عناصر کو جواب دیا جائے جو کسی نہ کسی آڑ میں اپنے پرانے زخموں کا حساب چکتاکرنے کی کوشش میں ہر دم مصروف عمل رہتے ہیں ۔ 2014ء میں اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو ایک درخواست دی گئی جو کہ فارورڈ ہو کر تھانہ کوہسار میں ایس ایچ او کے پاس آگئی ۔ اس وقت ایس ایچ او عابد تعینات تھے ۔ ایس ایچ او نے تمام ضروری کارروائی اور تفتیش کر کے اس وقت کے تفتیشی اے ایس آئی رئیس کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ۔ اے ایس آئی رئیس نے ایف آئی آر کے اندراج کیلئے بلیو ایریا کے کسی ہوٹل میں کھانا کھانے کی شرط رکھ دی،سائل نے بلیو ایریا کے ہوٹل میں اے ایس آئی رئیس کو کھانا کھلایاجس کے بعد اے ایس آئی رئیس نے بتایا کہ وہ جائے وقوعہ پر گیا ہے اور حالات و اقعات کا جائزہ لیا ہے ،درخواست درست ہے اس لیے جلد ہی ایف آئی آر درج کر دی جائیگی ۔ چند دن بعد ایف آئی آر درج ہوتی ہے جس کا نمبر296;47;14تھا مگر نامزد ملزمان گرفتار نہیں کیے جاتے ۔ سائل کے ہر دوسرے دن معلوم کرنے کے باوجود اے ایس آئی رئیس نامزد ملزمان کو گرفتار نہیں کرتا اور پھر چند ماہ بعد بغیر کسی وجہ ایف آئی آر کا اخراج بنا کر ڈی ایس پی کو فارورڈ کر دیتا ہے جہاں سے اعتراض لگ کر واپس درخواست تھانے آجاتی ہے،سائل کے معلوم کرنے پر رئیس اے ایس آئی نے کہا کہ آپ کی ایف آئی آر خارج کر دی گئی ہے،اگر من و عن رئیس کے الفاظ بیان کیے جائیں تو یہ تھے کہ اوپر سے بہت پریشر تھا جس کے باعث ایف آئی آر خارج کر دی ۔ سائل نے ڈی ایس پی اشرف شاہ کو ایف آئی آر کی بحالی کی درخواست دی،مگر جلد ہی ڈی ایس پی اشرف شاہ کی تحقیقات سے اندازہ ہو گیا کہ اس تحقیقات کی سمت درست نہیں جس پر سائل نے اعظم تیموری صاحب کے جو کہ اس وقت ڈی آئی جی تھے کو درخواست دی اور کہا گیاکہ برائے مہربانی اس سارے معاملے کی کسی سی ایس پی آفیسر سے انکوائری کرائی جائے تاکہ انصاف ہوسکے،معاملہ اس وقت کے ایس پی رضوان گوندل کو ریفر کر دیا گیا مگر رضوان گوندل نے ڈی ایس پی اشرف شاہ سے ہی انکوائری کرائی جس پر تمام ملزمان کو باعزت بری کرنے کا پروانہ درج تھا،بہر حال کیس عدالت میں چلا اور پھر وہاں سے بھی خارج ہو گیا کیونکہ ڈی ایس پی کی انکوائری جو شامل تھی،رئیس کی تبدیلی کے بعد یہ معاملہ تھانہ کوہسار کے دو تین تفتیشی افسران کے پاس رہا جن میں دو کے الفاظ یہ تھے کہ پیسہ بہت چلا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ انصاف نہیں ہو رہا مگر ڈی ایس پی کی انکوائری کو ہم چیلنج نہیں کر سکتے ۔ اور پھر اس طرح سائل کو انصاف نہیں ملا اور شائد چند روپوں کی خاطر انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا ۔ تھانہ کوہسار کے ہی ایک دوسرے واقعے میں تفتیشی اے ایس آئی منشا کو دو درخواستیں دی گئیں مگر اے ایس آئی منشا نے دونوں پر کارروائی نہیں کی اور من پسند پارٹی کو عدالت جانے کا مشورہ دیا جس پر ایک پارٹی عدالت چلی گئی جو کہ اسکا حق تھا مگر اے ایس آئی منشا نے عدالت کو غلط بیانی کی جس پر دوسری پارٹی کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کا عدالتی حکم آگیا ۔ اے ایس آئی منشا کو چاہئے تھا کہ وہ دوسری پارٹی کو بھی آگاہ کرتا کہ دوسری پارٹی عدالت میں ہے آپ اپنے ثبوت پیش کریں تاکہ عدالت کو حقائق سے آگاہ کیا جا سکے مگر ایسا تو تب کیا جاتا کہ اگر نیت صاف ہوتی اور انصاف فراہم کرنا مقصود ہوتا ۔ جس پارٹی کیخلاف ایف آئی آر درج کی گئی اس سے کھانے کے نام پر الگ پیسے لیے جاتے رہے،دونوں پارٹیوں کا معاملہ آفس سے متعلق تھا مگر ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت مظلوم کو مقدمے میں پھنسا دیا گیا اور طاقتور طبقے کو پھر پیسے کے بلبوتے فتح نصیب ہوئی ۔ ایسے ان گنت واقعات روز مرہ تھانوں میں انصاف کے حصول کیلئے جانیوالوں کیساتھ پیش آرہے ہیں جن کو درج کیا جانے لگے تو کتابوں کی کتابیں لکھی جائیں ، نیب اور آئی جی آفس کو چاہئے کہ اے ایس آئی رئیس اور منشا کے اثاثوں کی جانچ پڑتا ل کی جائے اور انکی اور انکے اہلخانہ کے نام جو جو پراپرٹی ہے کا حساب مانگا جائے اور اگر کچھ گڑ بڑ نکلتی ہے تو پھر دونوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا جائے تاکہ دوسروں کو کچھ نصیحت ہو سکے ۔ محکمہ اینٹی کرپشن کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ پولیس میں سی ایس پی کیڈر کے افسران اخلاقیات اور قانون کی عملداری پر عمل کرتے ہیں مگر نچلی سطح پر پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ہر روز انصاف کا قتل ہو رہا ہے اور مظلوم کیساتھ نئی نئی ظلم کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں ۔ لہٰذا سپریم کورٹ کے معزز جسٹس گلزار نے پولیس کے بارے بالکل درست ریمارکس دئیے ہیں کیونکہ ایف آئی آر سے تفتیش تک پولیس کا نچلہ طبقہ ہی عام سائلین کو ڈیل کرتا ہے اور یہیں پر سب کچھ طے ہو جاتا ہے ۔ مظلوم اور ظالم دونوں ہی پولیس کی نظر میں برابر ہوتے ہیں دونوں سے ہی مال پانی لیا جاتا ہے ۔ تمام پولیس ملازمین ہی خراب نہیں مگر تفتیشی افسران کی سطح پر متعدد افسران کرپٹ اور بہت کم افسران خداترس ،نیک اور قانون پر عمل کرتے ہوئے انصاف فراہم کرنے کی روش اپنائے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس لیے جو پولیس کے حق میں توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور اس ضمن میں الٹی سیدھی پوسٹیں اپ لوڈ کر رہے ہیں برائے مہربانی عدالتوں کے باہر جا کر مقدمات میں پھنسے لوگوں سے پولیس رویے بارے معلومات لیں سب پتا چل جائیگا کہ پولیس سائلین کیساتھ کیا کر رہی ہے ۔