- الإعلانات -

بھارتی فوج کی دہشت گردی اور کشمیریوں کی شہادتیں

مقبوضہ کشمیر کے ضلع اسلام آباد میں بھارتی فوجیوں نے تلاشی اور سرچ آپریشن کی آڑ میں اندھا دھند فائرنگ کر تے ہوئے دو نوجوان کشمیریوں کو شہید کر دیا ۔ اسی کے ساتھ ہی وادی چنار میں قابض بھارتی فوج کے تین فوجیوں نے خود کشی بھی کر لی ۔ دو فوجیوں نے خود کشی ڈیوٹی کے دوران کی جبکہ ایک نے بیوی کو گولی مارنے کے بعد خود کشی کی ۔ راشٹریہ راءفلز کے چھوٹو کمار نے کپواڑہ میں خود کشی کی جس کی عمر صرف 24 سال تھی ۔ مقبوضہ وادی میں تشدد کی نئی لہر بھارت اور اس کی فوج کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے ۔ مقبوضہ وادی بغاوت کا منظر پیش کررہی ہے مگر عالمی برادری ٹس سے مس نہیں ہورہی ۔ ریاستی دہشت گردی کے ذریعہ بھارت یہاں ہماری تہذیب’ کلچر’ دین’ ایمان اور اخلاق کو ملیامیٹ کرنے پر اتر آیا ہے ۔ وہ یہاں ہندو راشٹر کا منصوبہ مسلط کرنا چاہتا ہے لیکن آخری کشمیری کی موجودگی تک ایسا نہیں ہوسکے گا ۔ بدقسمتی سے چھ لاکھ کشمیریوں کی قربانیوں ’ 6سو شہدا کے مزار’ 7ہزار خواتین ہماری ماؤں ’ بیٹیوں کی عزتوں کی تذلیل بھی عالمی برادری کی خاموشی کو نہیں توڑ سکی ۔ کیا یہ عمل اور امر مجرمانہ اور انسانیت سے عاری ہے ۔ عالمی پالیسیاں مادیت سے مشروط ہیں انہیں اپنے مفادات عزیز ہیں لیکن انہیں فلسطین’ کشمیر اور افغانستان میں بہنے والے خون سے کوئی غرض نہیں ۔ عالمی قوتیں عالم اسلام کو تہہ و بالا کرنے کیلئے سرگرم ہیں ۔ ایک شام میں 3 لاکھ لوگ شہید کردیئے گئے ’ 10 لاکھ مہاجر بن گئے لیکن عالمی ضمیر حرکت میں نہیں آیا ۔ اس وقت تحریک حریت کے ہزارو ں افراد جیلوں میں بند ہیں ۔ جموں کی جیلوں میں ان پر تشدد کے ذریعہ ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے ۔ جدوجہد کرنے والوں کے گھر اور کاروبار تباہ کئے جا رہے ہیں ۔ ممتاز کشمیری لیڈر عبدالغنی بھٹ کا کارخانہ تباہ کردیا گیا ہے ۔ نریندر مودی ہندو فاشسٹ ہے اور اس سے خیر کی امید نہیں رکھنی چاہیے ۔ وہ دنیا میں گیتا کی کتابیں تقسیم کرتا پھررہا ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر پر نہ پڑے ۔ کشمیری قربانیوں کی تاریخ رقم کرکے اپنا پیغام دنیا کو دے چکے ہیں ۔ ہمارے لئے زندگی موت آزادی ہے اور آزادی کے بغیر جینے کا تصور نہیں کرسکتے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی مسلح افواج میں خود کشی کرنے والے جوانوں کی تعداد کے حوالے سے بھارت پہلا ملک بن گیا ہے ۔ بھارتی وزارت دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق خود کشی کے سب سے زیادہ واقعات بھارتی فوج میں رونما ہوتے ہیں جہاں ایک دہائی میں ایک ہزار سے زیادہ فوجیوں نے خودکشی کی ہے ۔ 2012 میں ہی فوج کے 26 جوان خود کشی کر چکے ہیں ۔ بھارتی فوج میں خود کشی کے رحجان پر 2010 ء میں وزارت دفاع سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لئے بیرونی ماہرین کی خدمات لینے کی صلاح دی تھی، لیکن نو سال گزرنے کے بعد بھی اس پر عمل ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ فوج میں 33 ماہرین نفسیات کی تقرری کی تجویز بھی فائلوں میں ہی ہے ۔ بھارتی فوجیوں میں خودکشی کے علاوہ اپنے رفقاء کار کے ساتھ جھگڑوں میں انہیں ہلاک زخمی کرنے کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے جبکہ افسروں کے ساتھ ان کالڑنا جھگڑنا بھی معمول بن گیا ہے ۔ دور افتادہ علاقوں میں تعینات فوجیوں میں نفسیاتی تناوَ زیادہ پایا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے اہل خانہ پر توجہ دینے سے قطعی قاصر ہوتے ہیں ۔ ان کی پریشانی میں کم تنخواہیں ، بنیادی سہولتیں کا فقدان اور بعض اوقات افسروں کی طرف سے توہین بھی شامل ہے ۔ جموں کشمیر میں جاری مسلسل طویل اور تھکا دینے والی جنگ سے بھارتی فوجی سخت ذہنی تناوَ اور ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں ۔ انہیں سخت ڈیوٹی کرنا پڑ تی ہے اورلمبے عرصہ تک گھر جانے کیلئے چھٹی بھی نہیں ملتی جس سے لڑائی جھگڑوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ ہندوبنئے کاجنگی جنون صرف ہمسایہ ممالک کے لیے ہی نہیں بلکہ خود اس کی اپنی قوم کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہورہاہے ۔ اسلحے پر اور دفاع پر خرچ کیے جانے والی رقم اگر بھارتی عوام کے معیارزندگی کی بڑھوتری پر خرچ کی جائے تو بلامبالغہ دودھ کی نہریں بہنے لگیں لیکن برہمنیت نے مسلمان دشمنی میں پورے برصغیرکوگرم تندورکی طرح دہکا دیا ہے ۔ بھارت کا اس خطے کے بڑاملک ہونے کایہ مطلب نہیں کہ باقی ممالک اپنے جمہوری حق وجودسے دستبردار ہوجائیں ۔ بھارتی حکومت کی خطے میں بالادستی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوپائے گا ۔