- الإعلانات -

آصف زرداری اوراسدعمرکاقومی اسمبلی سے خطاب۔۔۔قابل غور

حکومت اور اپوزیشن میں معاملات طے ہونے کے بعد حکومت نے آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈرجاری کئے اور وہ قومی اسمبلی میں انتہائی دبنگ انداز میں داخل ہوئے اس کے بعد جب انہوں نے تقریر شروع کی تو اس سے محسوس ہوتاتھا کہ پیپلزپارٹی اب باقاعدہ طورپر سیاست میں عملی طورپرکچھ کرناچاہتی ہے ،ساتھ ہی انہوں نے نون لیگ کی طرح حکومت کو میثاق معیشت کی بھی پیشکش کی ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کے ساتھ بیٹھ کرمعاشی پالیسی پر بات کرنے کو تیار ہیں پکڑ دھکڑ اورحساب کتاب بند کرکے آگے کی بات کریں ، ہماری حکومت نے کسی سیاستدان کو نہیں پکڑاتھا،میرے پکڑ ے جانے سے اس پارٹی کو کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ پارٹی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگی ۔ آصف علی زرداری نے نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی ہرانڈسٹری کے بڑے بڑے اشتہار آرہے ہیں کہ ہ میں بچاءو، اگر اچھابجٹ ہے اور آئی ایم ایف سے پیسے مل رہے ہیں تو لوگ کیوں رو رہے ہیں جس کامطلب یہ ہے کہ کچھ نہ کچھ تومعاملہ ہے ، حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں لیکن اس کے ساتھ ہی ٹیکس بھی عائد کردیا اسی وجہ سے سرمایہ کار بھی خوفزدہ ہیں ۔ انہوں نے حکومت کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کونکالنے کے لئے سیاسی قوتوں کوآگے آنا ہوگا اگرایسا نہ ہوا تو کوئی اورآئے گا یہاں پر ہم یہ ضرور کہیں گے کہ آصف علی زرداری کی اس ملک میں پہلی حکومت تھی جس نے اپنے پانچ سال کادورانیہ پورا کرکے ایک تاریخ رقم کی وہ کس طرح دورانیہ پورا کیاگیا وہ ایک علیحدہ اورطویل کہانی ہے لیکن ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس سے پارلیمانی نظام کو تقویت ملی،اس کے بعد آنے والی حکومتیں وقت سے قبل ہی روانہ ہوتی رہیں اب آصف علی زرداری کے منہ سے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ کوئی اورآئے گا ،اس کی آخر کیاوجہ ہے کیا وہ جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی جانب جاناچاہتے ہیں جتنے وہ سینئراورتجربہ کار سیاستدان ہیں انہیں یہ بات کرنازیب نہیں دیتی ۔ پارلیمان میں رہتے ہوئے پارلیمان میں ہی مسائل کوحل کیاجاناچاہیے کوئی اورآنے کامطلب کیا وہ اندرون خانہ کسی کودعوت دے رہے ہیں ،کوئی عندیہ دے رہے ہیں ، ایسے میں سیاسی جماعتوں کامتحد ہوناضروری ہے ۔ جہاں تک بجٹ کامسئلہ ہے تو ا پوزیشن کی سوئی ابھی تک ایک ہی جگہ پر اَڑی ہوئی ہے جبکہ وزیراعظم پاکستان اپنی جگہ پرعزم مصمم کی طرح پختہ قدموں سے ڈٹے ہوئے ہیں اب اس میں نقصان کس کاہورہاہے متاثر تو عوام ہورہی ہے روزانہ لاکھوں روپے کے اخراجات پرمشتمل قومی اسمبلی کے اجلاس ہوتے ہیں تقاریر ہوتی ہیں ، نشستاً برخاستاً ہوتاہے مگرحاصل حصول کچھ نہیں ہوتا یہ سب کچھ عوام کے ٹیکسوں کی مد میں دیئے گئے پیسوں سے ہی ممکن ہے لہٰذا نقصان عوام کاہی ہورہاہے ۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے زرداری نے کہاکہ مجھ پرجتنے مقدمات چلانے ہیں چلائیں لیکن 80سال کے بزرگوں کاخیال رکھیں میری خیر ہے پاکستان کاخیال رکھیں ، اِدھردوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیرخزانہ اسدعمرنے اپنی ہی حکومت کے بجٹ پرتحفظات کا اظہارکردیاہے اورنظرثانی کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ چینی خوردنی تیل پرٹیکس ،چھوٹی گاڑیوں پرایف ای ڈی کوواپس لیاجائے، یوریاکھاد کی بوری پرجی آئی ڈی سی ختم کرکے اسے چارسو روپے فی بوری سستا کیاجائے ،ای او بی آئی کی پنشن میں دس سے پندرہ فیصد مزید اضافہ کیاجائے ،بھٹہ مزدوروں ، گھریلوملازمین کورجسٹرڈ کیاجائے ،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مزدوروں کے لئے پچاس ہزارگھربنانے اورنئی سرمایہ کاری کرنے والوں کو پانچ سال کے لئے کم ازکم ٹیکس سے استثنیٰ دیاجائے، تحقیقات کی جائیں کہ چینی کی قیمت میں مسلسل کیوں اضافہ ہورہاہے ۔ اسدعمرکی بات بھی انتہائی قابل غورہے جبکہ حکومت کا اپنا ہی وزیر جس کو عمران خان حکومت بننے سے قبل شیڈووزیرخزانہ کہتے تھے اس کی اہلیت پرانتہائی اعتباربھی تھا لیکن نتاءج برآمدنہ ہونے پرتبدیل کردیاگیا آج وہی سابقہ وزیراپنی حکومت کوآڑے ہاتھوں لے رہاہے آخر بجٹ میں کچھ نہ کچھ تو خامیاں ہیں جس کی وجہ سے تحریک انصاف کے اندر سے بھی آوازیں اٹھناشروع ہوگئی ہیں اگراس جانب توجہ نہ دی گئی تو یہ آوازیں مزیدمتحدہوکربجٹ پاس ہونے میں مشکل پیداکرسکتی ہیں ۔

آزادکشمیر میں سیاحت کوفروغ دینے کی ضرورت

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ;200;زاد جموں و کشمیر کے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر اجلاس ہوا ۔ سیاحت کے فروغ اور دیگر اہم امور پر بھی غور کیا گیا ۔ وزیراعظم ;200;زادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اٹھانے پر عمران خان کا شکریہ ادا کیا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ;200;زاد جموں وکشمیر کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں ۔ اِدھروزیر اعظم عمران خان نے کاروباری برادری کے نمائندگان سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک میں کاروباری سرگرمیوں کا فروغ اور مینوفیکچرنگ شعبہ کی ترویج حکومت کی اولین ترجیح ہے، معاشی مشکلات پر قابو پانے اور معیشت کے استحکام کیلئے حکومت اور کاروباری برادری کے مابین موثر اشتراک کی ضرورت ہے ۔ کاروباری برادری کے نمائندگان نے حکومت کی جانب سے جاری معاشی اصلاحات پر تجاویز پیش کیں ۔ بزنس کمیونٹی کے نمائندگان نے کہا کہ معاشی اصلاحات کے عمل میں کاروباری برادری حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور معاشی اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے میں مکمل تعاون کرے گی ۔

سپریم کورٹ کے سندھ حکومت اورپنجاب پولیس بارے ریمارکس

سپریم کورٹ میں پنجاب کے ٹریفک وارڈنز کی تنخواہوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو جسٹس گلزاراحمد نے پنجاب کے سیکرٹری خزانہ اور ;200;ئی جی پر اظہار برہمی کیا ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پورے ملک میں پولیس کا نظام فلاپ ہوچکا ہے، ملک میں پولیس نام کی کوئی چیز نہیں ، پولیس ;200;خر ایسا کیا کر رہی ہے جو تنخواہ بڑھائی جائے;238;، سرکاری افسران دفاتر میں بیٹھ کر حرام کھا رہے ہیں ، بھاری تنخواہیں لیکر بھی دو نمبریاں کی جاتی ہیں ، صرف اس بات کی فکر ہے کہ اپنے الاءونس کیسے بڑھانا ہیں ، ملک میں ڈکیتیاں ہو رہی ہیں ، لوگ گلے کاٹ رہے ہیں پولیس کہاں ہے;238; سب نہیں زیادہ تر پولیس اہلکار رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں ، پولیس اور سرکاری افسران تنخواہ الگ لیتے ہیں اور عوام سے الگ لیتے ہیں ۔ سکھر پریس کلب مسمار کرنے کے خلاف کیس کی سماعت میں جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہر لحاظ سے کرپٹ ترین صوبہ ہے، جس کا ہر محکمہ ہر شعبہ ہی کرپٹ ہے، بدقسمتی سے وہاں عوام کیلئے کچھ نہیں ہے اور صوبائی بجٹ کا ایک روپیہ بھی عوام پر خرچ نہیں ہوتا، لاڑکانہ میں ایچ ;200;ئی وی کی صورتحال دیکھیں ، دیکھتے دیکھتے پورا لاڑکانہ ایچ ;200;ئی وی پازیٹو ہوجائے گا ۔ سکھر شہر میں بجلی ہے نہ پانی، شہریوں کے پاس پینے کیلئے پانی ہے نہ واش روم کیلئے، یہ گرم ترین شہر ہے لیکن عوام کثیر منزلہ عمارتوں میں رہتے ہیں ، شہر کی ایسی تیسی کردی گئی ہے، گرم شہروں میں کثیر منزلہ عمارتیں نہیں بن سکتیں ، وہاں کے میئر صاحب کثیر منزلہ عمارتیں گراتے کیوں نہیں ہیں ;238; ۔ پارکوں میں کوئی بزنس یا کاروبار نہیں چلنے دینگے، پارک ہر صورت خالی چاہئیں ۔