- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی کوشش

بی جے پی نے اس مرتبہ بھی الیکشن جیتنے کےلئے پاکستان و مسلم دشمنی کو اپنے منشور کا حصہ بنایا ۔ انہی خطوط پر لوک سبھا میں اکثریتی پارٹی کے طورپر ابھر کر سامنے آئی ۔ انتہا پسند ہندوجہاں بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو اپنی پریشانی کا سبب گردانتے ہیں وہیں کشمیر کی خصوصی حیثیت اور مسلمان آبادی کی اکثریت ہر وقت انہیں بے چین رکھتی ہے ۔ سابقہ روایات کے عین مطابق بی جے پی کے صدر امت شاہ نے الیکشن سے قبل ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ آنے والی مودی حکومت جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو سال 2020 تک ختم کرے گی ۔ بھارتی آئین کی ان دفعات کے خاتمے کے لئے بی جے پی عوام کے سامنے وعدہ بند ہے ۔ دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی جن سنگھ اور پھر بی جے پی کے منشور میں سال 1950 سے ہی شامل ہے ۔ ان کا کہنا ہے تھا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ مودی حکومت واحد ایسی حکومت ہے جس نے وادی میں گذشتہ تین دہائیوں کے دوران سب سے زیادہ جنگجو مارے ۔ بی جے پی حکومت نے علیحدگی پسند جماعتوں و جنگجو تنظیموں پر نکیل کسنے کے علاوہ پاکستان کو الگ تھلگ کردیا ۔ ایئر سٹرائیک کے بعد پوری دنیا بھارت کے ساتھ کھڑی رہی ۔ کشمیر کو لیکر پاکستان آج پوری دنیا میں الگ تھلگ ہوگیا ۔ شاید امت شاہ جنوری فروری میں پلوامہ سے لے کر ابھی نندن کی بھارت حوالگی تک کے سفر میں دنیا میں بھارتی رسوائی کو بھول گئے ہیں ۔ کشمیر کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ کشمیری نوجوانوں کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے کشمیر میں امن درکار ہے ۔ علیحدگی پسند جماعتوں اور پاکستان سپانسرڈ تنظیموں نے کشمیری نوجوانوں کے مستقبل کے لئے شروع کی گئی اسکیموں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا ۔ صرف یہی نہیں بلکہ بی جے پی نے انتخابی منشور میں بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے عوام کے خصوصی حقوق واپس لینے اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کا وعدہ کیا تھا ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی، مقبوضہ کشمیر میں خصوصی آئینی حقوق واپس لینے کے لیے مسلسل کوشش کررہی ہے ۔ جبکہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 35 ;39;اے;39; مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ریاست کے مستقل شہریوں اور ان کے خصوصی حقوق کا تعین کرے ۔ حکمران جماعت نے مقبوضہ کشمیر کی خودمختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے ۔ کشمیری سیاسی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے وسیع پیمانے پر کشیدگی پیدا ہوگی ۔ کشمیر کی نیشنل کانفرنس پارٹی کے صدر فاروق عبداللہ نے انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ انہیں ایسا کرنے دیں اور یہ ہماری آزادی کا راستہ بنائیں گے‘ ۔ ’ وہ غلط ہیں ، ہم اس کے خلاف لڑیں گے‘ ۔ بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 کی شق 35 اے ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی یونین کے اندر خصوصی نیم خودمختار حیثیت دیتی ہے ۔ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خاص مقام حاصل ہے;245; بھارتی آئین کی جو دفعات دیگر ریاستوں پر لاگوہوتی ہیں وہ اس آرٹیکل کے تحت ریاست جموں و کشمیر پر نافذ نہیں کی جا سکتیں ;245;بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی توثیق 1947 میں ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم شیخ عبداللہ نے کی تھی ;245;اس آرٹیکل کے تحت دفاع، مالیات، خارجہ امور اور رسل و رسائل کے علاوہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمنٹ ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر بھارتی قوانین کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی ;245; مذکورہ آرٹیکل کے تحت ریاست جموں و کشمیر کے شہریوں کے لئے جائیداد، شہریت اور بنیادی انسانی حقوق جیسے قوانین عام بھارتی قوانین سے مختلف ہیں چنانچہ بھارت کا کوئی بھی شہری یا بھارتی کارپوریشنز اورنجی اور سرکاری کمپنیاں بھی ریاست جموں و کشمیر کے اندر جائیداد نہیں خرید سکتا ۔ بھارتی سرمایہ کار ریاست جموں و کشمیر کے اندر کوئی تعمیراتی منصوبہ قائم نہیں کر سکتے ۔ بھارتی آئین کے تحت مرکز کسی وقت بھی کسی ریاست میں یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتا ھے ;245;مگر آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت یا پارلیمنٹ یہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی ۔ جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت کے بارے میں عموماً یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اس کے تین خطوں کشمیر وادی ، لداخ اور جموں میں سے صرف ایک خطہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ 2011ء میں کرائی گئی مردم شماری کے اعداد و شمار اس غلط فہمی کو دور کرتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست کے تمام خطے لسانی اور ثقافتی اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ مگر جموں خطہ جو انتظامی لحاظ سے ایک ڈویژن ہے دراصل تین خطوں یعنی جموں (توی ریجن) ، پیر پنچال ، اور چناب وادی میں منقسم ہے ۔ ان میں سے اول الذکر خطہ یعنی جموں توی ریجن میں ہندووَں کی اکثریت ہے جبکہ دیگر دونوں خطوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں ۔ جموں توی کے پانچ اضلاع ادھم پور، سانبھا، ریاسی ، جموں اور کٹھوعہ کی آبادی 33لاکھ سے زیادہ ہے ۔ اس خطہ کے بھی ریاسی ضلع میں ہندو اور مسلمانوں کا تناسب تقریباً برابر ہے ۔ پیر پنچال خطہ راجوری اور پونچھ کے دو اضلا ع پر مشتمل ہے ۔ یہاں مسلمانوں کا تناسب 74;46;52 فیصد ہے ۔ ا سی طرح ایک اور خطہ ہے چناب وادی جو دریائے چناب کے دامن میں بسا ہوا ہے ۔ اس کے تین اضلاع ہیں کشتواڑ، رام بن اور ڈودہ ۔ تینوں اضلاع مسلم اکثریتی ہیں اور اس خطے میں مسلم آبادی کا تناسب 59;46;79 فیصد ہے ۔ لداخ خطہ کے بارے میں سب سے زیادہ غلط فہمی پھیلائی گئی ہے کہ یہ بودھ اکثریتی علاقہ ہے ۔ جو حقیقت کے بالکل برعکس ہے ۔ اس خطہ میں دوا ضلاع لیہ اور کرگل ہیں ۔ تناسب کے اعتبار سے بودھ;46;65 39فی صد اور مسلمان;46;40 46فیصد ہیں ۔ لداخ کے صرف لیہ ضلع میں بودھ آبادی کا تناسب 66 فی صد ہے جبکہ مسلمانوں کا 14 فی صد ۔ کرگل میں مسلمان تقریباً 77فی صد اور بودھ 14فی صد ہیں ۔ اس ضلع کی آبادی لیہ کے مقابلے میں زیادہ ہے ۔ یعنی خطہ کی مجموعی آبادی میں دو لاکھ 74ہزار 289 میں سے مسلمانوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 28ہزار ہے جبکہ بودھوں کی ایک لاکھ 8ہزار ہے ۔ وادی کشمیر کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے ۔ یہاں مسلم آبادی کا تناسب 96;46;4فیصد ہے ۔ ریاست کی جملہ آبادی ایک کروڑ 25لاکھ 41ہزار سے کچھ زیادہ ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 86 لاکھ ہے جبکہ ہندووَں کی 35لاکھ سے زیادہ اور سکھوں کی تقریبا ڈھائی لاکھ اور بودھوں کی ایک لاکھ سے کچھ زیادہ ۔ پاکستان کے آبی وسائل یعنی دریائے چناب اور دریائے سندھ اپنا بیشتر سفر بلترتیب وادی چناب اور کرگل ضلع میں طے کرتے ہیں اور دونوں مسلم اکثریتی علاقہ ہیں ۔ بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں بھرپور مزاحمت کی جا رہی ہے ۔ حریت قیادت کا کہنا ہے مودی سرکاری کو آئین سے آرٹیکل 35 اے ختم نہیں کرنے دیں گے ۔ حریت قیادت سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 35 اے سے چھیڑ خانی ہوئی تو کشمیریوں کا شدید رد عمل ہوگا ۔ 35 اے کو ختم کرنا کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش ہے ، کشمیری ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔ بھارتی آئین کی دفعہ 35 اے کے تحت بھارتی شہریوں کو کشمیر میں زمینیں خریدنے ، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے ، ووٹ ڈالنے اور دوسری سرکاری مراعات کا قانونی حق نہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مقبوضہ وادی میں آرٹیکل 370 اے کے معاملے پر مودی سرکار کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام کشمیریوں کو سوچنے پر مجبور کردے گا کہ بھارت کے ساتھ تعلق رکھنا ہے یا نہیں ۔ اس سے بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان تعلق ختم ہو جائے گا ۔ ادھر بھارت کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم کشمیری نوجوانوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ الیکشن سے قبل مودی حکومت نے سوشل میڈیا پر بھی کریک ڈاوَن کا آغاز کردیا تھا جس کے تحت کشمیری نوجوانوں اور مسلمان پروفیسر کے خلاف ایکشن لیا گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے کہاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سنگھ کی طرف سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 35اے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا واحد مقصد مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے ۔ یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے ۔ یہ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے اور مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے مذموم اقدام کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ بھارتی حکومت کسی نہ کسی بہانے مسئلہ کشمیر کی حیثیت و ہیت کو بگاڑ نے پر تلی ہوئی ہے اور اس کیلئے وہ ہر غیر جمہوری اور غیر انسانی حربہ بروئے کار لارہی ہے ۔ بھارت جموں کشمیر کو اکھنڈ بھارت کا حصہ بنانا چاہتا ہے جس کےلئے وہ نت نئے طریقے اور حربے آزما رہا ہے ۔ بھارت کو اس بات کا ادراک ہوچکا ہے کہ ایک نہ ایک دن اسے جموں کشمیر میں بہرصورت رائے شماری کرانا پڑے گی اسی لئے وہ دفعہ 370اور35اے کو ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا جاسکے ۔