- الإعلانات -

عوام ٹیکس چوری کے خلاف مدد کریں

وزیراعظم نے ایک بارپھرقوم کوپیغام دیاہے کہ وہ ہرصورت ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھائیں ،تاہم اس مرتبہ پیغام کے دوران ان کازیادہ زورٹیکس چوری کو روکنے کے حوالے سے تھا،اس سلسلے میں انہوں نے عوام سے باقاعدہ مددچاہی ،قوم کے نام پیغام میں انہوں نے کہاکہ تمام وہ جنہوں نے ابھی تک اثاثے ظاہرنہیں کئے وہ تیس جون تک ظاہرکردیں ،اگر قوم فیصلہ کرلے تو ہم ہرسال 8ہزارارب سے زیادہ اکٹھاکرکے قرضوں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں ،وزیراعظم کایہ پیغام بالکل درست ہے ہرشخص کو ٹیکس دیناچاہیے اوریہ بات بھی یقینی طورپرصحیح ہے کہ جب تک عوام اس سلسلے میں مدد نہیں کرے گی اس وقت تک حکومت کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ لہٰذا عوام کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں حکومت سے تعاون کرتے ہوئے آنے والے بہترین مستقبل کے لئے ٹیکس چوری کے خاتمے کے لئے اہم اقدام ادا کریں ۔ چونکہ وزیراعظم بار بار اس سلسلے میں قوم سے خطاب کرچکے ہیں اور حکومت کہہ رہی ہے کہ اُن کے پاس ایسی معلومات آچکی ہیں جو گزشتہ کسی اور حکومت کے پاس نہیں تھیں ،اس کے بعدٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی ہوگی اوریقینی طورپرجس طرح کہ چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ اُن کے خلاف پریشانیاں ہوں گی جو ٹیکس نادہندہ ہو ں گے، اِدھروزیراعظم سے چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں ق لیگ کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں بجٹ پاس کرانے کے سلسلے میں غیرمشروط حمایت کی بھی یقین دہائی،نیزوزیراعظم نے قوم کے نام اپنے نشریاتی پیغام میں مزید کہاکہ کرپشن کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے اب ہ میں ٹیکس چوری بھی روکنی ہے ۔ گزشتہ 10 سال میں پاکستان کا قرضہ 6 سے 30 ہزار ارب تک چلا گیا، اثاثے ڈکلیئر کرنے کیلئے ہم ایک اہم سکیم لائے ہیں ، بار بار کہہ چکا ہوں کہ اگر حکومت اور عوام ملیں گے نہیں تو ہم قرضوں کی دلدل سے نکل نہیں سکتے ۔ ہم اپنے بچوں کو غربت سے نکال سکتے ہیں ۔ پچھلے سال جتنا بھی ٹیکس اکٹھا کیا اس میں آدھا ہ میں قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے لینا پڑا ، قرضوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں ، ہ میں آج ان قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لئے قرضہ لینا پڑ رہا ہے ، ہ میں یہاں تک کرپشن اور ٹیکس چوری نے پہنچایا ، کرپشن، ٹیکس چوری کو ہم نہیں چھوڑیں گے ،اب ٹیکس چوری کو بند کرنے کیلئے ہ میں قوم کی ضرورت ہے ، جب تک عوام اور حکومت نہیں ملیں گے ہم قرضوں کی دلدل سے نہیں نکل سکتے ۔ اپنی بے نامی جائیداداور غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کا آخری موقع ہے ، 2005 میں زلزلہ آیا، 2010کے سیلاب میں پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا لیکن اس نقصان سے باہر نکلنے کیلئے پوری دنیا میں مقیم پاکستانیوں نے ساتھ دیا او اس نقصان سے باہر نکلے ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے حزب اختلاف کے ساتھ میثاق معیشت کی منظوری دے دی ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت پارلیمنٹ میں جمہوری اور اخلاقی اقدار کی پاسداری پر یقین رکھتی ہے ۔ دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت خیبر پختونخواہ میں واقع سرکاری ریسٹ ہاءوسز و دیگر سرکاری عمارتوں کو عوام الناس کے لئے کھولے جانے اور ان کے مثبت استعمال کے حوالے سے اجلاس ہوا، صوبہ پختونخواہ میں واقع تمام سرکاری ریسٹ ہاءوسز بشمول گورنر ہاءوس نتھیا گلی، وزیر اعلیٰ ہاءوس، سپیکر ہاءوس اور آئی جی ہاءوس کو عوام الناس کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ دو ہفتوں میں ان عمارتوں کی عوام الناس کے لیے دستیابی کو یقینی بنایا جائے ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں تنظیمی معاملات، مجموعی ملکی سیاسی صورتحال، قومی اسمبلی سے وفاقی بجٹ کی منظوری سمیت مستقبل کے لاءحہ عمل پر گفتگو کی گئی ۔ اجلاس میں اپوزیشن کی میثاق معیشت کی تجویز پر مشاور ت کی گئی ۔ دریں اثناء وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ملکی قرضوں کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن باضابطہ طور پر قائم کر دیا گیا ہے ۔ اور کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق 12 رکنی کمیشن، انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا گیا ہے، جس کے سربراہ ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغر ہوں گے ۔ واضح رہے کہ ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغر پولیس سروس گریڈ 22 کے ریٹائرڈ افسر ہیں اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن پنجاب بھی رہ چکے ہیں ۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ کمیشن 6 ماہ میں رپورٹ مکمل کرے گا، تاہم وزیر اعظم کو کمیشن کی مدت میں اضافے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ کمیشن ماہانہ بنیاد پر وفاقی حکومت کو کارکردگی رپورٹ پیش کرے گا ۔ کمیشن 2008 تا 2018 تک حکومتی قرضوں کی تحقیقات کرے گا ۔ کمیشن قرضوں کی ذمہ داریوں کے ایکٹ 2005 کی خلاف ورزی اور سرکاری فنڈز کے ذاتی استعمال کی تحقیقات بھی کرے گا ۔

پاکستان کوبلیک لسٹ کرنے کی بھارتی سازشیں ناکام

پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کی بھارتی کوشش ناکام ہو گئی ۔ بھارت کو اس محاذ پر بھی منہ کی کھانی پڑی ۔ ایف اے ٹی ایف نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان گرے لسٹ میں برقرار رہے گا ایف اے ٹی ایف میں ترکی ملائیشیا اور چین کی حمایت سے پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ ہونے سے بچا لیا تاہم خطرہ ابھی ٹلا نہیں پاکستان کے بارے میں حتمی اعلان اکتوبر میں کیا جائے گا ۔ اس سلسلے میں پاکستان کی موثر سفارتکاری کام کرے گی ۔ ایف اے ٹی ایف میں ساتھ دینے پر وزیراعظم عمران خان نے ملائیشیا کے ہم منصب ڈاکٹر مہاتیر محمد کا شکریہ بھی ادا کیا ۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو دس نکاتی ایکشن پلان بھی دیدیا پاکستان کو اکتوبر تک ایکشن پلان پر عملدر;200;مد کرنا ہوگا ۔ ایف اے ٹی ایف کا امریکی شہر ;200;ر لینڈو میں اجلاس ہوا ایف اے ٹی ایف نے ایکشن پلان پر اٹھائے گئے پاکستان کے اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا ایف اے ٹی ایف اعلامیہ کے مطابق پاکستان کو جنوری 2019 تک ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملدر;200;مد کرنا تھا پاکستان مئی تک ان اقدامات پر عملدر;200;مد کرنے میں ناکام رہا ۔ پاکستان اکتوبر 2019 تک ایکشن پلان پر تیزی سے عمل کرے ۔ اکتوبر میں ایکشن پلان پر دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہو جائے گی ۔ اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف اگلے اقدامات کا فیصلہ کرے گا پاکستان نے جون 2018 میں اعلیٰ سطح سیاسی کمٹمنٹ دی تھی ۔ پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ کاءونٹر ٹیررازم ترمیم کو بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی تھی ۔ پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کی مالی مدد روکنے کیلئے نقاءص دور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی ۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو دس نکاتی ایکشن پلان میں کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کیلئے مناسب عملدر;200;مد حساس نوعیت کے کیسز کی نگرانی بڑھائی جائے ادارے غیر قانونی سرمائے اور جائیداد کی ٹرانسفر کی نگرانی سخت کریں دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کیلئے وفاقی اور صوبائی سطح پر ہم ;200;ہنگی پیدا کی جائے ۔ ادارے کیش کو ریئرز کے ذریعے دہشت گردوں تک سرمائے کی رسائی کو روکیں پاکستان دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی یقینی بنائے کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے ملوث افراد کو سزاءوں کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کی صلاحیت بڑھائی جائے ۔ 1367 کالعدم تنظیموں کے اثاثے اور جائیدایں ضبط کی جائیں 1373 دہشت گردوں کے بنک اکاءونٹس منجمد کئے جائیں ۔