- الإعلانات -

’لاہور پراسیس‘، افغانستان اور ۔۔۔!

یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان ہمیشہ علاقائی اور عالمی امن کے لئے اپنے حصے کا روشن کردار ادا کرتا آیا ہے ۔ پی سی بھوربن میں ہو رہی ’’لاہور پراسیس‘‘ کے نام سے افغان امن کانفرس اسی سلسلے کی ایک تازہ مثال ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان عدم مداخلت اور بقائے باہمی کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے ۔ یاد رہے کہ کانفرنس میں گلبدین حکمت یار سمیت 40 رکنی افغان وفد نے شرکت کی ۔ ماہرین کے مطابق سبھی جانتے ہیں کہ افغانستان میں شدت پسندی گذشتہ 40 برس سے جاری ہے، اور ان پر تشدد کاروائیوں میں امریکہ اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ طالبان اور القاعدہ کے ارکان بھی بڑی حد تک ملوث رہے ہیں ، ان دنوں بھی اعلیٰ امریکی حکام کے علاوہ افغان صدر و حکومت کی جانب سے بھی افغانستان میں ہو رہی پر تشدد کاروائیوں میں پاکستان اور اس کے بعض قومی سلامتی کے اداروں کو نہ صرف مطعون کیا جا رہا ہے بلکہ اس ضمن میں ہر طرح کی سنگین الزام تراشیوں کا سلسلہ پوری شدت سے جاری و ساری ہے ۔ حالانکہ سبھی بخوبی جانتے ہیں کہ اس کے پس منظر میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور این ڈی ایس کی ملی بھگت کار فرما ہے ۔ یاد رہے کہ 1978 سے لے کر 1988 کے اوائل تک، امریکہ اور طالبان میں گاڑھی چھنتی تھی، سابقہ سوویت یونین کو شکست دینے کی غرض سے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں نے دنیا بھر سے اسلامی جہادیوں کو چن چن کر افغانستان میں اکٹھا کیا ۔ مگر جب سوویت یونین ختم ہو گیا اور روسی فوجیں واپس چلی گئیں تو امریکی سرپرستی والے فوجی اتحاد نے پاکستان کی طرف سے یوں آنکھیں پھیر لیں جیسے کبھی کسی قسم کی باہمی شناسائی تھی ہی نہیں ۔ مغرب تو یہ سب کچھ کر سکتا تھا کہ اپنا بوریا بستر سمیٹ کر افغانستان سے چلتا بنے ، مگر ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان کیلئے تو ممکن نہ تھا ۔ اسے تو 35 سے 40 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ بھی اٹھانا پڑا اور دنیا بھر سے امریکہ کے لائے گئے بھانت بھانت کے جہادیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ بہر کیف پاکستان کو اس صورتحال میں اپنے اور دوسروں کے کردہ اور ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے کے لئے مغرب نے تنہا چھوڑ دیا اور ایسی صورتحال میں جو منطقی نتیجہ نکلنا چاہیے تھا، وہی نکلا ۔ افغانستان میں مجاہدین باہم دست و گریباں ہو گئے اور بالآخر طالبان کی شکل میں ایک گروہ نے حکومت سنبھال لی ۔ اس کے بعد گیارہ ستمبر 2001 کا سانحہ پیش آیا، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس کے بعد سے تاحال دنیا بھر میں عالمی دہشتگردی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے ۔ تجزیہ نگار اس امر پر متفق ہیں کہ جس طرح ستمبر 2001 کے سانحے کے ذمے داروں نے اسلام اور مسلمانان عالم کی قطعاً کوئی خدمت نہیں کی بلکہ اسلامی مفادات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔ اسی طرح سے امریکی رد عمل نے بھی علاقائی اور عالمی امن کو بدترین شکل دے دی ۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سبھی فریق قدرے دانائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنجیدہ اور باوقار طرز عمل کا مظاہرہ کریں اور مجموعی صورحال کی بہتری کی طرف ٹھوس پیش رفت کریں ۔ راقم کی رائے میں اصل سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان کو افغانستان میں مداخلت کر کے کچھ حاصل ہو سکتا ہے;238; یقیناً اس کا جواب نفی میں ہے ۔ تو پھر امریکی اتحادیوں کو سوچنا ہو گا کہ افغانستان کی داخلی صورتحال کے بگاڑ کی ذمہ دار قوتیں کوئی اور ہیں ۔ پاکستان اتنا عاقبت نا اندیش کسی طور نہیں کہ اپنے پاءوں پر خود کلہاڑا مار لے ۔ ہر کسی کو علم ہے کہ افغانستان انتظامیہ اپنی نا اہلیوں کی وجہ سے حالات پر کنٹرول نہیں کر پائی اور اب اپنے اگلے الیکشن قریب تر دیکھ کر الزام تراشیوں کے سلسلے کو مزید دراز کر رہی ہے ۔ حالانکہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ افغانستان میں متعین امریکی فورسز افغان خواتین کے خلاف انفرادی اور اجتماعی بداخلاقیوں کی مرتکب ہو تی رہی ہیں جس کے رد عمل میں عرصہ دراز سے افغانستان کے اندر امریکہ کے خلاف اثرات مرتب ہو رہے ہیں ، بھارتی قونصل خانے ایسے اثرات کو ایک منظم شکل دے کر پاکستان کے خلاف انتہائی شر انگیز مہم چھیڑے ہوئے ہیں ۔ ایسے میں امریکہ کے مقتدر حلقوں کے علاوہ سول سوساءٹی اور دانشور طبقات کو سوچنا ہو گا کہ عالمی اور علاقائی امن کے لئے یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ فوری طور پر امریکہ اور طالبان کے مابین امن مذاکرات ٹھوس شکل اختیار کریں ۔ توقع رکھنی چاہیے کہ موثر عالمی قوتیں اور مقتدر بین الاقوامی رائے عامہ کے ادارے امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں گے، علاوہ ازیں بھارتی حکمرانوں کو ان کی ریشہ دوانیوں سے باز رکھنے کی سنجیدہ سعی کی جائے گی، تا کہ علاقائی اور عالمی سطح پر پائیدار امن کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے ۔