- الإعلانات -

کربوغہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

کربوغہ کا پرانا نام ٹےری کوٹ تھا ۔ ےہ علاقہ ٹےری رےاست میں شامل تھا ۔ جب پےر محمد عمر شاہ صاحب اس علاقے میں تشرےف لائے تو اس علاقے کا نام کربوغ پڑ گےا ۔ کر بوغ کے معنی باغ لگاءو ۔ پھر دھےرے دھےرے کربوغ سے اس علاقے کا نام کربوغہ ہوگےا ۔ اولیاء کرام کے مسکن کی وجہ سے اس علاقے کو کربوغہ شرےف کہا جاتا ہے ۔ کر بوغہ شرےف تحصےل ٹل ضلع ہنگو میں دوآبہ سے جنوب کی جانب تقرےباً تےرہ کلومےٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ کربوغہ شرےف خٹک علاقے کا اےک معروف اور سرسبز وشاداب گاءوں ہے، جہاں کے آڑو زےادہ مشہور ہیں ۔ کربوغہ اےک خوبصورت وادی ہے اور ان کے باسی مہمان نوازہیں ۔ دراصل پیر آف کربوغہ صاحب کا خاندان بخاراسے آےا تھا ۔ پیر آف کربوغہ محمد عمر شاہ 1819ء کو میانجی خیل خٹک علاقے میں پےدا ہوئے تھے اور آپ کے والدماجد کا نام محمد کلیم شاہ تھا ۔ آپ کے تےرہ بےٹے تھے ۔ پیر محمد عمر شاہ کا وصال 27اکتوبر 1927کو ہوا اور ان کے سجادہ نشےن عصام الدےن تھے ۔ پیر عصام الدےن کی وفات 1938ء کو ہوئی اور اس کے بعد مولانا فضل حق المعروف گل ابا سجادہ نشےن ہوئے ۔ ان کی وفات1952 کو ہوئی اور اس کے بعد سلطان محمود سجاد ہ نشےن مقرر ہوئے ۔ سلطان محمود صاحب کے رحلت کے بعد ان کے صاحبزادے علامہ مفتی بشےر احمد صاحب منصب سجادہ نشےن پر فائز ہوئے ۔ خاکسار کواپنے رفقاء کے ہمراہ کربوغہ شرےف جانے کا اتفاق ہوا ۔ کربوغہ شرےف میں تقرےباً اےک صدی قبل شاندار مسجد تعمےر کی گئی جس میں بےک وقت ہزاروں افراد نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ بتاےا جاتاہے کہ مسجد کی تعمےر میں تقرےباً اےک لاکھ انڈے، چونا اور دےگر مےٹرےل استعمال ہوا تھا ۔ مسجد کے صحن میں اےک حوض ہے جہاں پرنمازی وضو کرتے ہیں ۔ تالاب میں پانی ساتھ ہی پہاڑ کے چشمے سے آتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ےہاں پر پانی کی کمیابی کا مسئلہ درپیش تھا تو پیر محمد عمر شاہ کی دُعاسے پہاڑ سے چشمہ جاری ہوا ۔ مسجد میں اذان کےلئے اےک چبوترہ بھی تعمےر کیا گےا ہے ۔ مسجد کے متصل ایک لائبرےری ہے جہاں پرہزاروں کتب موجود ہیں اور ان میں بعض ناےاب قلمی کتب بھی دستےاب ہیں ، علم کے متلاشی اسی لائبرےری کا رخ کرتے ہیں ، سےراب ہوکر واپس لوٹتے ہیں ۔ مسجد کے بالکل سامنے مقبرہ (مزار)ہے جہاں پر مولانامحمد عمر شاہ صاحب المعروف صاحب مبارک، مولاناعصام الدےن صاحب المعروف ڈنگ ابا اور مولانا فضل حق صاحب المعروف گل ابا کی قبرےں انور موجود ہیں اور مزار کے اطراف میں اسی خاندان کی قبرےں موجود ہیں ۔ مسجد سے متصل اور جانب جنوب علامہ مفتی بشےر احمد صاحب کی رہائش گاہ اور لنگر خانہ ہے ۔ لنگر خانے میں پارہ چنار، ضلع میانوالی اور دےگر علاقہ جات کے مرےدموجود تھے ۔ ان کے عقےدت مند کوہاٹ ، کرک، بنوں ،لکی مروت، ڈےرہ اسماعےل خان ،میانوالی ، مالاکنڈ ،دےر،شمالی و جنوبی وزےرستان،کرم اےجنسی ،اورکزئی اےجنسی اور افغانستان میں موجود ہیں ۔ علامہ مفتی بشےر احمد صاحب کو ہمارے آنے کی اطلاع ہوئی تو لنگر خانے میں تشرےف لائے اور بڑی محبت اور چاہت سے شرف ملاقات نصےب ہوئی ۔ علامہ مفتی بشےر احمد صاحب ملنسار اور خوش طبع ہیں ۔ انھوں نے اپنے دست مبارک سے انار کے جوس سے تواضع کیا ۔ علامہ مفتی بشےر احمد صاحب کی سبق آموز اور معلوماتی گفتگو سے مستفےد ہوئے ۔ لنگر خانے کی بالائی منزل میں لائبرےری ہے ۔ انھوں نے اپنی ذاتی لائبرےری کی سےر کرائی جس میں ہزاروں کتب ہیں ۔ انھوں نے بتاےا کہ مشترکہ لائبرےری کے علاوہ بھی ےہاں متعدد لائبرےرےاں موجود ہیں جن سے ہزاروں افراد علم کی تشنگی کو بجھاتے ہیں ۔ علامہ مفتی بشےر احمد صاحب کی پانچ تصنےف ہیں ۔ انھوں نے اپنی ایک کتاب خاکسار کو بھی عناےت کی ۔ بعد ازاں انھوں نے رواےتی انداز سے ہمارے لئے ضےافت کا اہتمام کیا ۔ علامہ مفتی بشےر احمد صاحب اپنے دست مبارک سے مہمانوں کی خاطر و مدارت کرتے ہیں اور ےہ ان کے خاندان کا رواج اوردستور ہے ۔ پیر آف کربوغہ مولانا محمد عمر شاہ کی خدمت اقدس میں کابل کے بادشاہ نادر خان نے اےک شاہانہ تحفہ بھےجاجس میں اےک چوغہ بھی تھا جو انھوں نے خود ےا اولاد کو دےنے کی بجائے اپنے اےک خادم کو پیش کیا ۔ ان کو دنےاوی تکلفات اور سامان تعےش سے محبت نہ تھی ۔ پینل آف دی افغان فرنٹےر سمےت متعدد کتب میں انگرےزمصنفےن نے پیر آف کربوغہ کا تذکرہ کیا ہے ۔ تھےوڈور لیٹن پینل نے اپنی تنصےف ;34; پینل آف دی افغان فرنٹےر;34; میں تحرےر کیا ہے کہ افغان سرحدی علاقہ میں سب سے زےادہ اثرورسوخ رکھنے والے علماء میں سے اےک مُلاکربوغہ ہے ۔ کربوغہ اس گاءوں کا نام ہے جہاں ان کا دربار ہے ۔ اےک طرف ان کی توجہ لوگوں کی اخلاقی حالت سدھارنے میں لگی ہوئی تھی جبکہ دوسری طرف ان کے دےنی مدارس انگرےزوں کے خلاف تعصب کے سرگرم مرکز بن گئے تھے ۔ ;34; ۔ عجب خان آفرےدی نامی شخص انگرےزوں کا سخت مخالف تھا اور وہ ان کے ساتھ متعدد بار دست و گربےاں ہوا ۔ انھوں نے کوہاٹ چھاءونی سے اےک انگرےز خاتون مس اےلس کو اغواکیا جبکہ اس کی ماں کو قتل کیا ۔ اس پر برطانوی حکومت سےخ پا ہوئی اور جنگ وجدل کا خطرہ پیدا ہو گےا ۔ برطانوی حکومت نے پیر آف کربوغہ سے مدد طلب کی اور انگرےزخاتون کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا ۔ پیر آف کربوغہ نے جذبہ خےر سگالی کے طورپرآفرےدی قوم کو خاتون واپس کرنے کی ہداےت کی ۔ عجب خان آفرےدی نے آپ کی بات نظر انداز نہیں کی بلکہ آپ کے حکم پرمن وعن عمل کیا ۔ ےوں جنگ کا خطرہ ٹل گےا اور آفرےدی قوم جانی و مالی نقصان سے بچ گئی ۔ قارئےن کرام! عظےم ہستےاں چراغ کی مانندہوتی ہیں جو بھولے بھٹکے ہوءووں کو تاریکی میں راستہ دکھاتی ہیں اور رہنمائی کرتی ہیں ۔ نےک بندوں کی صحبت سے انسان کے خیالات پاکیزہ ہوجاتے ہیں اور انسان کی دنےا و آخرت سنور جاتی ہے ۔