- الإعلانات -

’’میران شاہ واقعہ‘‘ ۔ سچائی کے متلاشی جھنجھلاہٹ میں مبتلا

رواں برس مئی کی چھ تاریخ کو میران شاہ کے علاقہ ڈوگاگاءوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر سیکورٹی فورسنز نے ایک سرچ آپریشن کیا حساس اداروں کو معلوم ہوا تھا کہ علاقہ میں سرحد پارافغانستان سے آئے دشت گردوں کے دو سہولت کاروہاں چھپے ہوئے ہیں ، سیکورٹی دستہ جب وہاں پہنچا تو اچانک سیکورٹی فورسنز پر فائرنگ کھول دی گئی جواباً سیکورٹی فورسنز نے بھی فائرنگ کی اور اْن دونوں سہولت کاروں کو اپنی حراست میں لے لیا ‘ قبائلی علاقوں میں پی ٹی آئی جب سے قائم ہوئی ہے تو یہ پہلا موقع ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کیئے جانے والے آپریشن کے خلاف پی ٹی آئی کی طرف سے ملکی سیکورٹی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی رہائی کا سرعام مطالبہ کیا گیا یہ مظاہرہ پہلی بار دیکھنے میں آیاجس پر علاقے کے معززین نے بھی حیرت کا اظہارکیا ہے وہ کافی متعجب ہوئے کہ پاکستانی فوج تو گزشتہ پندرہ برسوں سے قبائلی علاقوں کو دہشت گردوں کی بہیمانہ دہشت گرد انسانیت سوز سرگرمیوں سے پاک صاف کرنے میں جان توڑ کوششیں کررہی ہے اپنے جوانوں اور افسروں کی قربانیاں پیش کررہی ہے پاکستانی فوج کی ان بیش بہاقربانیوں کے نتیجے میں قبائلی علاقوں میں امن وامان قائم ہوا ہے، پاکستانی فوج اور قبائلی عوام اپنے علاقوں میں امن قائم کرنے کے ساتھ ساتھ علاقہ کی پسماندگیوں کو ختم کرکے وہاں تعلیم اور صحت کے مراکز قائم کرنے کےلئے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں دہشت گردوں کی بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کرنے میں اپنے رات دن ایک کیئے ہوئے ہیں ملکی فوج کے جوان اپنے اسی مقصد کے حصول کے لئے اپنے گھروں سے دور اپنے ماں باپ بہن بھائیوں اور اپنے بچوں اور اہل خانہ کو چھوڑ کر ہزاروں کلومیٹر دور پاکستان کی مغربی سرحد پر موسموں کی سختیاں جھیل رہے ہیں تاکہ ہمارے قبائلی بھائیوں کے اہل خانہ، اْن کے معصوم بچے، بچیاں اور اْن کے بزرگ ہر جان لیوا خطروں سے محفوظ اور پرسکون زندگیاں بسرکرسکیں لیکن پشتون تحریک تنظیم پی ٹی ایم والے اچانک ملکی فوج مخالف کیوں ہوگے وہ قبائلی علاقوں میں قائم قانون نافذ کرنے والے اہم ترین عسکری ادارے کے خلاف نعرے باز کیوں بن گئے;238; قبائلی علاقوں میں قائم فوجی چوکیوں کو ختم کرنے جیسی احمقانہ مطالبوں پر وہ کیسے متفق ہوگئے;238;فوج نے کتنی عظیم جانی قربانیاں دیں قبائلی علاقوں میں اگلے فرنٹ پر میدان میں اتر کر غیر ملکی تربیت یافتہ وحشی طینت سفاک دہشت گردوں کا دوبدو مقابلہ کیا سوات، دیر،مالاکنڈ، وادی شوال جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقوں کے وہ علاقے جہاں قیام پاکستان کے بعد کبھی پاکستانی فوج نے جانا مناسب نہیں سمجھا وہاں تک ملکی فوج نے دہشت گردوں کا تعاقب کیا کئی درجن دہشت گردوں کو جہنم رسید کیا گیا بھگا بھگا کر دہشت گردوں کوہلاک کیا باقی مفرور ہوکر افغانستان کی سرحد پار کرگئے، اب اْن متاثرہ علاقوں میں فوج نے اپنی مستقل نگرانی کی چوکیاں قائم کردی ہیں جب یہ سبھی قبائلی علاقہ دہشت گردوں سے پاک کردئیے گئے تو پی ٹی آئی کی شکل میں چند پختون نوجوانوں نے ایک تنظیم قائم کرلی، ہم مانتے ہیں کہ دس پندرہ برسوں تک یہ قبائلی علاقے انسانی جانوں کی ضیاءع کے علاوہ بارود کی آگ میں جھلستے رہے ہیں ، افغانستان میں پاکستان کا ازلی دشمن ملک بھارت بیٹھا ہوا ہے جسے امریکی پشت پناہی حاصل ہے امریکا اوربھارت کبھی نہیں چاہئیں گے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے پْرامن ہوجائیں اْنہیں پاکستانی فوجی آپریشنز کی ایسی بے مثال اور تاریخ ساز کامیابیوں کا قطعی یقین نہیں تھا، اب جبکہ قبائلی علاقہ دہشت گردوں کی دست برد سے بالکل صاف ہوگئے اور پاکستان کا ایک عالمی وقار اور متانت کی ساکھ قائم ہوگئی ہے تو قبائلی علاقوں میں ہمارے دشمنوں نے ہائبرڈوار شروع کرادی ہے اب ہماری سمجھ میں آیا کہ میران شاہ آرمی چوکی کے افسوس ناک واقعہ کے پیچھے کون سے محرکات کارفرماہوسکتے ہیں سینٹر ہونے کے ناطے اپنی شہرت کی آڑ میں منی لانڈرنگ کیس کے ایک ملزم سیاست دان جو کہ آج کل نیب کسڈڈی میں ریمانڈ پر ہے یہ مذکورہ سینیٹر اْسی ملزم سیاست دان خودساختہ قائد کے دست راست ہیں اور پیشے کے لحاظ سے کبھی صحافی بھی رہے اب وہ اپنی سیاسی پارٹی کی عوام میں تیزی سے کم ہوتی ہوئی مقبولیت کا تمام تر غصہ اور اپنی سیاسی جھنجلاہٹ پاکستانی فوج کی مخالفت کرکے نکالنے میں اپنی توانائیاں صرف کرنے میں آنکھوں پر پٹی باندھے بیل کی مانند جتے ہوئے ہیں ، رواں برس ماہ مئی کی اکتیس تاریخ تا جون کی چھ تاریخ کے درمیان شاءع ہونے والے ایک انگریزی جریدے میں ان سینٹرصاحب نے پی ٹی آئی کا ترجمان بن کر ریاست مخالف اپنا ایک اور زہریلا مضمون شاءع کرایا ہے جسے کے مندرجات پڑھ کر لگتا ہے جیسے یہ مضمون بھارتی خفیہ ایجنسی را کے کسی افسر نے اْن سینٹرصاحب کو ڈکٹیٹ کرایا ہوگا نگرانی کی عام پولیس چوکی کا دنیا بھر کے خودمختار ممالک میں احترام سب پر یکساں لاگوہوتا ہے کجا سیکورٹی فورسنز کی قائم کردہ حساس نگرانی چوکیاں پر سوالات اُٹھائے جائیں اور کہا جائے کہ یہ چوکیاں ختم کردی جائیں ;238; جن قبائلی علاقوں سے ہزاروں سیکورٹی فورسنز‘ ایف سی اور سویلین پاکستانیوں کی قیمتی زندگیوں کے چراغ گل ہوئے تاکہ وہاں آئین اور قانون کی رٹ کو قائم کیا جاسکے پی ٹی آئی والوں کے کہنے اور مظاہرے کرنے پر یہ قبائلی علاقے دوبارہ سے قانون کو جوتوں کی نوک پر اچھالنے والوں کے کھلا چھوڑ دیا جائے قانون کی دھجیاں اڑانے والوں منشیات فروشوں کی روک تھام اور خاص کر دہشت گردوں کوکوئی روکنے ٹوکنے والا نہ ہو،علاقہ کے غنڈے بدمعاش تہی دست معصوم پختون عوام کا جینا دوبھر کردیں ،ریاست مخالف انگریزی ہفتہ روزہ جریدے کے مضمون نگار کو سب علم ہے اس کے باوجود اپنے ملکی باس یا اپنے کسی غیر ملکی باس کی خوشنودی کے حصول کو اْنہوں نے ضروری سمجھا ہوا ہے کیا وہ لاعلم ہیں کہ پی ٹی آئی کے قیام کے فورا ًبعد یہ تصور قائم کیا گیا تھا کہ کراچی میں ایک پختون نوجوان کے ماورائے عدالت قتل کے لئے انصاف کے نام پر پختونوں میں جائز غصہ پایا گیا جس کا فوری سدباب کرنا اْس وقت کی سندھ حکومت کی ذمہ داری تھی یاد رہے جناب والہ!ریاست مخالف لکھے گئے مضمون کے لکھاری کے باس نے یہ مشہور جملہ ارشاد فرمایا تھا کہ راو انوار تو اپنا بچہ ہے اس نے جو کیا صحیح کیا پھر فوج مخالف مضمون کیوں لکھا گیا;238;جن مسلح آئین شکنوں نے چاہے اْن میں کوئی ایم این اے ہو یا کوئی اور ہوں وہ سب ملکی قوانین کے سامنے جوابدہ ہیں ، علی وزیر محسن داوڑاور اْن کے دیگر گرفتار ساتھیوں پر باقاعدہ ایف آئی آر درج ہوچکی ہے مضمون نگار سینٹرصاحب میں اگراتنا ہی دم ہے تو وہ جائیں جس پولیس اسٹیشن میں علی وزیر اور محسن داوڑ کے خلاف ایف آئی آر درج ہے وہ ایف آئی آر نکال کر پھاڑ ڈالیں اور کچھ نہیں کرسکتے تو اپنے ملزم باس کو اربوں روپے کی منی لانڈرنگ میں پکڑے گئے ہیں اُنہیں ساتھیوں سمیت لشکر بناکر نیب کی حراست سے نکال لیں ، اگر پاکستانی فوج کے آئینی اقدامات کووہ تسلیم نہیں کرتے توپھر اْنہوں نے پاکستان سینٹ کی معزز ممبر شپ کیوں قبول کی ہوئی ہے;238; جیسے ملکی آئین میں سنیٹ کی ایک باوقار حیثیت مانی گئی ہے بالکل ویسے ہی ملکی آئین پاکستانی فوج کے ادارے کے احترام کا بھی ہرپاکستانی کو درس دیتا ہے لہٰذا جب پی ٹی ایم نے ریڈلائن کراس کی تو ریاست کی آئینی رٹ ازخود متحرک ہوگئی ہے نگرانی کی فوجی چوکیوں پر براہ راست فائرنگ کے جواب میں تابڑتوڑ فائرنگ ہی تو ہوگی;238;اور میران شاہ کے علاقہ ڈوگا گاوں کی فوجی چوکیوں پر حملہ آور ہونے والوں کے ساتھ یہی کچھ ہونا تھا اپنے بہت سے تحفظات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے راقم میران شاہ واقعہ میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرشہبازشریف کے سیاسی فہم وادراک کو موقع محل کے لحاظ سے ایک بہتر اور مثبت قدم سمجھنے میں یقینا حق بجانب ہے جنہوں نے اس افسوس ناک واقعہ میں جاں بحق اور شہید ہونے والوں کے خاندانوں سے غم کا اظہار کیا اور یہ کہا ہے کہ اس واقعہ کو ہم ایک بد قسمتی ہی قرار دیں گے اسے کہتے ہیں حقیقت پسندانہ سیاست کے طورطریقے ۔