- الإعلانات -

سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد پر بھارتی ہٹ دھرمی

مودی حکومت دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد اقلیتوں خصوصاً مسلمان، سکھ ، ماوَ و نکسلوں کے خلاف کھل کر سامنے آگئی ہے ۔ بلاوجہ ان اقلیتوں کو تنگ کرنا، ان کی جان و مال و عزت کی لوٹ مار اور چھوٹی سی بات کو بہانہ بنا کر ان کا قتل عام بھارتی حکومت کا وطیرہ بن گیا ہے ۔ اب بھارتی حکومت نے پاکستان میں جوڑ میلا میں شرکت کے لیے سکھ یاتریوں کو لینے کے لیے لاہور سے آنے والی ٹرین کو مسافروں کو لے جانے کی اجازت نہیں دی جس کے خلاف بڑی تعداد میں سکھ برادری نے اٹاری ریلوے اسٹیشن پر اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کیا ۔ سکھوں کے مذہبی پیشوا گرو ارجن دیو کی برسی کے موقع پر ہر سال پاکستان میں جوڑ میلا منعقد کیا جاتا ہے جس میں شرکت کے خواہشمند سکھ یاتری ویزا اور سفری دستاویزات کے ساتھ اٹاری ریلوے اسٹیشن پر پھنسے رہے جہاں انہیں خصوصی ٹرین نے لینے کے لیے آنا تھا ۔ پاکستان سے خصوصی ٹرین بھیجی گئی مگر بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے خالی واپس آگئی ۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کے سینئر عہدیداران، سکھ تنظیم پاکستان گردوارا پربھانک کمیٹی کے عہدیداران اور مقامی انتطامیہ واہگہ بارڈر پر یاتریوں کے خیر مقدم کے لیے موجود تھے لیکن بھارت نے یاتریوں کو زبردستی اٹاری ریلوے اسٹیشن پر روک دیا ۔ یہ بڑی مایوس کن بات ہے کہ بھارت نے ایک مرتبہ پھر وہی رویہ اپنایا جیسا اس نے 2017 میں اپنایا تھا ۔ 2017 میں بھی بھارت نے پاکستان کی جانب سے 80 یاتریوں کو لینے کےلئے جانے والی خصوصی ٹرین کو اجازت دینے سے انکار کیا تھا لیکن اس کے باوجود 14 یاتری جن کے پاس پاکستانی ویزا تھا پیدل چل کر اٹاری سے واہگہ پہنچے تھے ۔ اسی طرح بھارتی حکومت نے 2017 میں ہی تقریباً 300 سکھ شہریوں کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریبات میں شرکت کےلئے پاکستان جانے سے روک دیا تھا ۔ نئی دہلی میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن نے 200 بھارتی سکھ یاتریوں کے لیے ویزا جاری کیے تھے ۔ دونوں ممالک کے مابین ہوئے دو طرفہ سمجھوتے کے تحت پاکستان اس تقریب میں شرکت کے لیے 500 یاتریوں کو ویزے جاری کرسکتا ہے گذشتہ برس تقریباً 50 افراد اس میلے میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے ۔ سکھ برادری کے گرو سردارتاراسنگھ کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت سکھوں کے مذہبی معاملات پرسیاست نہ کرے ۔ شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی اگرخود گوروارجن دیوجی کے شہیدی دن کی تقریبات میں شریک نہیں ہوناچاہتی تویہ اس کی مرضی ہے تاہم جودوسرے یاتری پاکستان آناچاہتے ہیں انہیں تونہیں روکا جانا چاہیے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بنی کہ سکھ قوم نے گوروارجن دیوجی کا شہیدی دن نانک شاہی کلینڈر کے مطابق 16 جون کو منایا جبکہ بھارت کی شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی ترمیم شدہ بکرمی کلینڈرکے حساب سے یہ دن 7 جون کومناچکی تھی ۔ اس معاملے پرسکھ قوم کو مل بیٹھ کرسوچناچاہیے ۔ امریکا کی سکھ برادری کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موجود سکھ، پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات چاہتے ہیں کیونکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی انہیں ان کے مقدس مقامات پر جانے سے روکتی ہے ۔ گردوارا کرتارپور صاحب تک رسائی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے گزشتہ برس نومبر میں پاکستان کی جانب سے کرتارپور سرحد کھولنے اور دونوں ممالک میں پنجاب کے درمیان کوریڈور تعمیر کرنے کے فیصلے امریکی سکھوں نے خیر مقدم کیا ۔ شمالی امریکا میں سکھوں کی سب سے بڑی تنظیم ’سکھ آف امریکا‘ کے چیئرمین سردار جسبیر سنگھ کا کہنا تھا کہ ’کیا ہم خوش ہیں ;238; خوشی تو ایک چھوٹا لفظ ہے، ہم بہت پرجوش ہیں اور اس تاریخی فیصلے پر پاکستان کو مبارکباد دیتے ہیں ‘ ۔ سکھ ایسوسی ایشن آف بالٹی مور کے سابق صدر بلجندر سنگھ شامی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان سے یہ بہت بڑی خوش خبری ہے، ہم دہائیوں سے اس کے لیے کام کر رہے تھے اور بالآخر یہ ہوگیا‘ ۔ ’ہر سکھ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے اور ہمارے اپنے پڑوسی ملک سے بہت مضبوط تعلقات ہیں ‘ ۔ ’ہر روز ہم پاکستان کے لیے دعا کرتے ہیں ، ہم کوئی دوسری صورت اختیار نہیں کرسکتے کیونکہ ہمارے مقدس مقامات وہاں ہیں جبکہ پاکستان پنجابی ثقافت اور لٹریچرکا اہم ذریعہ ہے‘ ۔ اسی طرح پاکستان و بھارت کے درمیان دوستی بس سروس کا آغاز 1999 میں ہوا ۔ بس دہلی اور لاہور کے درمیان شروع ہوئی ۔ بھارتی پنجاب سے سکھ یاتری اپنے مقدس مقامات کی زیارت اور ان پر حاضری دینے کےلئے پاکستان آتے ہیں ۔ لہذا ان کی سہولت کےلئے حکومت پاکستان نے خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امرتسر سے ننکانہ صاحب براستہ لاہور بس سروس چلانے کی اجازت دے دی ۔ اس بس سروس کا سب سے بڑا مقصد سکھ یاتریوں کو مقدس مقامات تک بغیر کسی پریشانی کے پہنچانا تھا تاکہ یہ یاتری سواری کے انتظام و انتظار میں پریشان ہونے کے بجائے یکسوئی سے اپنی رسومات اور عبادات پوری کر سکیں ۔ تمام سکھ یاتریوں کی سہولت کےلئے بس سروس کا آغاز کیا گیا جس میں یاتری امرتسر بس ٹرمینل سے اپنی بس میں سوار ہوتے اور واہگہ کے مقام پر چند لمحوں کےلئے اتر کر اپنی امیگریشن کے تقاضے پورے کرتے اور اسی بس پر دوبارہ سوار کر آرام اور سکون سے اپنی منزل ننکانہ صاحب پہنچ جاتے ۔ حکومت پاکستان تو اپنی طرف سے خیر سگالی اور نیک نیتی کا مظاہرہ کرتی ہے مگر اس کے جواب میں بھارتی خفیہ ادارے ہر اس چیز کو سبوتاژ کرنے میں لگے رہتے ہیں کہ جن سے دونوں ممالک کے عوام کے تعلقات میں کوئی بہتری پیدا ہونے کے آثار پیدا ہونے لگیں ۔ آہستہ آہستہ اس بس سروس میں آنے والی سواریوں کی تعداد انتہائی کم ہوتی چلی گئی ۔ اگر بس آبھی جاتی تو بمشکل چند افراد کے سوا باقی بس خالی ہوتی ۔ اس کی وجہ پھر بھارتی خفیہ اداروں کی اپنے سکھ ہموطنوں کے بارے میں ہمیشہ رہنے والی بدگمانی ہے اور اس کو ناکام بنانے کےلئے یہ ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا ہے کہ تمام سکھ یاتری جو اس بس پر ننکانہ صاحب جانا چاہتے ہیں وہ سفر کرنے سے کم از کم 14 دن پہلے اپنی ضلعی پولیس سے اس بارے میں کلیئرنس حاصل کریں ۔ اس بات کا مقصد صرف یہ تھا کہ ان تمام لوگوں کے کواءف اکٹھے کر کے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے حوالے کئے جا سکیں تاکہ پاکستان آنے اور جانے والے سکھوں پر نظر رکھی جا سکے ۔ خاص کر پاکستان سے واپسی کے بعد ان لوگوں کے میل جول اور ہندوستان میں رہنے اور بسنے والے باقی سکھوں کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جائے ۔