- الإعلانات -

پاک قطر اقتصادی تعاون،خوش آئند پیشرفت اور آرمی چیف کا حوصلہ افزا ء بیان

امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی وزیراعظم عمران خان کی خصوصی دعوت پر پاکستان کے دورے پر تشریف لائے،جہاں عمران خان نے انکا خود استقبال کیا اور ان کی گاڑی بھی خود ڈرائیو کی ۔ نور خان ایئر بیس پر بچوں نے معزز مہمان کو پھول پیش کئے اور انہیں 21توپوں کی سلامی دی گئی ۔ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا ۔ جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے فلائی پاسٹ کیا ۔ اس والہانہ روایتی استقبال سے ظاہر ہوتا ہے پاکستان برادراسلامی ملک سے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ قطر اور پاکستان کے مابین گہرے تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرے اور مضبوط ہوتے جا رہے ہیں ۔ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کا یہ دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے خصوصاً ایسے حالات میں جب پاکستان بیرونی سرمایہ کاری کےلئے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے ۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان اور قطر نے گزشتہ روز مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کیلئے مفاہمت کی 3یادداشتوں (ایم ا ویو ز)پر دستخط کئے ۔ ان ایم او یوز میں سرمایہ کاری ، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کیلئے ورکنگ گروپ کے قیام ، سیاحت اور تجارت کی ترقی کیلئے تعاون اور منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد اورخفیہ معلومات کے تبادلے سے متعلق مالیاتی انٹیلی جنس تعاون شامل ہے ۔ دستخط کی یہ تقریب وزیر اعظم ہاوَس میں منعقدہ ہوئی ۔ وزیر اعظم عمران خان اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی بھی تقریب میں موجود رہے ۔ قطر کے وزیر خزانہ علی شریف العمادی اور مشیر تجارت عبدالرزاق داءود نے ایم او یو پر دستخط کئے ۔ سیاحت اور تجارت کے شعبوں میں ترقی کیلئے تعاون سے متعلق یادداشت پر سیکرٹری جنرل قطر نیشنل ٹوارزم کونسل اکبر الباقر اور وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا نے دستخط کئے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد اورخفیہ معلومات کے تبادلے سے متعلق ایم او یو پر فنانشل انفارمیشن یونٹ قطر کے سربراہ شیخ احمد بن عید الطہانی اور قائم مقام ڈی جی فنانشل مانیٹرنگ یونٹ منیر احمد نے دستخط کئے ۔ قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان اور امیر قطر کے مابین ون آن ون ملاقات ہوئی اور وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے ،جس میں دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوءوں کو زیر بحث لایا گیا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان قطر کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کوخصوصی اہمیت دیتا ہے، قطر پاکستان میں توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم اڑھائی ارب ڈالر سے زائد سطح تک پہنچ چکا ہے اور گزشتہ کچھ عرصے میں باہمی تجارت کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ حکومت نے ;200;تے ہی برادر عرب ممالک سے دیرینہ تعلقات کو مزید موثر اور مستحکم بنانے کواولین ترجیح دی اور عملی اقدامات اٹھائے ۔ مختصر عرصہ میں وزیراعظم عمران خان نے اوپر تلے کئی دورے کیے اور باہمی تعاون میں گرمجوشی پیدا کی ۔ اس کے نہایت ہی حوصلہ افزا نتاءج سامنے آرہے ہیں ۔ حکومت جہاں ایک طرف کاروبار حکومت چلانے کے لیے اندرونِ ملک ٹیکس اصلاحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، وہیں بیرونِ ملک سے پاکستان میں سرمایہ کاری لانے کو ضروری اور لازمی سمجھتی ہے ۔ ایسے حالات میں جب حکومت معاشی استحکام کی کاوشوں میں دن رات عملی طور مصروف ہے، قطر کی پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی ایک اہم پیش رفت ہے ۔ شعبہ سیاحت، پیٹروکیمیکل، رئیل اسٹیٹ، زراعت اور فوڈ میں قطر کی قریبا 11ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کسی نعمت سے کم نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کی معیشت کو مستقل بنیادیں فراہم کرنے کے لیے دیگر ممالک خصوصاً پڑوسی ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط بڑھانا بھی ناگزیر حکمت عملی ہے ۔ یہ بات مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ موجودہ حکومت بیرونی سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے کی قابل ِقدر کاوششوں میں مصروف ہے ۔ یہ سلسلہ یونہی ;200;گے بڑھتا رہا تو پاکستان جلد معاشی استحکام کی منزل کو پا لے گا، تاہم حکومت اپنی کوششیں مزید تیز کرے اور پڑوسی ممالک کےساتھ اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنائے، ماضی میں جو اس سلسلے میں کوتاہی روا رکھی گئی اسکا ازالہ کیا جائے ۔ ہمارے دوست عرب ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے تیار رہتے ہیں تاہم میں ماضی میں باہمی اعتمادی کو کئی ایشو پر دھچکا لگتا رہا ہے جس سے کچھ سرد مہری در آئی تھی تاہم اب ایسی صورتحال نہیں ہے ملک میں ماحول تیزی کے ساتھ ساز گا رہو رہا ہے ۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے بھی گزشتہ روز لندن میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے زیراہتمام ایک تقریب میں اسی امرکی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پائیدار، ناقابل واپسی اورمستحکم امن واستحکام کے حصول کے قریب ہے، بہتر سیکورٹی پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے دروازے کھول رہی ہے ۔ آرمی چیف نے کہاکہ سلامتی کے ماحول میں بہتری سے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے مواقع ہیں جو علاقائی رابطوں کا مرکز ہے ۔

بھوربن میں افغان امن کانفرنس

افغان امن کانفرنس پاکستان کے پرفضا مقام مری میں منعقد ہوئی جس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے انتہائی خوش دلی، نیک نیتی اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس کےساتھ افغانستان میں امن عمل کے لیے سہولیات بہم پہنچانے کا کردار ادا کیا ہے ۔ امن کانفرنس کا انعقاد لاہور سینٹر فار پیس ریسرچ نے مری کے علاقے بھوربن میں کیا ہے ۔ اس کانفرنس میں افغانستان سے سابق وزیر اعظم اور حزب اسلامی کے امیر گلبدین حکمت یار کے علاوہ کئی اہم سیاسی رہنماؤں اور زعماء نے شرکت کی ۔ افغانستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہ اور افغان صدر کے سیاسی مشیر، سینیٹرز اور افغان پارلیمان کے ارکان بھی شامل ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر افغان صدر اشرف غنی کے اس ماہ کے ;200;خر میں متوقع دورہ اسلام ;200;باد سے قبل یہ کانفرنس اہمیت کی حامل ہے ۔ لاہور پراسیس کے موضوع پر کانفرنس میں رابطوں ، تجارت، معیشت اور صحت سمیت مختلف شعبوں پر غور کیا جا رہا ہے ۔ کانفرنس میں افغان پناہ گزینوں کی اپنے ملک واپسی کا بھی جائزہ لیا گیاجو گزشتہ 40 سال سے پاکستان میں مقیم ہیں ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ;200;ج افغانستان امن و استحکام کے ایک اہم مرحلے پر کھڑا ہے ۔ امن کی تازہ کوششوں نے نئے مواقع پیدا کیے ہیں ۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں کیونکہ ہم اس موقع کو ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ ہمارا یکساں مقصد افغانستان میں طویل المدتی امن اور خوشحالی ہے ۔ افغانستان میں سلامتی کی صورتحال کے پاکستان کی سلامتی پر مسلسل گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان کے اپنے قومی مفاد میں ہے ۔ ہم عدم مداخلت، باہمی احترام اور یکساں مفاد کے اصولوں پر مبنی دو طرفہ تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں ۔ یہ حقیقت بھی ;200;پ کے سامنے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں کوئی بھی اس نام نہاد نظریے کو تسلیم نہیں کرتا کہ افغانستان میں پاکستان کی سٹریٹیجک گہرائی ہے ۔ اپنے مقاصد کی تکمیل کی خاطر پراپیگنڈے یا پھر افغان بھائیوں کے ذہنوں میں غلط فہمی کا بیج بونے کے لیے اس مردہ گھوڑے کو زندہ کرنے کی کسی کو اجازت نہ دیں گے ۔ انھوں نے بجا طور پر افغان زعما پر زور دیاکہ ہم اپنے مفادات کے منافی کسی کو بھی اپنے اپنے علاقے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم عمران خان ذاتی طور پر طویل عرصے سے افغانستان میں قیام امن اور مفاہمت کےلئے پرعزم رہے ہیں ۔