- الإعلانات -

کتابوں سے دوری

میرا ایک دوست فیض محمد گدون جو پشتو زبان کا شاعر ادیب ہے اورسٹوڈنٹ لیڈر رہا ۔ اُنہوں نے عربی کے ایک کتاب کا حوالہ دیا جس کا اُردو میں ترجمہ بھی ہوا اور کہا کہ اس کتاب کی 30 لاکھ کاپیاں بک گئی ہیں ۔ اُنکا کہنا تھا کہ ہم سے تو عربی اچھے ہیں کہ پڑھائی کا ذوق رکھتے ہیں اور کتابوں کے خریدنے پر پیسے بھی خرچ کرتے ہیں ۔ جہاں تک اُردو پشتو اور دوسرے علاقائی زبانوں کے کتابوں کا تعلق ہے ،مصنف کے خون پسینے کے کمائی سے کتاب چھپنے کے بعد یا تو مصنف اُن کتابوں کومُفت یاروں دوستوں میں با نٹتے ہیں اور یاکچھ عرصے بعد وہ ردی کی دکانوں پر پڑی ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے کتابوں کے چھپنے میں کمی بھی واقع ہوئی ۔ اگر ہم حالات اور واقعات کا ٹھنڈے دل اوردماغ سے غور کریں تو فی زمانہ انٹر نیٹ، کیبل ، موبائل اور الیکٹرانک کے دوسرے چیزوں نے ہم سے کتابیں چھین لی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کتابوں کے پڑھنے میں حد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے اور ہم ہر شعبے میں جس میں ڈاکٹر انجینئرنگ، وکالت، اساتذہ اور زندگی کے دیگر شعبوں میں کمزور اور نالائق ہوتے جا رہے ہیں ۔ ڈاکٹروں کی غفلت اور نا اہلی کی وجہ سے لوگ مرجاتے ہیں اور انجینئرز کی نا اہلی کی وجہ سے بلڈنگ گرتی جاتی ہیں جیسا کہ 2005 کے زلزلے میں ہوا ۔ ہر طالب علم اس حد تک پڑھتا ہے کہ ڈگری لیں اور کمانا شروع کریں ۔ اور پڑھنے کے بعد اس علم پر اکتفا کریں جو اُس نے کالج اور یونیور سٹی میں حا صل کیا ۔ میں چند دن پہلے اسلام آباد میں ایک لائبریری گیا ۔ لائبریرین نے کہا کہ ایک مہینے بعد کوئی لائبریری اور کتاب لینے آیا ہے ۔ آج سے 15 اور 20سال پہلے میں پنڈی اسلام آباد میں دیکھتا تھا ،سیٹلاءٹ ٹاءون، صدر، راجہ بازار، میلو ڈی اور آب پارہ میں پُرانی کتابوں کے بڑے بڑے سٹال ہوا کرتے تھے ۔ مگر مُجھے انتہائی دکھ اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب وہی بُک شاپوں میں جیولری، جوتوں ، موبائل، کپڑوں اور چاٹ کی دکانیں لگی ہوئی ہیں ۔ آج کل کتابوں کی دکانوں سے جو بھی کتابیں خریدی جاتی ہیں اور جسکا زیادہ بزنس ہوتا ہے وہ زیادہ تر مختلف یو نیور سٹیوں کالج اور سکول کے کو رس سے متعلق ہو تی تھیں ۔ انٹرنیٹ، کیبل موبائل فونز اور سیٹلاءٹ ٹی وی نے موجودہ نسل کو کتابوں اور تخلیقی سر گر میوں سے دور کیا ہے ۔ اگر ہم غور کر لیں تو موبائل تو اللہ کی طرف سے ایک غذاب ہے ۔ کوئی کسی چیز کو دیکھے یا نہ دیکھے مگر موبائل فون کو بار بارضرور دیکھتا ہوگا تو یہ اورکیا ہے اللہ کا غذاب نہیں ۔ آج سے کچھ سال پہلے جوجوان حجروں میں بیٹھے ہوتے ، رات گڑھاستار اور رباب کی محفل جماتے تھے بد قسمتی سے اب حجرے بیٹھکوں میں تبدیل ہوگئے اورعزیز اور اقارب مزید ایک دوسرے سے دور ہو تے گئے ۔ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا 24 گھنٹے موبائل کے ساتھ کھیل رہا ہوتا ہے ۔ میرا ایک دوست جو حال ہی سے آسٹریلیا سے آیا ہے اُنکا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں اگر ڈرائیونگ کے دوران کوئی موبائل فون پر باتیں کرتا ہوا پایا گیا تو اُسکو 500 ڈالر جُرمانہ کیا جاتا ہے ۔ اگر چند بار وہ یہی غلطی دُہراتا ہے تو پھر اس پر دوسال کے لئے ڈرائیونگ نہ کرنے کی پابندی لگائی جاتی ہے اور مزید غلطیوں پر اُن کے لائسنس ختم کے جاتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موبائل، انٹرنیٹ اور کیبل ٹی وی کسی حد تک اچھی چیزیں ہیں مگر انکو سر پر سوار کرنا تباہی اور بر بادی ہے ۔ اگر ہم دیکھیں کتابیں پڑھنے اور دین سے پہلے ہم دور ہیں اور بدقسمتی سے موبائل فون انٹر نیٹ اور کیبل ٹی وی ہ میں مزید اچھے اور مُثبت کاموں سے دور کرتا جارہا ہے ۔ وہ سٹوڈنٹ اور طالب علم جو سکول ، کالج اور مسجد میں بار بار موبائل فون کو چیک کر رہے ہوتے ہیں وہ خاک پڑھے اور دین اور مذہب کی طرف راغب ہوگا ۔ ان چیزوں نے ہمارا کلچر اور تہذیب و تمدن کو بگاڑ رہا ہے ۔ پہلے بچے گھر میں دادا دادی، نانا نانی سے قصے سُنا کرتے تھے ۔ پھر اسکے بعد ٹی وی کے سامنے بیٹھتے ۔ مگر اب وہ وقت ہے کہ گھر میں خواہ چھوٹا ہے یا بڑا کسی کونے دوسروں سے بے نیاز ہو کر موبائل کے ساتھ یا انٹرنیٹ کے ساتھ کھیل رہا ہوتا ہے ۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور کیبل اور سیٹلاءٹ ٹی وی سے اچھے اور مُثبت کام بھی کئے جاسکتے ہیں مگر انسان چونکہ بُرائی اور بُرے کاموں کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے ، لہٰذا اس سے اچھے کاموں کے بجائے بُرے کام لئے جاتے ہیں ۔ بد قسمتی سے تعلیم اور کتابوں اور دین کی دوری سے ہمارا شعوری لیول پہلے گرتا جا رہا ہے اور بد قسمتی سے الیکٹرانک اشیاء کے یلغار نے اسکو مزید گرا دیا ۔ ایک بچی جو کہ ایک عالمہ سے گزشتہ دو سال سے قُر آن پاک کا ترجمہ اور دینی علوم حاصل کر رہی ہے جیسا کہ ہمارے علمائے کرام بار بار کہتے رہتے ہیں کہ اللہ نے یا حضور ﷺ کا فرمان ہے تو یہ بچی پوچھنے لگی کہ یہ فرمان کون ہے ۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ فرمان کسی کانام ہے ۔ جہاں تک بچوں کی تحقیقی سر گر میوں کا تعلق ہے توماہرین کہتے ہیں کہ موبائل فون، کیبل اور انٹرنیٹ کے استعمال سے بچوں کی استعداد کار میں 3 گھنٹے کمی واقع ہوئی اور یہ سی ایس ایس کے حالیہ رزلٹ سے ظاہر ہے ۔ 20 ہزار میں 200 کے قریب سی ایس ایس کو کوالیفائی کر سکے ۔ میں سکولوں کالجوں اور یو نیورسٹیوں کے اساتذہ کرام اور والدین سے استد عا کرتا ہوں کہ پہلے تو بچوں کو موبائل فون اور انٹرنیٹ دے نا اور اگر دیا بھی جائے تو کم ازکم کالج سکول یونیور سٹی اور مسجد کے دوران اسکا استعمال نہ ہو ۔ چند دن پہلے ایک ڈاکٹر صا حب فرما رہے تھے کہ ان چیزوں کے استعمال سے لوگوں میں شوگر، دل کے امراض ، موٹاپے اور دوسرے کئی قسم کے امراض میں بے تحاشا اضافہ ہوا ۔ لوگ ابھی چیزوں کو زیادہ وقت دیتے ہیں جسکا نتیجہ یہ ہے کہ گھومنے پھرنے اور دوسرے جسمانی سر گر میوں کےلئے وقت نہیں نکالتے اور مختلف قسم کے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ زیادہ تر لوگ اس اس بات کی وکالت کرتے ہیں کہ ہم نیٹ پر کتابیں پڑھتے ہیں یہ میرا تجربہ ہے کہ نیٹ پر کتاب نہیں پڑھی جاتی کتاب بیٹھ کر سکون سے پڑھی جاتی ہے اور اس کے لئے توجہ اور انہماک کی ضرورت ہوتی ہے