- الإعلانات -

یہ افواہ سازسہولت کار۔۔۔!

سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان اپنے قیام کے روز اول سے ہی ہر ممکن سعی کرتا آیا ہے کہ پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے خطے کے ممالک کے ساتھ خوشگوار ہمسائیگی پر مبنی تعلقات استوار رکھے جائیں مگر بدقسمتی سے اس ضمن میں تاحال اسے جزوی کامیابی ہی حاصل ہوئی ۔ اس حوالے سے یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ حالیہ چند دنوں میں کچھ اندرونی اور بیرونی حلقے ملک عزیز کے خلاف زہر افشانی اور افواہ سازی کو اپنا مستقل چلن بنائے ہوئے ہیں اور اس تناظر میں شیطانی عزائم کی تکمیل کی خاطر کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ نظر آتے ہیں ۔ وزیرستان میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کو دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے ۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ملک کے اندر بھی بعض حلقے اس حوالے سے انتہائی منفی روش اپنائے ہوئے ہیں اور انھیں را، این ڈی ایس اور کئی بیرونی ایجنسیوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ یہ حلقے اپنے شر انگیز رویوں سے اجتناب برتیں گے ۔ دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک کے بعض نام نہاد دانشور آئے روز قیامِ پاکستان کے حوالے سے مختلف قسم کے منفی ریمارکس دیتے رہتے ہیں جس سے بعض نا پختہ ذہنوں میں منفی اثرات مرتب ہونے کا احتمال بہر کیف موجود رہتا ہے ۔ غیر جانبدار حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ناقدین کے ذہنوں میں بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کی حالتِ زار کا سرسری سا احوال بھی پیشِ نظر رہے تو شاید کفرانِ نعمت کے مرتکب ان افراد اور گروہوں کی روش میں قدرے مثبت تبدیلی رونما ہو سکے کیونکہ کسے نہیں معلوم کہ بھارت کے جمہوریت اور سیکولر ازم کے تمام دعوءوں کے باوجود 20 کروڑ کے لگ بھگ ہندوستانی مسلمان آج بھی تیسرے درجے کے شہری ہیں ۔ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں 543 میں سے صرف 22 مسلمان کامیابی حاصل کر پائے ۔ یاد رہے کہ ;667480; کے ٹکٹ پر ایک بھی مسلمان لوک سبھا کا ممبر نہیں بنا ۔ اس سے بھارتی جمہوریت اور سیکولرازم کے دعووں کی اصل حقیقت مزید کھل کر سامنے آ جاتی ہے ۔ مبصرین نے بھارتی مسلمانوں کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بھارت میں ڈاکٹر ذاکر حسین،فخر الدین علی احمد اور عبدالکلام کو صدارت کے منصب پر فائز کیا گیا اور ممبئی کی فلم انڈسٹری میں بھی چند مسلمان اداکار اہم کردار کے حامل رہے ہیں ۔ مگر اس سے آگے بھارتی مسلمانوں کے ضمن میں کوئی اچھی خبر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ۔ یاد رہے کہ سابق بھارتی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ نے 9 مارچ 2005 کو جسٹس راجندر سچر کی سربراہی میں مسلمانوں کا احوال جاننے کیلئے جو سچر کمیٹی بنائی تھی ۔ وہ 30 نومبر 2006 کو اپنی رپورٹ پیش بھی کر چکی اور منموہن سنگھ کو دس سالہ حکومت کر کے رخصت ہو ئے بھی پانچ برس بیت چکے مگر مسلمانانِ ہند کی حالت پہلے سے بھی بد تر ہو گئی ہے ۔ اب تو مودی کا بھی پارٹ ٹو شروع ہو چکا ہے ۔ بہر کیف اس سچر رپورٹ کے مطابق بھارت کے دیہی علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کی 94;46;9 فیصد اور شہری علاقوں میں 61;46;1 فیصد تعداد خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ۔ دیہی علاقوں کی 54;46;6 فیصد اور شہری علاقوں کی 60 فیصد نے کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا ۔ دیہی علاقوں میں مسلم آبادی کے 0;46;8 اور شہری علاقوں میں 3;46;1 مسلم گریجوئیٹ ہیں اور 1;46;2 پوسٹ گریجوئیٹ ہیں ۔ اگرچہ مغربی بنگال کی کل آبادی کا 25 فیصدمسلمان ہیں ۔ مگر سرکاری نوکریوں میں یہ شرح 4;46;2 فیصدہے ۔ آسام میں یہ شرح 40 فیصدمگر نوکریاں 11;46;2فیصد، کیرالہ میں 20فیصد آبادی کے پاس 10;46;4 فیصد سرکاری نوکری ہے ۔ واضح رہے کہ بھارتی فوج اور خفیہ اداروں نے اپنے یہاں سچر کمیٹی کو سروے کی اجازت ہی نہیں دی تھی مگر عام رائے یہ ہے کہ ان اداروں میں مسلم نمائندگی کی شرح کسی طور بھی 1;46;75 فیصد سے زائد نہیں ۔ اس تصویر کا یہ رخ اور بھی بھیانک ہے کہ مہاراشٹر میں مسلمان کل آبادی کا 10;46;6 فیصد ہیں مگر یہاں کی جیلوں میں موجود قیدیوں کا 32;46;4 فیصد حصہ مسلمان ہے ۔ دہلی کی آبادی میں مسلمان 11;46;7 فیصد مگر جیلوں میں کل قیدیوں کا 27;46;9 فیصد،صوبہ گجرات کی جیلوں میں کل قدر افراد کا 25;46;1 فیصد مسلمان ہے جبکہ آبادی میں یہ تناسب 9;46;1 فیصد ہے،کرناٹک کی جیلوں میں 17;46;5 فیصد مسلمان قید ہیں جبکہ آبادی میں یہ تناسب 12;46;23 فیصد ہے،مہاراشٹر کی جیلوں میں ایک برس سے زائد مدت سے قید افراد میں 40;46;6 فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔ بھارتی مسلمانوں کو اس عجیب صورتحال سے بھی دو چار ہونا پڑتا ہے کہ بی جے پی اور اس کے ہم نوا کہتے ہیں کانگرس نے مسلمانوں کو خوش کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے جبکہ کانگرس سمیت تمام سیکولر پارٹیاں ، انڈین آرمی، خفیہ ادارے،پولیس ،میڈیا اور عدلیہ کا بڑا حصہ بھارت کیساتھ ان کی وفاداری کو مشکوک سمجھتا ہے ۔ بنکوں سے قرضہ ملنا تو دور کی بات اپنے آبائی علاقوں کے باہر کرائے پر دکان یا مکان دیا جانا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ سچر کمیٹی کی ان سفاشات پر اتنے برس کا عرصہ گزرنے کے باوجود ذرہ برابرعمل درآمد نہیں ہوا ۔ یاد رہے کہ جسٹس (ر) راجندر ناتھ سچر 20 اپریل 2018 کو وفات پا گئے تھے ۔ ایسے میں وطنِ عزیز کے سبھی حلقوں کو بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار کو سامنے رکھنا چاہیے اور خود احتسابی اور خود مذمتی میں حائل بہ ظاہر معمولی لیکن در حقیقت انتہائی اہم فرق ملحوظ رکھا جائے کہ با شعور اور زندہ قوموں کا یہی طریقہ ہوتا ہے ۔