- الإعلانات -

مہذب معاشروں میں طلبا ء کیلئے منصوبہ بندی

طلبا کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں ۔ قوم کا یہ سرمایہ وقت کے ساتھ علم سے سرفراز ہو کر آنے والے وقتوں میں معاشرے کی باگ ڈور سنبھالتا ہے ۔ اس لیے کسی بھی معاشرے کو اگر درست کرنا ہو تو اس کے طلبا پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔ جتنے بھی مہذب معاشرے ہیں ان میں طلبا کی سرگرمیوں کو اچھی طرح مانیٹر کیا جاتا ہے ۔ مہذب معاشروں میں طلبا کا نصابی سرگرمیوں کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا ضروری سمجھا جاتاہے ۔ اس کیلئے باقاعدہ طورپر طلبا کی دلچسپی اور ان کی استعداد کار کو دیکھا جاتا ہے ۔ مہذب مغربی معاشروں میں طلبا کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ طلبا کو زیادہ تر نصابی سرگرمیوں اور غیر نصابی سرگرمیوں میں کھیلوں کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ جو طلبا کھیل کے شعبے میں بہتر کارکردگی کا مظاہر ہ کرتے ہیں انہیں کھیلوں کی تربیت دی جاتی ہے ۔ جو طلبا آرٹس کے مضامین میں بہتر ہوتے ہیں آرٹس کے شعبے میں تربیت دی جاتی ہے ۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہوتا کہ کھلاڑی بننے کے خواہش مند طالبعلم کو بیالوجی پڑھنے پر مجبور کیا جائے ۔ مہذب معاشروں میں اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے اپنے طلبا کی تربیت کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔ جاپان میں بچوں کو سب سے پہلے اخلاقیات اور معاشرتی آداب سکھا ئے جاتے ہیں ۔ اس کے بعد ان بچوں کو سکول کی ایجوکیشن دی جاتی ہے ۔ جاپان کے لو گ آج بھی اپنی روایات سے جڑے ہیں جس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنے مستقبل کو بچپن سے ہی ان روایات کا آسیر بنایا ہے ۔ بیشک ایسا نہیں ہے کہ وہاں کے سارے ہی طلبا کامستقبل محفوظ ہوتا ہے لیکن ان کی اکثریت اپنے مستقبل کو بہتر سمت میں لے جانے میں کامیاب ہو جاتی ہے ۔ انہیں معلو م ہوتا ہے کہ ان کی منزل کیا ہے ۔ وہ مستقبل میں کیا کرنا چاہتے ہیں یا ان کا مستقبل کہاں ہے ۔ پاکستان دنیا کے ان خوش قسمت ترین معاشروں میں سے ایک ہے جہاں پر نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ معلو م نہیں ہوتا ۔ وہی روایتی طورپر زیادہ ذہین بچہ جو بہت اچھے نمبر لے لیتا ہے کو ڈاکٹر بنا دیا جاتا ہے اور جو اس سے کم لے رہا ہے وہ انجینئر اور جو اس سے کم اسے کمیشن میں اپلائی کرادو ۔ یہ فارمولا ہم پہ بھی اپلائی ہوا تھا ۔ نہ ہم ڈاکٹر بن پائے نہ کمیشن حاصل کیا ۔ اس کے بعد زندگی کی راہ مسدود ہی نظر آئی ۔ بہت کوشش کی کہ کاروبار میں مہارت کا م دکھا پائیں لیکن کاروبار ہم سے نہ ہو سکا ۔ ذہن کی صلاحیتوں کو نہ ہم جان سکے اور نہ کسی نے ہ میں سمجھانے اور راہ دکھانے کی کوشش کی ۔ تجربے کرتے کرتے عمر بیتا دی لیکن منزل آشنا نہ ہوپائے ۔ جو طالبعلم ہائی سکول میں فرسٹ ڈویژن لے رہا ہے لیکن زندگی کے امتحان میں فیل ہو رہا کے بارے میں ہمارے ماہرین عمرانیات اور ایجوکیشن سے متعلق اتھارٹیز کوئی جواب دے پائیں گی ۔ اس کاسبب سکول کے ماحول سے کالج کاماحول ایک دم مختلف ہونا ہے ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہائی سکول میڑک تک نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے انٹر میڈیٹ تک ہونا چاہیے ۔ طلبا کو انٹرمیڈیٹ کے بعد یونیورسٹی لیول سے بھی ایک دم متعارف نہیں کرانا چاہیے ۔ اس کیلئے گریجویشن کالج لیول میں اور ماسڑز یونیورسٹی لیول میں ہونا چاہیے ۔ ماہرین تعلیم شاید میری بات سے اتفاق نہ کریں لیکن تجرباتی طور پر کسی جگہ یہ تجربہ کر کے اس کے نتاءج کو عام دوسرے نتاءج سے تناسب میں چیک کیا جا سکتا ہے ۔ پرائمری میں ہم تو کچی اور پکی والے ہیں اب تو مونٹیسری اور پتہ نہیں کیا کیا ہے ۔ بچوں کو سکول میں کتب سے متعارف کرانے سے پہلے معاشرتی آداب جیسے سلام اور اس کاجواب ۔ بڑوں کے آداب کھانے پینے اٹھنے بیٹھنے کے طریقوں سے متعارف کرایا جانا چاہیے ۔ بچوں کو بولنا کھانا پینا اور پہننا وغیرہ سے واقفیت دلانی چاہیے ۔ اس کے بعد بچوں کو نصابی کتب میں سب سے پہلے قرآن اور اسکی تعلیمات سے متعارف کرایا جائے ۔ باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ بچوں کو شروع سے ہی اسلامی معاشرت سے روشناس کرایا جائے اور انہیں قرآن حفظ کرایا جائے ۔ بچوں کی بڑھوتی کو دیکھتے ہوئے ان کو دیگر معاشرتی علوم سے واقفیت دلائی جائے ۔ اس کے بعد انہیں حساب و سائنس اور دیگر علوم سے متعارف کرایا جائے ۔ جو بچے جس علم میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں انہیں اسی علم سے متعلق ہی سکھلایا اورپڑھایا جائے ۔ جوبچے سائنس میں دلچسپی لیں انہیں سائنس اور جو حساب میں دلچسپی لیں انہیں حساب پڑھایا جائے ۔ جو کھیلوں کو ترجیح دیں انہیں کھیلوں اور عام علوم پڑھائے جائیں تاکہ وہ مطلق ان پڑھ نہ رہیں بلکہ ان کے پاس بھی اچھا علمی خزانہ ہو ۔ کھیلوں کی باریکیاں اور ان کی سپرٹ سے انہیں آشنا کیا جانا ضروری ہے ۔ میڑک کر کے ہمارے طلبا جیسے ہی کالج کا رخ کرتے ہیں تو کالج کے مین گیٹ پر لگائے ہوئے سٹوڈنٹ یونین کے سٹال ان کے منتظر ہوتے ہیں ۔ سمجھ سے بالا ہے کہ ان سٹالز کا طلبا کے داخلہ میں کیا اور کیوں عمل دخل ہے ۔ مکہ کی راہ میں کھڑے بدو حاجی کو مکہ کی بجائے طاءف روانہ کر دیں کی مثال طلبا تنظیم کے سٹال طلب علم کی توجہ اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیتے ہیں ۔ ہماری سیاست میں طلبا تنظیموں سے کتنے فیصد لیڈر شپ عملی سیاست میں کامیاب ہو کر آئی ہے ۔ اس تناسب کو دیکھتے ہوئے حقیقت میں قوم کے اس نقصان کا ازالہ کوئی نہیں کر پائے گا ۔ ان تنظیموں نے کتنے ہی جوانوں کا مستقبل تاریک کیا ہے ۔ حقیقت میں کالج کی سطح پر طلبا کا سیاسی مقاصد سے آگاہ ہونا سمجھ سے بالا ہے کیونکہ اسے تو یہ بھی ابھی صحیح طور معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی اپنی منزل کیا ہے ۔ ایسے میں اسے سیاسی طور پر استعمال کرنے سے وہ اپنے مستقبل سے غافل ہو کر غیر نصابی سرگرمیوں کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے ۔ جس سے اس کی توجہ بٹ جاتی ہے اور وہ نہ تو کوئی خاص سیاسی کام کر پاتا ہے اور نہ ہی وہ تعلیم کی طرف توجہ دے پاتا ہے ۔ ایک میٹرک پاس بچے کو سیاست کی آگ میں جھونکنے کا مقصد میری سمجھ سے بالا ہے ۔ ابھی یہی چیز ایم اے سیاسیات کرنے والا ایم اے عمرانیات اور سوشیالوجی کے طالبعلم کیوں سیاست میں حصہ نہیں لیتے ۔ سیاست میں بالغ لیڈر شپ کا حصول تب ہی ممکن ہے جب ہم اعلیٰ تعلیم یافتہ لیڈر شپ کو قوم کی نمائندگی کا موقع دیں گے ۔ اگر ہم نے اپنا مستقبل محفوظ بنا نا ہے اور اپنی نسلوں کو بہتر مستقبل دینا ہے تو اس کیلئے ہ میں اپنے بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی ۔ گورنمنٹ کے سکول اور کالجز ہر جگہ موجود ہیں ۔ ان سکولوں کے تعلیمی ماحول کو بہتر بناکر پرائیویٹ سکولوں کی لوٹ مار سے عوام کو بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔