- الإعلانات -

جس شاخ پہ بیٹھے ہو اُسے مت کاٹو

دنیا کی دیگر افواج کی طرح پاک فوج میں اعلیٰ سطح تقرریوں اور تبادلوں کا سلسلہ ضرورت کے مطابق چلتا رہتا ہے،کبھی چھوٹے پیمانے پر تو کبھی بڑے پیمانے پرلیکن شاید ہی کہیں ان تبادلوں پر اس طرح رائے زنی کی جاتی ہو کہ جس طرح ہمارے ہاں ;200;سمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے ۔ خصوصی طور پر تب بعض حلقوں میں صف ماتم سی بچھ جاتی ہے جب دنیا بھر میں نہایت معتبر اور قابل اعتماد ادارے ;200;ئی ایس ;200;ئی کی اعلیٰ کمان تبدیل ہوتی ہے ۔ ;200;ئی ایس ;200;ئی وہ ادارہ ہے جسے افواج پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے ۔ اسکی پروفیشنل مہارت اور کارکردگی کے دشمن بھی قائل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن لابی اسکی ساکھ مجروح کرنے کےلئے بھاری سرمایہ انویسٹ کرتی رہتی ہے ۔ افواج پاکستان میں وقوع پذیر ہونے والی حالیہ تبدیلیوں پر سوشل اور پرنٹ میڈیا پر پروپیگنڈا نیا نہیں بلکہ اس سوچی سمجھی مہم کا تسلسل ہے جو اکثر ایسے مواقع پر دیکھنے کو ملتی ہے ۔ افواج پاکستان میں چند اہم تقرریاں اور تبادلے معمول کا حصہ تھیں تاہم ان نئی تقرریوں کی اہم بات ;200;ئی ایس ;200;ئی کی کمان کی تبدیلی ہے ۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ;200;ئی ایس ;200;ئی کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ انکے پیشرو لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا تبادلہ بطور کور کمانڈر گجرانوالہ کردیاگیاہے ۔ انہیں اکتوبر 2018ء میں ;200;ئی ایس ;200;ئی کی کمان سونپی گئی تھی ۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس (ایم ;200;ئی)اور شمالی علاقہ جات کی فورس کمانڈ کے کمانڈر کے عہدوں پر بھی فراءض انجام دے دیتے رہے ہیں ، ان کی شاندار پیشہ ورانہ کارکردگی پر انہیں مارچ 2018 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا تھا ۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ;200;ئی ایس ;200;ئی حساس نوعیت کا نہایت ہی اہم ملکی ادارہ ہے اسکی کمان بھی اسے سونپی جاتی ہے جو اسکی ذمہ داریوں سے عہدہ براء ہونے کے قابل ہوتا ہے ۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو اگر کمان دی گئی ہے وہ اہلیت رکھتے ہیں تو عسکری قیادت نے ان پر یہ بھاری ذمہ داری ڈالی ہے ۔ وہ لوگ خصوصاً ایک خاتون دانشورہ عائشہ صدیقہ صاحبہ اور اس قبیل کے چند دیگر جن کو ملٹری معاملات سے خداواسطے کا بغض ہے ان کی تقرری پر گمراہ کن تبصرہ کیا ہے کہ جنرل فیض حمید عمومی اہلیت کے جنرل ہیں ۔ ان کی عقل پر بغض کا پردہ پڑا ہوا ہے یا پھر وہ جانتے نہیں کہ جنرل فیض حمید اس سے پہلے ;200;ئی ایس ;200;ئی میں ہی کانٹر انٹیلی جنس سیکشن کے سربراہ رہ چکے ہیں اور جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر بھی تعینات رہے ہیں ۔ ;200;ئی ایس ;200;ئی میں بطور سربراہ واپسی پر پروپیگنڈا مخصوص مائنڈ سیٹ کی اختراع ہے حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ۔ ان کا نام نومبر2017 ء میں تحریکِ لبیک کے فیض ;200;باد دھرنے میں شاہد خاقان عباسی حکومت کی فرمائش اور خواہش پر ہونے والے معاہدے کی وجہ سے سامنے ;200;یا جس پر ان کے دستخط موجود تھے ۔ بنیادی طور پر دھرنے والوں نے دارالحکومت اسلام ;200;باد کو کئی روز تک مفلوج کر رکھا تھا اور حکومت شدید عوامی دباوَکا شکار تھی ۔ وہ ان سے جان چھڑانا چاہتی تھی مگر بات بن نہیں رہی تھی ،بالاخر پاک فوج کو دعوت دی گئی ۔ دھرنے والے مطالبات مانے جانے کے باوجود مسلم لیگ نون کے سلیکٹڈ وزیراعظم شاید خاقان حکومت کے ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے کسی طور اعتماد کرنے کو تیار نہیں تھے ۔ دھرنے والے اس معاملے میں کسی حد تک بجا بھی تھے کہ ایسے معاہدوں سے پھر جانے میں نون لیگ اپنا ثانی نہیں رکھتی ۔ اس موقع پر دھرنے کا اختتام چھ نکاتی معاہدے پر ہوا، جس میں حکومت نے گارنٹی دی کہ وہ تمام مطالبات پر من و عن عمل کرے گی ۔ پاک فوج کی کوشش سے دھرنا ختم ہوا ،عوام اور حکومت نے سکھ کا سانس لیا، اسے حکومت کی کامیابی بھی سمجھا گیا ۔ مگر پھر ہوا کیا;238;شاہد خان عباسی حکومت کی کچھ سانسیں بحال ہوئیں تو وہ اپنی فطری روش پر چل پڑی جیسے اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ نون لیگ مشکل وقت پھنسے تو پاؤں پکڑ لیتی ہے مگراچھے وقت میں گریبان پکڑنے پر تل جاتی ہے ،یہی کچھ اس نے پاک فوج سے کیا ۔ نون لیگ نے چھ نکاتی معاہدے کو ;200;ئی ایس ;200;ئی کا کیا دھرا قرار دیتے ہوئے اس کا ملبہ جنرل فیض حمید پر ڈالنے کی کوششیں شروع کرا دیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے نونی’’ گوئبلز‘‘ حرکت میں ;200;ئے جنہوں نے پرنٹ اور سوشل میڈیا پر خوب پروپیگنڈا کیا جبکہ دوسری طرف معاملہ عدلیہ تک جا پہنچا ۔ اگریہ ایشو یہی تک محدود رہتا توبات بن جاتی لیکن بدقسمتی سے مخصوص لابی کے پیٹ میں مروڑ اب تک اٹھ رہے ہیں ۔ جنرل فیض حمید کی تعیناتی پر ایک بار پھر دور کی کوڑیاں لا لا کر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ۔ یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ یہ جوڈیشل کمیشن جو محترم جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس سن رہا ہے اسکو پیغام دیا گیا ہے ۔ کوئی اسے احتساب سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے حتیٰ کہ جنرل فیض حمید کی پروفیشنل حیثیت پر بھی حملے کیے گئے ہیں ،جنہیں ذاتی عناد کہا جائے تو بہتر ہے ۔ اس سلسلے میں محترمہ عائشہ صدیقہ صاحبہ کا ایک مضمون جو انڈین جریدے ;84;he print میں گزشتہ ہفتے 21جون کو شامل ہوا ہے، میں صحافیانہ بد دیانتی کی تمام حدود پامال نظر ;200;تی ہیں ۔ مذکورہ مضمون کتنا زہر ;200;لود ہو سکتا ہے اس تفصیل میں جانے کی بجائے اتنا ہی کافی ہے کہ ;200;رٹیکل ایک بھارتی جریدے میں چھپا ہے ۔ مضمون کافی طویل اور محترمہ کے خبث باطن کا جیتا جاگتا اظہاریہ ہے ۔ اسی لیے کچھ عرصہ قبل اپریل کے ;200;خر میں ڈی جی ;200;ئی ایس پی ;200;ر نے ایک ٹوئیٹر پیغام انہیں ایک عادی جھوٹی عورت کہا تھا ۔ مصنفہ کی جانب سے تب الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاک فوج ملک کی جامعات میں صدارتی نظام کے حق میں اور 18ویں ترمیم کیخلاف لیکچرز منعقد کروا رہی ہے ۔ میجر جنرل ;200;صف غفور نے موصوفہ کو عادتاً جھوٹ بولنے والی خاتون قرار دینے کے علاوہ انہیں چیلنج بھی کیا تھا کہ وہ انہیں اس حوالے سے کسی بھی ایک لیکچر کے مقام اور تاریخ کی تفصیلات بتا دیں ۔ تاہم وہ ایسا کرنے میں ناکام رہیں ۔ بھارتی جریدے ’’دی پرنٹ‘‘ کے زہرناک ;200;رٹیکل میں انہوں پاک فوج میں اندورنی پروموشنز کو خصوصی طور تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنے تئیں یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ ادارے میں من پسند اور قریبی دوستوں کو’’ ;200;وٹ ;200;ف وے‘‘ جا کرپرموٹ کیا جاتا ہے ۔ انہوں جنرل فیض حمید کی پروموشن کو ;200;رمی چیف جنرل باوجوہ کی ذاتی کوشش بھی قرار دے ڈالا ۔ محترمہ شاید پاک فوج کو بھی مسلم لیگ ن سمجھتی ہیں کہ جہاں ہر عہدہ خاندان میں بانٹا جاتا ہے ۔ پاک فوج میں اعلیٰ عہدوں پر ترقی اور پروموشن اگر یوں ;200;سان ہوتی تو آج ہر آرمی چیف کا بیٹا بھانجا بھتیجا کسی اعلیٰ عہدے پرہوتا،اور نہیں تو جنرل ضیا الحق اپنے بیٹے اعجازالحق کو ;200;رمی میں بھرتی کروا کر ;200;ئی ایس ;200;ئی چیف بننے کی راہ ہموار کر جاتے یا کوئی اورجنرل اپنی فیملی کو اعلیٰ عہدوں پر بٹھا جاتے ۔ یہ اس ادارے کا سخت نظم و نسق ہی ہے جو اسے’’ اندھا بانٹے ریوڑیوں ‘‘ والا کھیل نہیں رچانے دیتا ۔ رہی بات عائشہ صدیقہ صاحبہ کی تو انکا سارا ٹریک ریکارڈ اس حوالے واضح ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی تحریروں میں وہ بیانیہ احتیار کیا جو ’’را‘‘ اور’’ سی ;200;ئی اے‘‘ چاہتی ہے ۔ خد کرے کہ کبھی ان’ مہربانوں ‘ کو اس بات کا احساس ہو کہ جس شاخ پر بیٹھ کر وہ کسی کی خوشنودی کر رہے ہیں خود ان کے مفاد میں بھی نہیں ہے ۔