- الإعلانات -

اپوزیشن کی اے پی سی،عوام کا مخلص کوئی بھی نہیں

پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن نے آل پارٹی کانفرنس منعقد کر کے ایک دم سیاسی درجہ حرارت عروج پر پہنچا دیا ہے،27جون بروزبدھ سربراہ جے یو آئی(ف)مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر متحدہ اپوزیشن کی اے پی سی کا انعقاد کیا گیا،جس میں جے یو آئی ف،پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ن اورپشتونخواملی عوامی پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے شرکت کی،کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف،مریم نواز،بلاول بھٹو،یوسف رضا گیلانی،اسفند یار ولی سمیت سیاسی رہنماؤں و قائدین نے شرکت کی،کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کرنے کیساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔ بظاہر دیکھا جائے تواپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں کیلئے اے پی سی میں سب اچھا کی رپورٹ سامنے لانے کی کوشش کی گئی مگر پریس کانفرنس میں شہباز شریف،مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو کے چہرے بھی کوئی پیغام دے رہے تھے کہ اے پی سی میں بظاہر جو سب اچھا نظر آرہا ہے حقیقت میں ایسا ہے نہیں ،شہباز اور بلاول کی سرگوشیاں کسی ٹوٹ پھوٹ یا اختلاف کی کہانیاں بیان کر رہی تھیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ کسی بوڑھی عورت کو میک اپ کر کے نئی دلہن ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بہر کیف متحدہ اپوزیشن جن باتوں کو اتفاق رائے سے اعلامیے میں شامل کرنے میں ناکام رہی ان کو مشترکہ پریس کانفرنس میں کر کے اے پی سی کی عزت رکھی گئی،صحافیوں کے سوالات کے نتیجے میں آنیوالی کچھ باتوں نے بھی کانفرنس کی پردہ داری رکھی ۔ ذراءع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی اے پی سی میں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے اختلافات ختم کرنے میں ناکام رہیں مگر تاثر دیا گیا کہ ہم سب متحد ہیں ،ذراءع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اے پی سی اعلامیے میں توہین صحابہ کرام کا معاملہ اٹھانے اور مڈ ٹرم انتخابات کرانے کا مطالبہ شامل کرنے کی کوشش کی مگر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے صاف انکار کرتے ہوئے یہ موَقف اپنایا کہ سیاسی معاملات میں مذہب کو استعمال نہیں کیا جائیگا اور نہ ہی جمہوریت و پارلیمنٹ کو ڈی ریل ہونے دینگے ۔ اے پی سی میں مولانا فضل الرحمان کافی غصے میں دکھائی دئیے اور سیاسی جماعتوں کو واضح پیغام دیا کہ اگر ان کیساتھ کوئی جماعت بھی شامل نہ ہوئی تب بھی وہ حکومت کیخلاف تحریک کا آغاز کرینگے چاہے ۔ بعد ازاں رہبر کمیٹی بنا کر اور بے ضررمشترکہ اعلامیہ بنا کر اے پی سی کی عزت رکھی گئی ۔ اے پی سی میں فیصلہ کیا گیا کہ 25جولائی کو حکومت کیخلاف یوم سیاہ منایا جائیگا،چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کی جائیگی،قرضوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے،ملک میں جاری احتسابی عمل کو جعلی احتساب کا نام دیا گیا،ججز کیخلاف ریفرنسز کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان میں عوامی کام کونسا ہے،عوام کو کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ یوم سیاہ منائیں یا نہ منائیں ،ان کو اس سے کیا غرض کہ چیئرمین سینیٹ کون ہے اور ڈپٹی چیئرمین کون ہے،عوام کو کیا لگے کہ تحقیقات کون کر رہا ہے ،عوام کا کیا تعلق کہ ججز کیخلاف کون ریفرنس بھیج رہا ہے اور اس سے ان کو کیا فائدہ ہو گا اور کیا نقصان ہو گا،عوام کو صرف اور صرف روٹی ،کپڑا اور مکان سے غرض ہے،عوام چاہتی ہے کہ اس کو اشیا ء خوردونوش سستے داموں دستیاب ہوں ،عوام چاہتی ہے کہ بجلی اور گیس کے نرخ نہ بڑھائے جائیں ،عوام چاہتی ہے کہ حکومت زیادہ نہیں تو تھوڑے بہت ہی سہی روزگار کے مواقع فراہم کرے،جب تک اپوزیشن عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ نہیں رکھے گی اس وقت تک عوام اپوزیشن کے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے گھروں سے باہر نہیں نکلے گی،آصف زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کیلئے جتنا دباوَ اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں حکومت پر ڈالا اور کامیاب رہی کیا اتنا دباوَ ڈالر کی بڑھتی قدر کو روکنے اور بجلی و پیٹرول قیمتوں میں اضافے کیخلاف نہیں ڈالاجا سکتا;238;اپوزیشن اگر قوم سے مخلص ہو تو عوامی ایشوز کو ایڈریس کرے مگر بدقسمتی سے ایسا ہے نہیں یہی وجہ ہے کہ اے پی سی اعلامیے میں پیٹرول ،گیس و بجلی کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی قومی اسمبلی کے اندر اور باہر اس ضمن میں احتجاج کی کوئی دھمکی دی گئی،حقیقت تو یہ ہے کہ ایوان میں اپوزیشن کو نیب کے غیر جانبدار احتساب کا سامنا ہے جس کے باعث وہ مجبور ہے کہ حکومت کیخلاف مشترکہ لاءحہ عمل کے ذریعے دباوَ بڑھایا جائے ورنہ جے یو آئی ف ،پی پی پی اور مسلم لیگ ن نظریاتی اعتبار سے ایک پیج پر نہیں آسکتے تو پھر متحد کیسے ہو سکتے ہیں ،سب سیاست اور صرف سیاست کی حد تک کھیل کھیلا جاتا ہے ،نظریات،اساس،اخلاقیات اور خدمت کا سیاست کے کھیل سے کوئی تعلق نہیں ۔ عوام کو سوچنا چاہئے کہ کیا دودھ کی رکھوالی بلی کے سپرد کی جا سکتی ہے;238;نہیں ہر گز نہیں کیونکہ اگر گھوڑا گھانس سے دوستی کریگا تو کھائے گا کیا;238;اے پی سی نے قرضوں کی تحقیقات کرنیوالے کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے ان تحقیقات کو پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے اب اس مطالبے پر صرف اور صرف ہنسا ہی جا سکتا ہے، اے پی سی میں چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی آئینی طریقے سے تبدیلی کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ تھوک کر چاٹنا ایک محاورہ ہے جو مجھے آج بہت یاد آرہا ہے،خیر چھوڑیں اس بات کو یاد تو بہت کچھ آتا رہتا ہے ،ہاں تو میں کہ رہا تھا کہ چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کرنے کا اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے جو کچھ عرصہ قبل پی پی پی نے پی ٹی آئی کے ساتھ ملکر مسلم لیگ ن کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کو بننے سے روکا تھا اور موجودہ چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ اب اپنے ہی ہاتھ سے لگائے پودے کو کس طرح اکھاڑا جاتا ہے یہ کوئی پاکستان پیپلز پارٹی سے سیکھے ۔ حکومت کو ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اپوزیشن قابل اعتبار نہیں اس لیے ہر گز دباوَ میں آکر اپنی ساکھ کو داوَپر مت لگائے،اپوزیشن کے بس میں جو ہو گا وہ ضرور کریگی اور کسی صورت یہ نہیں چاہے گی کہ موجودہ حکومت کامیاب ہو ۔ ویسے بھی اپوزیشن کے بس میں جو کچھ ہے وہ کر رہی ہے ۔ ہاں تو میں اعتبار کی بات کر رہا تھا تو اچانک مجھے سابق صدر پرویز مشرف یاد آگئے،ان سے بھی کسی نے وعدے اور این آر او کیے تھے،کسی کی واپسی ہوئی تھی اور کوئی اسی کے نتیجے میں برسراقتدار آیا تھا ۔ اور پھر پرویز مشرف کا کیا حال کیا گیا ہم سب کے سامنے ہے ۔ مجھے تو پی ٹی آئی دھرنے کے دوران پی پی کا لیگی حکومت کا ساتھ دینے کے بدلے کیا جو رویہ تھا وہ بھی یاد ہے ،اعتزاز احسن اور چوہدری نثار کے درمیان اختلافات بھی یاد آ رہے ہیں ۔ اے پی سی میں خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی سے حکومت لرز جائیگی،ہم کب تک وسیع تر قومی مفاد کے پیچھے چھپتے رہیں گے;238;وقت آگیا ہے کہ اس اصطلاح کو تبدلی کریں ،یا قومی مفاد کا مطلب ظلم کو تسلیم کر لینا اور گردن جھکا دیناہے;238;پی ٹی آئی حکومت نے انصاف کا ایک ترازو ہے اور اپوزیشن کیلئے دوسرا ،ہم ایسے احتساب کے آگے کیوں جھک رہے ہیں ;238;میرا خیال ہے کہ مریم نواز اپنی بات کا خود ہی جواب دے گئیں اور اپنے موَقف کا جواز پیش کر دیا ۔ سچ تو یہی ہے کہ عوام کا مخلص کوئی بھی نہیں ۔