- الإعلانات -

اے پی سی……… حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

ل پارٹیز کانفرنس کے ہونے سے قبل اس کا بہت زیادہ شور سنا جارہا تھا کہ سیاسی میدان میں ایک ہلچل ہوگی، مولانا فضل الرحمن تمام جماعتوں کو متحد کرکے حکومت کیخلاف باقاعدہ ایک مہم جوئی کریں گے ، حکومتی اندرونی و بیرونی سطح پر وسیع پیمانے پر تبدیلیاں ہوں گی گو کہ حکومت کیخلاف مہم چلانے، چیئرمین سینیٹ ہٹانے ، یوم سیاہ منانے پر اتفاق کیا گیا لیکن اس کے باوجود اس اے پی سی کو کسی صورت بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں کہا جاسکتا ۔ گزشتہ روز اسلام ;200;باد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر اے پی سی ہوئی جس میں شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، یوسف رضا گیلانی، اسفند یار ولی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماءوں نے شرکت کی ۔ کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں کہاگیا کہ پاکستان کی تمام مقتدر اور حزب اختلاف سے وابستہ پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس اپنے اس موَقف کا اعادہ کرتی ہے کہ ملک پاکستان پر عوام کی نمائندہ حکمرانی موجود نہیں ، ملک پر مسلط نام نہاد حکمرانوں کا ٹولہ جولائی2018کے عام انتخابات میں ملک گیر اور بدترین دھاندلی کے نتیجے میں قوم پر مسلط کیا گیا جسے تمام سیاسی جماعتیں مسترد کرچکی ہیں ، کل جماعتی کانفرنس میں حکومتی فیصلوں کو ملکی سلامتی، خود مختاری اور بقاء کے لئے خطرہ قرار دیا گیا ، پاکستان کی نظریاتی شناخت اور قرآن وسنت کے اساسی اعتقادات پر حکومت کے معاندانہ رویوں سے قوم کے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچی ہے جس پر ا سے قوم سے معافی مانگنی چاہیے،ملک کا ہر شعبہ زبوں حالی کا شکا رہے اور ملکی معیشت زمین بوس ہو چکی ہے، ملک دیوالیہ پن کی حدود کو عبور کرنے کی تیاری کر رہا ہے، حکومتی قیادت کے فیصلوں نے ہمارے شکوک و شبہات کو یقین میں بدل دیا ہے اور بیرونی قرضوں کا سیلاب اور معاشی اداروں کی بد نظمی معیشت کو دیوالیہ کرنے کو ہے، غربت و افلاس کی بڑھتی صورتحال پر تشدد عوامی انقلاب کی راہ ہموار کرتی دکھائی دیتی ہے، معاشی زبوں حالی، بیرونی ادائیگیوں کا دبا ملکی سلامتی کےلئے بڑا چیلنج بن چکے ہیں اور حکمرانوں کا ایجنڈا ملکی مفادات کی بجائے کسی گھناءونی سازش کا حصہ ہے، پاکستان کو ملک دشمن قوتوں کی ایما پر معاشی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے، بزنس کے مواقع مشکل بنا دیئے گئے ہیں اور معیشت آئی ایم ایف کے سپرد کر دی گئی ہے ، اسٹریٹجک اثاثے اور سی پیک بچانے کےلئے ریاستی اداروں کی پشت پناہی کرتے ہوئے ان کا دفاع کرنا ہو گا ۔ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ25 جولائی کو دھاندلی زدہ الیکشن کیخلاف یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا گیاجس دوران اپوزیشن کے مشترکہ جلسے ہوں گے،سیاسی جماعتیں پارلیمان کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج جاری رکھیں گی، وزیراعظم کا قرضوں کے خلاف انکوائری کمیشن مستر د کرتے ہوئے اسے پارلیمنٹ پرحملہ قراردےدیاگیاہے،رہبرکمیٹی نئے چیئرمین سینیٹ کیلئے متفقہ امیدوارلائے گی،پارلیمانی نظام حکومت ،18ویں ترمیم کیخلاف کوششوں کی مذمت کی گئی ۔ دوسری جانب وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریا ت ڈاکٹر فردس عاش اعوان نے اپوزیشن کی اے پی سی کوناکام ترین قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کو کوششوں کے باوجود اقتدار کا چاند نظر نہیں ;200;یا، اب توسلیکٹڈ، الیکٹڈکے بعدریجیکٹڈکی بات بھی ہونی چاہیے ،ہ میں اے پی سی کے اعلامیے پرہنسی آرہی ہے، حکومت گرانے والے کسی ایک بیانیے پرمتفق نہیں ہوسکے، سیاسی اداکاروں کوبجٹ میں صرف نقاءص نظرآئے، رہبر کا لفظ قوم کےساتھ مذاق ہے،رہبررہزن نہیں ہوتا، اپوزیشن کوایک دوسرے سے بھی خطرہ ہے اور رہبر کونسل ارکان کے دامن کرپشن سے داغدارہیں ، اے پی سی ایک بیانیے پرمتفق نظرنہیں آئی ، تمام کرتب دکھانے والے سیاسی اداکاراے پی سی میں شریک ہوئے،اے پی سی مسلسل 10 گھنٹے جاری رہنے کے بعدناکام ہوگئی،اے پی سی میں کرپشن کے تدارک کے لیے کوئی بات نہیں کی گئی، پاکستان میں آئین اورقانون کی حکمرانی ہے، نوازشریف کوتو سپریم کورٹ نے تاحیات نا اہل قراردیا،عمران خان کوتو پارلیمنٹ نے ووٹ دےکروزیراعظم منتخب کیا، چیف الیکشن کمشنرسے لے کرصوبائی کمشنرتک اس وقت کی حکومت نے نامزدکیے تھے، الیکشن کمیشن کوپی ٹی آئی نے نہیں بنایاتھا، اپوزیشن کی بقاکرپشن سے جڑی ہے، اعلامیے میں کرپشن کی روک تھام کے لیے کوئی لاءحہ عمل نہیں دیاگیا ، اے پی سی ارکان اگلے4سال صبر کے ساتھ پرانی تنخواہ پر کام کریں گے ۔

’’ سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی کی دور اندیش گفتگو

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام’’سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ پہلے ہی کہہ دیا تھا اے پی سی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا،اے پی سی میں کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جسے خبر کہا جائے،عمران خان کی حکومت کو اے پی سی کی کوئی پرواہ نہیں ہے،ڈالر کی قیمت بڑھنا لمحہ فکریہ ہے ، مہنگائی کا طوفان ہے،عمران خان ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں ، عمران خان جو بھی کر رہے ہیں وہ ملک کی بہتری کےلئے ہے،سود سے ملک کی جان چھڑانی چاہیے کیونکہ یہ اللہ سے کھلی جنگ ہے،میری معلومات ہیں نواز شریف کی 10ارب ڈالر کی ڈیل ہو چکی ہے،آصف زرداری ابھی تک کچھ نہیں دینا چاہتے ہو سکتا ہے وہ بھی تیار ہو جائیں ،لگتا ہے معاملات جلد حل ہو جائیں گے،پرویز مشرف کے دور میں دی گئی ایمنسٹی سکیم سب سے شاندار تھی،مولانا فضل الرحمان پرانے سیاستدان ہیں ، حکومت کو انہیں ساتھ لیکر چلنا چاہیے،عمران خان کہتے ہیں سیاحت ،بکریوں اور انڈوں سے پیسہ آئے گا،اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان دنیا کا خوبصور ت ترین ملک ہے،پاکستان میں شاندار سیاحتی مقامات ہیں لیکن وہاں سیاحوں کیلئے سہولتیں نہیں ۔

قومی کرکٹ ٹیم سیمی فائنل مرحلے میں پہنچنے کے قریب

سرفراز احمد کی قیادت میں قومی کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ کے دوران ناقابل شکست نیوزی لینڈ کو پچھاڑ کر سیمی فائنل مرحلے میں پہنچنے کیلئے جگہ پکی کرلی ہے تاہم قومی ٹیم کو بقیہ دو میچز میں افغانستان اور بنگلہ دیش کو بھی شکست دینا ہوگی ۔ ورلڈ کپ میں اب تک پاکستانی ٹیم نے انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کو شکست سے دوچار کیا جبکہ ویسٹ انڈیز اور بھارت کیخلاف قومی ٹیم میچ جیت نہ سکی ۔ ورلڈ کپ میں پاکستان کی طرف سے بابر اعظم نے پہلی سنچری بھی سکور کی ۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کیخلاف ناقابل شکست اننگ کھیل کر قومی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرایا اور ساتھ ہی ون ڈے کرکٹ میں 3000 رنز کا سنگ میل بھی عبور کیا ۔ ساتھ ہی حارث سہیل نے بھی شاندار اننگ کھیلی ۔ باءولنگ میں پاکستان کے محمد عامر ورلڈ کپ کے کامیاب باءولروں میں اس وقت دوسری پوزیشن پر ہیں جبکہ آسٹریلیا کے سٹارک پہلے نمبر پر ہیں ۔ بیٹنگ میں آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر پہلے اور بنگلہ دیش کے شکیب الحسن دوسرے نمبر پر ہیں ۔ ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم نے ابھی تک فاسٹ باءولر حسنین کو استعمال نہیں کیا ۔ ذراءع کے مطابق افغانستان کے میچ میں حسنین کو ٹیم میں شامل کیا جائے گا کیونکہ انہوں نے پی ایس ایل میں شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا تھا ۔