- الإعلانات -

ترقی۔۔۔ بھارت کہاں کھڑا ہے !

بیکاری و عریانی و مے خواری و افلاس

کیا کم ہیں یہ برہمنِ بھارت کی فتوحات

ہندوستان کے حکمران طبقات تو اکثر اپنی عظمت کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں ، جبکہ ناقدین کی رائے میں دہلی سرکار کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا مظہر مندرجہ بالا شعر ہے ۔ اسی متضاد صورتحال کا جائزہ لیتے بہت سے انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ بھارت میں خواتین طرح طرح کے مظالم سہہ رہی ہیں اور ان کے ساتھ بھارتی معاشرے کے طرز عمل کو کسی بھی طور مساویانہ قرار نہیں دیا جا سکتا مگر اس ضمن میں قبائلی ہندو خواتین کی حالت تو ایسی قابل رحم ہے جن کا تصور بھی دور حاضر میں نہیں کیا جا سکتا ۔ ہندوستان میں نکسل تحریک کے فروغ میں اسی عنصر کا بنیادی عمل دخل ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت کے کل رقبے میں سے 40 فیصد حصے پر عملی طور پر نکسل گوریلوں کا کنٹرول ہے اور تقریباً ہر روز ان کی کاروائیوں میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے درجنوں اہلکار اور عہدیدار ہلاک ہو رہے ہیں تبھی تو چند روز پہلے مہاراشٹر کے گڑچرولی میں 20 سے زائد انڈین فوجی ایک ہی حملے میں نکسل چھاپہ ماروں کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھے ۔ خانہ بدوش ہندو قبائلی خواتین کی حالت زار کا اندازہ صرف اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ممتاز ہندو خاتون صحافی اور دانشور ارون دھتی رائے نے انکشاف کیا کہ بھارتی معاشرے میں خانہ بدوش ہندو قبائلی خواتین کو اپنی شادی کے بعد اپنے جسم کا اوپری حصہ عریاں رکھنا پڑتا ہے اور اکیسویں صدی کے اٹھارہ برس گزر جانے کے باوجود بھی ان کروڑوں بے کس ہندو خواتین کو اونچی ذات کے ہندوءوں کے بنائے ان گھٹیا اور فرسودہ قواتین اور روایات کی سختی سے پابندی کرنی پڑتی ہے اور حد درجہ امتیازی سلوک کا شکار ہونا پڑتا ہے ۔ اس انسان دوست ہندو خاتون صحافی کے مطابق بھارت کے بالا دست طبقات کے اسی ظالمانہ طرز عمل کے نتیجے میں بھارت کے مختلف صوبوں میں نکسل تحریک کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے اور تاحال اس میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، کیونکہ نکسل تحریک خواتین اور معاشرے کے دیگر طبقات پر ہونے والے اس وحشیانہ اور غیر مساوی رویے کے خلاف سرگرم عمل ہے اور اپنے دعوے اور عمل سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ اس قسم کا طرز عمل گوارہ نہیں کرے گی ۔ اسی وجہ سے ہندوستان کے خانہ بدوش ہندو قبائل اور نچلی ذات کے ہندوءوں میں یہ تحریک حیرت انگیز سرعت کے ساتھ مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور اپنے زیر قبضہ علاقوں میں نکسل چھاپہ ماروں نے اچھوت اور ہندو قبائلی خواتین کے ساتھ ہونے والے اس قسم کے سلوک کی خاصی حد تک حوصلہ شکنی کی ہے ۔ واضح رہے کہ بھارت کے اونچی ذاتی کے ہندوءوں کی بالا دستی کے معاشرے میں خواتین پر صرف اسی طریقے سے ظلم نہیں ڈھایا جا رہا بلکہ پسمانہ ہندو خواتین سے غیر مساوی سلوک کئی دوسرے طریقوں سے بھی روا رکھا جا رہا ہے جس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں ۔ 1 : کوئی ہندو اچھوت اور قبائلی خاتون یہ حق نہیں رکھتی کہ وہ اپنے ہاتھوں سے کسی بھی فصل کے بیج بو سکے یعنی کاشت کاری کر سکے، اس عمل کو انتہائی بدشگونی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور ایسی خواتین کو عبرت ناک سزائیں دی جاتی ہیں ۔ 2 : خواتین کو ماہانہ خصوصی ایام میں گاءوں سے باہر بنی الگ تھلگ جھونپڑی نما کوٹھریوں میں بھیج دیا جاتا ہے اور تقریباً ایک ہفتے بعد انھیں گاءوں واپس آنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ وہ اپنے کھانے پینے کا سامان بھی اپنے ساتھ لے جاتی ہیں کیونکہ ان دنوں میں ان کے ساتھ کسی قسم کا ربط و ضبط حتی کہ بات چیت ممنوع ہوتی ہے اور ایسا ہونے کی صورت میں مذکورہ خاتون کو ہی مجرم اور ذمہ دار گردانا جاتا ہے ۔ 3 : ان خواتین کی زبردستی شادیاں اور اغوا انتہائی معمول کی بات ہیں ۔ 4 : ان علاقوں میں بھارتی فوجی اور نیم فوجی دستے تبھی داخل ہونے کی جرات اور زحمت کرتے ہیں جب انھیں کھانے کے لئے مرغیوں یا اجتماعی آبرو ریزی کے لئے خاتون کی خواہش اور ضرورت ہوتی ہے ۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے غیر جانبدار تجزیہ نگاروں نے رائے ظاہر کی ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست ہونے کا دعویدار ہے اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا کی اکثریت اس بھارتی دعوے پر یقین بھی کرتی ہے ۔ ایسے میں مہذب دنیا اور انسانی حقوق خصوصاً عورتوں کے حقوق کے بین الاقوامی علم برداروں کا شاید یہ فریضہ ہے کہ بھارت میں ہو رہی انسانی حقوق کی پامالیوں کے اس سلسلے کی طرف توجہ دیں ۔ دلچسپ مگر افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ یہ سب کچھ اس ملک میں ریاستی اور حکومتی سرپرستی میں منظم انداز میں رونما ہو رہا ہے جہاں ایک خاتون 16 برس سے زائد عرصہ تک وزارت عظمیٰ (مسز اندرا گاندھی) کے منصب پر فائز رہی ہیں اور ابھی بھی کانگرس کی اصل سربراہ سونیا گاندھی ہی ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی رابڑی دیوی، مایا وتی، ممتا بینر جی، شیلا دکشت جیسی خواتین بھارتی سیاست میں اپنا مقام رکھتی ہیں ۔ مگر اس کے باوجود خواتین کی حالت زار میں نمایاں بہتری لانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں اور انہی علاقوں میں نکسل تحریک کا زیادہ اثر و رسوخ بھی ہے ۔ مندرجہ بالا مختصر تجزیہ کے بعد شاید کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی صنف یا گروہ کے چند افراد کے نمائشی عہدے حاصل کر لینے سے اس پورے طبقے کی حالت بہتر نہیں ہو سکتی ۔ اس بات سے یہ امر بھی واضح ہوتا ہے کہ بھارت جیسی غیر مساوی بلکہ ظالمانہ سوساءٹی جیسے مزاج کا حامل معاشرہ یا ریاست زیادہ دیر تک اپنی موجودہ ہیءت اور سالمیت کو برقرار نہیں رکھ سکتا ، شاید یہی وجہ ہے کہ نکسل تحریک کے ان دعووں کو سرے سے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ہندوستان اپنے ہی تضادات اور مظالم کے بوجھ تلے دب کر قصہ پارینہ بن جائے گا ۔