- الإعلانات -

اشرف غنی کا دورہ پاکستان۔۔۔ قیام امن کیلئے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور افغانستان اس خطے کے دو اہم ترین ممالک ہیں اور افغانستان میں قیام امن پاکستان کیلئے انتہائی فائدہ مند ہے وہاں پر اگر انارکی پھیلے ، دہشت گردی ہو، بم دھماکے ہوں ، قتل غارت گری ہو، غرض کہ کوئی بھی واقعہ ہو اس سے پاکستان براہ راست متاثر ہوتا ہے ۔ پاکستان نے لاتعداد مرتبہ بین الاقوامی برادری کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ مسئلہ افغانستان اور طالبان کے مسئلے کا حل فوجی نہیں مذاکرات کے ذریعے ہے کیونکہ دنیا کا کوئی بھی مسئلہ ہو وہ باہمی گفت و شنید سے ہی حل ہوتا ہے اور ہمیشہ پاکستان نے طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے سلسلے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ کیونکہ پاکستان کی خواہش رہی ہے کہ خطے میں امن و امان قائم رہے چاہے مسئلہ کشمیر ہو، مسئلہ افغانستان ہو، مسئلہ فلسطین ہو ، غرض کہ دنیا بھر کے مسائل مذاکرات سے ہی حل ہوسکتے ہیں ۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے دوران بھی انہیں یہ چیز باور کرائی گئی کہ پرامن افغانستان ہی پاکستان کے حق میں ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے افغان صدر اشرف غنی نے ملاقات کی جس میں افغان مفاہمتی عمل اور دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی ۔ ملاقات میں صدر اشرف غنی نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا جبکہ معیشت اور عوامی رابطوں میں اضافے پر بھی گفتگو کی گئی ۔ دونوں ممالک میں تجارت و سرمایہ کاری سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوا ہے ‘طور خم بارڈر 24گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ کیاگیا ،افغانستان میں امن و استحکام سے پاکستان اور خطے کی ترقی وخوشحالی جڑی ہے‘ پاک افغان ویزا عمل کو مزید ;200;سان بنانے پر اتفاق ہوا ۔ دونوں ملکوں میں مواصلات، توانائی، ثقافت، عوامی روابط اور امن و اخوت کیلئے وضع کردہ حکمت عملی کو عوام کی بہتری اور بہبود کیلئے بروئے کار لانے پر اتفاق کیا گیا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہاکہ افغانستان اور پاکستان کے مابین دیرینہ جغرافیائی اور تاریخی تعلقات ہیں ، افغان عوام نے بے پناہ مصائب اورمشکلات کا سامنا کیا ہے، افغانستان میں پائیدارامن، استحکام اور خوشحالی پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے، پاکستان نتیجہ خیز مذاکرات کی ضرورت پر ہمیشہ زوردیتا رہا ہے اور افغان امن عمل کےلئے کھلے دل اور نیک نیتی سے مصالحانہ کردار ادا کرتا رہے گا ۔ اشرف غنی کے دورہ سے دونوں ممالک مزید قریب ;200;ئیں گے، دورے سے دو طرفہ تعلقات کے استحکام میں مدد ملے گی ۔ پاکستان افغان امن عمل میں نیک نیتی سے مصالحتاً کردار ادا کرتا رہے گا، اب ماضی کو بھول کر مستقبل کا سوچنا ہو گا، پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے ۔ پاکستان نتیجہ خیز مذاکرات پر زور دیتا ہے، افغان مذاکرات ہی پائیدار امن و استحکام کا واحد راستہ ہیں ، عدم استحکام کے باعث افغان عوام نے مشکلات کا سامنا کیا ہے ۔ دونوں ممالک کے دیرینہ جغرافیائی تاریخی تعلقات ہیں ، امن کےلئے پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے ۔ دونوں ممالک میں روابط میں بحالی سے خوشحالی ممکن ہے ۔ پاکستان اور افغانستان کو باہمی تعلقات کے فروغ کیلئے روابط کو بڑھانا ہو گا ۔ افغانستان میں امن و استحکام سے پاکستان اور خطے کی ترقی وخوشحالی جڑی ہے ۔ اعتماد سازی کے حوالے سے پاک افغان مذاکرات مفید ہیں اور صحیح سمت میں ;200;گے بڑھ رہے ہیں ۔ دوسری جانب وزیرا عظم عمران خان اور افغان صدراشرف غنی کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی ۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات ،خطے کی سیکیورٹی اورقیام امن سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ادھر افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے صدرڈاکٹر عارف علوی سے بھی ملاقات کی ۔ ایوان صدر میں وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ قبل ازیں افغان صدر اشرف غنی 2روزہ دورے پر پاکستان پہنچے،اسلام آباد کے نور خان ایئربیس پر افغان صدر کا استقبال کیاگیا جبکہ آنے والے مہمان کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی ۔ امید ہے کہ آنے والے دنوں میں افغانستان میں امن قائم ہوگا اور وہاں کے مسائل مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیے جائیں گے ۔ کیونکہ ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ جب روس نے اس خطے میں قدم رکھا تھا تو وہ کامیاب ہوکر نہیں نکلا اب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا ہے تو ابھی تک حالات کنٹرول میں نہیں آسکے ، اب امریکہ افغانستان سے جانا چاہتا ہے تو اس کا واحد راستہ مذاکرات ہی ہیں جو کہ پاکستان ان قوتوں کو سمجھانے کی بارہا کوششیں کررہا ہے ۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی;224224;وزیراعظم کا نوٹس

اس وقت ملک کا سب سے بڑا اور اہم ترین مسئلہ مہنگائی ہے کیونکہ ڈالر کی قیمت میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اس کی وجہ سے تمام اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے عوام مہنگائی کی چکی میں بری طرح پِس رہی ہے، بجلی مہنگی، آٹا مہنگا، گیس مہنگی، روٹی مہنگی ، پٹرول مہنگا، اشیائے خوردونوش مہنگی حتیٰ کہ حکومتی ادارے یوٹیلٹی سٹورز پر بھی اشیاء مہنگی کردی گئی ہیں جس چیز پر ہاتھ رکھیں اس پر ہی آگ لگی ہوئی ہے ۔ دو وقت کی روٹی مشکل اور چھت بنانا تو کسی خواب کی دنیا میں رہنے کے ہی مترادف ہے اس بڑھتی ہوئی مہنگائی پر وزیراعظم نے فوری طورپر نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے سات دنوں میں رپورٹ مانگ لی ہے اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت ترین کارروائی کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں ، ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان نے ایمنسٹی اسکیم کے مقررہ وقت میں اضافے کا عندیہ دیتے ہوئے سرکاری ٹی وی پرحکومت کی اثاثہ جات ظاہر کرنے کی سکیم پر خصوصی ٹرانسمیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاہے کہ لوگوں کو اثاثہ ظاہر کرنے کی سکیم سے فائدہ اٹھانا چاہیے،30جون کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد آئندہ لاءحہ عمل 48گھنٹوں میں سامنے لایا جائے گا ، بدعنوانی کی وجہ سے ہی مہنگائی اور بیروزگاری بڑھتی ہے ،لوگوں کو احساس دلانا ہے کہ عوام کا پیسہ ان پر خرچ ہوگا، ہماری حکومت بزنس فرینڈلی ہوگی ، این آر او نے10 سال میں ملک کا قرضہ 6ہزار سے30ہزار ارب تک پہنچا دیاہے،یہ لوگ ڈرے ہوئے ہیں کہ یہ آدمی این آر او نہیں دےگا ، وزیراعظم آفس کا 30 کروڑ روپے کا خرچہ کم کیا،سسٹم میں جو اصلاحات کریں گے اس سے حالات بہتر ہوں گے، قوموں کی زندگی میں ایسا وقت آتاہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، جب تک آمدن نہیں بڑھتی مسائل رہتے ہیں ، جب قوم ارادہ کرلے تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتاہے،یہ قوم دنیا کو ایک مثال دینے کے لیے بنی تھی، رشوت دینے والی قوم عظیم نہیں ہوسکتی، ایف بی آر کی اصلاحات کریں گے ، تاجر برادری کو ری فنڈ نہ ملنے کا معاملہ میں خود دیکھوں گا، ایف بی آر میں اصلاحات کے ساتھ ای گورننس بھی ہماری ترجیح ہے ۔ دوسری جانب وزیر اعظم نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور انتظامیہ کی جانب سے اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام صوبائی چیف سیکرٹریز بشمو ل چیف کمشنر اسلام آباد کو فوری اقدامات لینے اوراس سلسلے میں خصوصی مہم شروع کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ قیمتوں کے کنٹرول سے متعلق قوانین پر موثر عمل درآمد کےلئے فوری طور پر لاءحہ عمل تشکیل دیا جائے ۔ پرائس اور مارکیٹ کمیٹیوں کو مزید موثر بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت سخت کاروائی عمل میں لائی جائے، مقامی اور مخصوص قوانین پر مکمل عملدرآمد کے ذریعے سروس ڈیلیوری کو یقینی بنانا اور عوام الناس کو ریلیف فراہم کرنا فیلڈ انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔