- الإعلانات -

آرمی چیف کامستقبل کی راہیں متعین کرنے کے حوالے سے کلیدی خطاب

ملک کے موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے انتہائی کلیدی بیان دیاہے، کیونکہ ان حالات کے پیش نظریقینی طورپرحکومت مشکل فیصلے کررہی ہے اور یہ بات وزیراعظم متعدد بار اپنے بیانات اورقوم سے خطاب میں باور کراچکے ہیں کہ ہ میں مشکل فیصلے کرناپڑیں گے، ساتھ ہی انہوں نے ان مشکل فیصلوں کی وجوہات بھی بتائیں ، کہ ماضی میں کئے گئے غلط اقدامات کی وجہ سے آج ملک معاشی بحران کا شکار ہے ، ان ہی حالات کو پیش نظررکھتے ہوئے آرمی چیف نے بھی کہاکہ مشکل حکومتی فیصلوں کو کامیاب بنانا سب کی ذمہ داری ہے ،یقینی طورپر جب تک اس حوالے سے سارے ساتھ نہیں دیں گے اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار ہونا مشکل بات ہے ، پھرجنرل قمرجاویدباجوہ نے ایک اورانتہائی بات کہی کہ وقت آگیاہے ہم سب ایک قوم بن کرسوچیں ،یہ بات بھی درست ہے کیونکہ جب تک ہم من حیث القوم مل کرکوئی فیصلہ نہیں کریں گے اس وقت تک منزل کوحاصل نہیں کرپائیں گے، کسی بھی ملک اور قوموں کی ترقی میں معیشت کاکردار ریڑھ کی ہڈی جیسا ہوتا ہے، پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی حکومت آئی ہے جو کرپشن کے خلاف انتہائی اہم اقدامات کررہی ہے ،پھر یہ بات بھی دیکھنے میں آرہی ہے کہ حکومت اور فوج ایک ہی پیج پر ہیں جبکہ ماضی میں ایسا کہیں خال خال ہی نظرآتاہے ،جمہوری سیاستدانوں اور فوج میں تقریباً زیادہ تر چپقلش رہی لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں یہ بات کہیں نظرنہیں آرہی ،آج حکومت اور فوج ملکر ملک کو درپیش ہرقسم کے بحران سے نکالنے کےلئے کوشاں ہے، ایسے میں ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اگر دنیا میں سراٹھاکرجیناچاہتے ہیں ،ملک کو ترقی یافتہ دیکھناچاہتے ہیں ،کرپشن کاخاتمہ چاہتے ہیں ، انصاف کابول بالاچاہتے ہیں ، معیشت کومضبوط چاہتے ہیں ،ملک میں امن وامان چاہتے ہیں ،مہنگائی کو کنٹرول کرناچاہتے ہیں ، دن دگنی رات چوگنی ترقی چاہتے ہیں ، صنعتی وزرعی ترقی چاہتے ہیں ، دنیا کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کربات کرناچاہتے ہیں ،سرحدوں کو محفوظ بناناچاہتے ہیں ، ایک باوقارقوم کی طرح خودمختارحیثیت سے جیناچاہتے ہیں ، پارلیمانی نظام کوپھلتاپھولتادیکھناچاہتے ہیں ، ملک میں آئین وقانون کابول بالا دیکھنا چاہتے ہیں ، ایوانوں میں قانون سازی چاہتے ہیں اوراداروں کی آزادی چاہتے ہیں تو ہ میں حکومت کے مشکل فیصلوں کوکامیاب بنانے میں حکومت کاساتھ دینا ہوگا، تب ہی ہم تمام تروسائل سے سرخرو ہوکرنکل سکیں گے، انہی حالات کے پیش نظر آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں قومی معیشت کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل حکومتی فیصلے کامیاب بنانا سب کی ذمہ داری ہے، ملک مشکل معاشی حالات سے دوچار ہے،کوئی فرد واحد قومی اتحاد کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ،یہ وقت ایک قوم بننے کا ہے، حکومت نے طویل مدتی فوائد کے حصول کیلئے مشکل اور نتیجہ خیز فیصلے کئے،معاشی خودمختاری کے بغیر آزادی کا کوئی تصور نہیں ، مشکل فیصلے نہ کرنے سے مسائل بڑھے، قومی اہمیت کے امور پر کھل کر بات چیت ضروری ہے، حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی قومی اہمیت کے معا ملا ت پر بات چیت ضروری ہے، خطہ کی ترقی کےلئے علاقائی رابطوں کو فروغ دینا ہو گا، ملک نہیں بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں ، مشکل فیصلے کرنے سے مختلف ملک معاشی بحران سے کامیابی سے نمٹے، ماضی قریب میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب مختلف ممالک کو اس طرح کے چیلنجز کا سامنا رہا، معاشی کاوشوں کو کامیاب بنانے کیلئے سب کو ذمہ داری پوری کرنا ہو گی، انشا اللہ ہم ان مشکل حالات سے سرخرو ہو کر نکلیں گے، ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ضرورت ہے، معاشی استحکام کے بغیر خود مختاری کا تصور بے معنی ہے، مسلح افواج نے سالانہ دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لے کر ملکی معیشت کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ۔ حکومتی اقدامات کی کامیابی کیلئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا، ہم تمام تر مشکلات کے باوجود موجودہ معاشی حالات سے نکلنے کیلئے پرامید ہیں ۔ سابقہ ادوار میں مستقل سکیورٹی خطرات، معاشی پالیسیوں اور مالیاتی نظم و ضبط میں عدم تسلسل اور مشکل فیصلہ نہ لینے کے باعث موجودہ معاشی صورتحال کا سامنا ہے ۔ آرمی چیف کا بیان حوصلہ افزاء ہے ،قوموں پرمشکل وقت آتا رہتا ہے تاہم اس کاڈٹ کرمقابلہ کیاجاسکتاہے ،اب بھی ضرورت اس مر کی ہے کہ پوری قوم ایک ہو اورملکرمشکلات کامقابلہ کرے، جب تک ملک پربھاری قرضے کابوجھ نہیں اترے گا اس وقت تک بحران جنم لیتے رہیں گے ۔ پاکستان میں پہلی بار سویلین اور ملٹری لیڈرشپ قوم کی بقا اور ترقی کےلئے ایک پیچ پر ہیں ، پاکستان موجودہ حالات سے ضرور نکلے گا، لیڈرشپ مشکل حالات میں فیصلے کرتی ہے تو مثبت اثرات نظر ;200;تے ہیں ۔ حکومت معیشت کو صحیح کرنے کےلئے پُرعزم ہے ۔ قوموں کے نصیب میں ایسے کلیدی دن کبھی کبھی ہی آتے ہیں جب وژن والے لیڈراُن کے حکمران ہوں ،آرمی چیف کے بیان دیتے ہی وہ ڈالرجوکسی طرح قابونہیں آرہاتھا،مشیرخزانہ بھی کہہ چکے تھے کہ ڈالر کی اڑان روکناہمارے قابو میں نہیں ،لیکن آرمی چیف کے صرف ایک بیان سے ڈالرتقریباً چار روپے نیچے آگیا، اوراگرجنرل باجوہ کے سنہر ے اقوال پرہم سب ملکرعمل کریں تو پھرملک اورقوم کیوں نہیں تمام مسائل سے نکل کرفخرسے جی سکتے ہیں ۔

قومی اسمبلی سے بجٹ2019-20منظور

عمران خان نے کہاتھا کہ فکرمندنہ ہوں بجٹ پاس کرالیں گے بس یہی کپتان کا خاصاہے کہ جو وہ کہتاہے وہ کرتاہے ،قومی اسمبلی میں بجٹ پاس ہوگیا،اب یہ صدرمملکت کی منظوری کے بعدتیس جون کو ملک بھر میں نافذالعمل ہوجائے گا ۔ قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2019-20کا 7036 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ منظور کرلیا،فنانس بل پر حکومتی ترامیم کثرت رائے سے منظور جبکہ اپوزیشن کی تمام 34ترامیم کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں ، فنانس بل کوشق وار منظوری کےلئے زیرغور لانے کی تحریک کی حمایت میں 176حکومتی و اتحادی ارکان اور مخالفت میں اپوزیشن نے 146ووٹ دیئے فنانس بل کی منظوری پر حکومتی ارکان نے وکٹری کے نشان بنائے اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے فنانس بل کی منظوری پر نو نو کے نعرے لگائے گئے اپوزیشن جماعتوں نے فنانس بل میں 2شقوں کے اضافے پر شدید احتجاج کیا ، حکومت پر تنقیدکرتے ہوئے ن لیگ کے احسن اقبال نے کہاکہ یہ بجٹ عوام کیلئے زہر قاتل ہے ،پرویزاشرف نے کہاکہ حکومت بجٹ پر نظرثانی کرے، مسلم لیگ(ن)کے رہنما اورسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ آئی ایم ایف کا بجٹ مستردکرتے ہیں ، یہاں وزرا جھوٹ بولتے ہیں کوئی شرم حیا نہیں رہ گئی جس پر وزیرمملکت ریونیو حماد اظہر نے کہاکہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو یہ لاعلم ہیں ، انہوں نے بجٹ پڑھا ہی نہیں ،یہ بجٹ کسی اقامہ والوں نے نہیں بنایا،پی پی پی کے دور میں 24فیصد مہنگائی تھی، (ن)لیگ کے دور میں ایک لاکھ تنخواہ پر 5ہزار ٹیکس تھا، ہم نے 2500کیا ہے، سرکاری قرضوں پر اعداد شمار کا ان کو پتا نہیں ہے ۔