- الإعلانات -

کفارکبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جہاں پر مسلمان بستے نہ ہوں ۔ دنیا کے اکثر ممالک میں مسلمان مستقل شہری ہونے کے علاوہ کئی ممالک میں باسلسلہ روزگار بھی مقیم ہیں ۔ تقریباً دنیا کے ہر خطے میں اپنی موجودگی کو اپنے کرداراورا پنی صلاحیتوں سے جلا بخشنے والے مسلمان کسی بھی ملک اور اس کے معاشرے کیلئے کبھی بھی بازحمت نہیں رہے ۔ ہر معاشرے کو اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں سے چار چاند لگانے والے مسلمان اپنی اسلامی تعلیمات کے زیر اثر کسی کو بھی نقصان پہنچانے کے روادارنہیں ۔ امن اورآشتی صلح و شانتی سے رہنا اوردوسروں کیلئے آسانی پیدا کرنا اور اپنے حق سے برتر دوسرے کا حق ادا کرنا مسلمانوں کاشیوا رہا ہے ۔ مسلمان ہمیشہ فساد برپا کرنے سے گریز کرتا ہے اورچاہتا ہے کہ کسی طرح بھی فساد کا سبب نہ بنے کیونکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اے ایمان والو زمین میں فساد برپا نہ کرو ۔ اگر وہ کوئی ایسا کام کرتا ہے تو وہ اللہ کے حکم عدولی کا مجرم بنتا ہے ۔ اس لیے مسلمان اکثر اس وجہ سے بھی مار کھا جاتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کی پابندی اور اسلامی تعلیمات کی تقلید کر رہا ہوتا ہے ، نہ وہ بزدل ہوتا ہے اور نہ ہی کمزور لیکن شریعت اسلامی کے تحت وہ کوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد کا سبب نہ بنے اس پریہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلمان کمزور یا بزدل ہے اپنا حق نہیں لے سکتا ۔ میں ماضی کا حوالہ نہیں دیتا بلکہ حال میں موجود مفلوک الحال مسلمانوں کی امثال سے یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ مسلمان بزدل نہیں بلکہ امن کے پجاری ہیں ورنہ چاہیں تو دنیا میں ہر طرف فساد ہی فساد برپا ہو جائے ۔ اس خام خیالی کی مثال کیلئے چیچن مسلمانوں کی مثال کافی ہو گی ۔ جب حق لینے کی ٹھان لیں تو پھر دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت ان کے پاءوں کی دھول بن جاتی ہے ۔ اس معاملے میں طالبان نے بھی ثابت کیا کہ جب مسلما ن ضد پر آجائے تو اپنا آپ اجاڑ لیتا ہے لیکن دشمن کو بھی سر کے بال اور پاءوں کی جوتی میں فرق محسوس نہیں ہوتا ۔ افواج پاکستان نے بھی اپنی دلیری اور اپنے ہم وطنوں کی حفاظت کیلئے ہر قربانیاں دے کر ثابت کیا ہے کہ اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت سے بھی ٹکرا نا ہم جانتے ہیں ۔ میں مثال دیتا ہوں اپنے میانمار کے مسلمانوں کی جن کے خلاف بدھ بھکشوں نے کیا کیا ظلم نہیں کیے لیکن انہوں نے اس کے بدلہ میں معاشرے میں فساد برپا نہیں کیا ۔ دنیا نے دیکھا کہ بوسنیا کے مسلمانوں کے ساتھ کیا نہیں بیتی لیکن انہوں نے مزاحمت میں حد سے گزر جانے کی کبھی کوشش نہیں کی ۔ فلسطین کے مسلمان ظلم پر ظلم برداشت کر رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی عام اسرائیلی یہودی کو اس طرح نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی وہ صرف عسکری و حربی یہودی فوجیوں کے خلاف کوئی کارروائی کرتے ہیں ۔ کشمیر میں مسلمان کیا کچھ نہیں سہ رہا لیکن وہاں پر چند فیصد ہندوءوں کو کبھی انہوں نے تنگ نہیں کیا اور نہ ہی ان کیلئے زندگی کو تنگ کیا ۔ دنیا میں کئی مذاہب کے پیروکار ہیں جن میں اکثریت کے ساتھ عیسائی ہندو بدھسٹ سکھ یہودی ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی دیگر جو غیر مسلم مذاہب کے پیروکار ہیں وہ مسلمانوں سے نفرت کرنے میں ان بڑے مذاہب کے تقلید کار ہیں ۔ یہ اپنی فطرت نہیں بدلتے اور مسلمان اپنے اللہ کے قانون سے اغراض نہیں برتا ۔ تو اپنی خو سے باز نہیں آتا تو ہم اپنی فطرت کیسے بدل لیں ۔ مسلمان تو اللہ کی رضا اور اس کے حکم پر راضی برضا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا حکم زمین میں فساد نہ پھیلانے کا ہے تو ہم اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ۔ جہاد فی سبیل اللہ کا حکم بھی اللہ تعالیٰ کا ہی ہے اور جب حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے تو جہاد کا حکم بھی فرض ہو جائے گا ۔ جب جہاد غیر مسلم اقوام کے مظالم کے جواب میں فرض ہو گیا تو پھر اس کی ادائیگی کیلئے ہر مسلمان کوشش کرے گا تو ایسے میں مزاحمت کی ایک لہر اٹھے گی جس میں چھوٹے مذاہب کی کیا اہمیت ہوگی وہ خود انہیں معلوم ہے ۔ چھوٹے مذاہب کے پیروکاروں میں وہ طاقت نہیں کہ وہ مسلمان اقوام کی کسی بھی جہادی لہر کا سامناکر پائیں ۔ یہاں پر یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ اقوام عالم لاکھ چاہیں اور کوشش کریں کہ مسلمانوں کو چن چن کر مارنے کی ہر کوشش کربھی لیں تو وہ نہ تو مسلمان ختم کر سکتے ہیں اور نہ ہی وہ اسلام کو سرنگوں کر سکتے ہیں ۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو سچ ہو کر رہے گا ۔ شکست کفار کامقدر ہے خواہ وہ آج فاتح اور مسلمان مفتوح ہیں لیکن وہ دن دور نہیں جب کفار سرنگوں ہو کر شکست سے دوچار ہو جائیں گے ۔ انہیں اللہ اوررسول اللہ ﷺ کو تسلیم کر کے ان کے آگے سرنگوں ہونا پڑے گا ۔ قیامت کی زیادہ دور کی بات نہیں قیامت اب قریب ہے ۔ کیونکہ اقوام عالم کا کردار مسلمانوں کی حالت زار سے یہ نظر آ رہا ہے کہ قیامت قریب ہے ۔ اقوام عالم مسلمانوں کو رد عمل کیلئے مجبور کر رہی ہیں جس کے جواب میں آج نہیں تو کل تو ضرور کچھ نہ کچھ ہو گا ۔ چنگاری کو جب اور جیسے ہوا ملے گی تو وہ اس کے مطابق بھڑکے گی ۔ اس بھڑک میں کوئی شعلہ پیدا ہو کر وہ آگ پیدا کرے گا جو بجھائے نہ بجھے گی ۔ چھوٹے اسلحہ کے استعمال سے درمیانے درجے کے ہتھیار اور پھر بھاری ہتھیاروں کے استعمال سے بات جوہری اسلحہ کے استعمال تک جائے گی کیونکہ روایتی اسلحہ جب ختم ہونے کو آئے گا تو جوہری اسلحہ پھر لازمی استعمال ہوگا ۔ استعمال اپنے بچاءو کیلئے ہی ہوگا لیکن استعمال ضرور ہوگا ۔ اقوام عالم کے رہنماءوں کو چاہیے کہ کوشش کریں کہ مسلمانوں کے خلاف رنجش کو اپنے معاشروں میں کم کرنے کیلئے بیان بازی سے گریز کریں ۔