- الإعلانات -

ہوشیار باش نئی دہلی! ۔ خلیج فارس تنازعہ ایک نیاسراب

مسلم دنیا کے قرون وسطی کے پہلے مورخ احمد ابن یعقوب ابن جعفر ابن ودیع الیعقوبی جنہیں ‘‘یعقوبی’’ کے نام سے علم جغرافیہ کے ماہرین عزت واحترام کی نظر سے مانتے ہیں کہ یہ شخصیت دنیائے اسلام کے پہلے مورخ و جغرافیہ داں ہیں ، جنہوں نے نویں صدی عیسوی میں خلیج فارس کو ’’ بحیرہ فارس‘‘ کا نام دیا تھا کیونکہ اس علاقہ میں ابتدا ہی سے دنیا کی اہم ترین آبی گزر گاہ ’’آبنائے ہرمز‘ ‘ کی جغرافیائی سمندر کی خاصیت اور وقعت بڑی اہمیت کی حامل قرار پاچکی تھی، جی ہاں جناب!یہی آبی گزرگاہ ’’آبنائے ہرمز‘‘ بحیرہ ہند سے ہوتی ہوئی چین تک جاملتی ہے اور جس کی سمندری نمایاں جغرافیائی قربت نے ایران کےلئے جزیرہ نمائے عرب اور جنوب مغربی ایشیا کے ساحلی ممالک کے علاوہ چالیس سے زائد ممالک کے لئے تیل اور دیگر تجارتی سامان کی نقل وحمل کے آسان ترین اور قریبی رابطوں کو ممکن بنایا ہوا ہے مطلب یہ ہے کہ’’ آبنائے ہرمز‘‘ پر اگر کسی جنگ آزما عالمی طاقت مثلا امریکا نے کوئی جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو آدھی کے قریب دنیا کا کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ خود امریکا سمیت مغربی دنیا تک متاثر ہوجائے گی لہٰذا ایسے انتہائی غیر یقینی نازک اور حساس موقع پرخصوصا بھارت کو اپنے خطہ میں نمو پذیر ایشیائی ممالک کے ساتھ طے پانے والے تجارتی معاہدات کے اثرات کو یکسر صرف نظر کیئے بنا اپنی سفارتی جائزہ پالیسی پر نہ صرف اب نظر رکھنی ہوگی بلکہ بھارت کو چین کے خلاف امریکی کٹھ پتلی بنے بغیر ان سفارتی امورکوبھی طے کرنے کی جانب فی الفور توجہ دینی چاہیئے جسے ماضی میں وہ خاطر میں لانا تک گوارا کیا جیسے کہ پاکستان کے ساتھ کشمیر جیسا سنگین تنازعہ’پانی جیسے اہم انسانی مسائل اور سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے عسکری واقعات،بھارتی پالیسی سازوں کو یقینا اندازہ ہوجانا چاہیئے کہ امریکا نے افغانستان کے معاملے میں بھارت کو ’’ربراسٹیمپ‘‘ کی طرح خوب استعمال کیا اور جب وقت آیا تو افغان طالبان سے امن مذاکرات کے کسی مرحلے میں بھارت کو ردی کی ٹوکری جیسی کوئی اہمیت تک نہیں دی گئی، نئی دہلی کو اس کے باوجود عقل مگر نہ آئی، ایشا پیسفک کے تھانیدار بننے کے زعم میں مبتلا نئی دہلی کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ چین ایشیا کی ایک عالمی طاقت بننے کے عین نزدیک پہنچ چکا ہے سری لنکا اور بنگلہ دیش کے ساتھ چین نے بہت بڑی مالیت کے کئی معاہدات پر ان دونوں جنوبی ایشیا ئی ملکوں میں میگا ترقیاتی منصوبے شروع کررکھے ہیں جو اب تعمیراتی مراحل کی تکمیل کو پہنچ چکے ہیں پاکستان میں اربوں ڈالر کے خطیر رقم کا غالباً نصف حصہ کی مالیاتی رقم سی پیک کے میگا منصوبے پر لگ چکی ہے ایران کے ساتھ امریکی بہیمانہ اقدامات کی دھمکیوں نے گوادر پورٹ سے بہت ہی نزدیکی علاقہ ‘‘آبنائے ہرمز’’کو اگر اپنی کسی ہوسناکی کا نشانہ بنایا تو اس کے ممکنہ نتاءج ظاہر ہے بہت ہی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں امریکیوں کی دھمکیوں میں آکر بھارت نے وقتی طور پر ایران سے تیل کی ترسیل گو بند ضرور کردی جس سے بھارت کے صنعتی مراکز کو نقصان پہچ رہا ہے کچھ حلقوں کی رائے ہے کہ کل کلاں کو کہیں امریکا ایک مرتبہ پھر بھارت کوچاہ بہاربندرگاہ معاہدے کی ہلہ شیری میں خلیج فارس کی کسی ممکنہ محاذآرائی میں قربانی کا بکر ا نہ بنا ڈالے بھارت یہاں یہ نہ بھولے کہ گزشتہ جمعرات کو ماسکو میں روسی صدر پیوٹن نے ایک پالیسی بیان جاری کیا ہے کہ ماسکو ایران کے بوشہر کے جوہری توانائی کے پلانٹ میں موجود روسی ماہرین کے تحفظ کےلئے سیکورٹی اقدامات میں اضافے پر غور کرریا ہے روسی نائب وزیرخارجہ نےاس موقع پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’’ اگر واشنگٹن اس معاملے میں زیادہ ذمہ دارانہ پالیسی اختیار کرتا تو اس شعبے میں ہ میں جن مسائل کا بھی سامنا ہے وہ پیش نہ آتے‘‘ یوں مزید واضح ہوگیا ہے کہ گوادرسی پورٹ’’ سی پیک‘‘ معاہدہ کی تشکیل میں ہے اور ایرانی بوشہر میں روسی جوہری تکنیک کاروں کی موجودگی سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ اب بھارتی مفاد کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ وہ وقت کی حساس نازکتوں کو سنجیدگی سے سمجھنے کی انسانی کوشش کرئے کہیں ماضی کی طرح جیسے وہ امریکی چھتری تلے افغانستان میں جا گھسا تھا یہی غلطی وہ خلیج فارس میں نہ دھرائے ترقی پذیر جنوبی ایشیا سمیت پورا ایشیا اب کسی قسم کی جنگی عیاشیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا بھارت کو ہرصورت اب اپنے عوام کی سماجی ومعاشرتی اقتصادی اور سیاسی ترقیوں کے لئے ہی سوچنا ہوگا جس طرح پاکستان نے بھی صاف دنیا کو بتادیا ہے کہ پاکستان اب کسی بھی عالمی طاقت کے مفادات کی جنگ کسی صورت میں نہیں لڑے گا پاکستان سمیت تقریبا پورے خطہ میں ’’ ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کا ترقیاتی تصور عملی جامہ کی جانب گامزن ہے روس اور پاکستان ماضی کی نسبت ماضی کے غلط فیصلوں سے تائب ہوتے ہوئے’’ جوہری جغرافیائی ضروریات‘‘ کے انسانی فوائد کے ثمرات حاصل کرنے کا اب تہیہ کرچکے ہیں جنوبی ایشیا میں اب بھارت پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گزشتہ ستراکہتر برسوں کی ثقافتی اناوں کی بلاوجہ کشکمش کی ضد کے تناوسے بے دھڑک نکل باہر آئے جیسے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پہلے نشریے میں جیسے دنیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘‘اگربھارت ایک قدم آگے بڑھائے گا تو پاکستان دوقدم بھارت کی جانب بڑھے گالہٰذا’’ امریکا ایران وقتی کشمکش‘‘ میں بھارتی فیصلہ سازوں کے لئے ہمارا مشورہ یہ ہے کہ وہ امریکا کے داغدار اور شکست خوردہ ماضی سے سبق سیکھیں ، ہ میں یہ نہیں بھولنا کہ چین، روس، افغانستان،وسطی ایشیائی ریاستیں ، ایشیائی پیسفک ریاستیں ،جن میں جنوبی ایشیائی ممالک سمیت خلیج فارس اور مشرقی وسطیٰ،جنوبی کوریا،شمالی کوریا اور جاپان یہ پورا خطہ کتنی ہولناک اورتباہ کن جنگوں کا ایندھن بن چکا اربوں اور کھرباہا کھربوں ڈالرز کے مالی نقصانات اور لاکھوں انسانی جانوں کی قربانیاں ہم ایشیائی انسانوں کے آ باواجداد نے اْٹھائیں اور نقدآورمالی ثمرات سے امریکی کئی دہائیوں سے مستفید ہورہے ہیں پاکستان دشمنی میں ایک بار پھر بھارت کو’’خلیج فارس تنازعہ‘‘ کے سراب میں قربانی کا بکرا بنانے کی واشنگٹن پالیسی نئی دہلی والے کیسے ناکام بناتے ہیں ہ میں یہی تو دیکھنا ہے ہاں ہوشیار باش نئی دہلی والو! پاکستان اور پاکستان کے عوام امریکی پابندیاں جھیلنے کے عادی ہوچکے ہیں ہم تو ایسے فطری آفاقی مذہب دین اسلام کے سچے ماننے والے ہیں جو اپنے ہر پیروکار کو ’’قناعت ‘‘ کی تعلیم سے ابتداء میں ہی روشناس کراتا ہے ۔