- الإعلانات -

پنجاب کا بچت اور کفایت شعار بجٹ

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک تاریخی اور یاد گار دن ہے جب پنجاب میں موجودہ حکومت کا پہلا باقاعدہ بجٹ منظور ہوا اور اس پر پورا ایوان مبارکباد کا مستحق ہے ۔ پنجاب کا بجٹ بچت اور کفایت شعاری کا بجٹ ہے جس کوپاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے خوداپنے آپ سے شروع کیا ۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہونے والی شاہ خرچیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے ۔ سکیورٹی کے نام پر ذاتی رہائش گاہوں کی تعمیر و مرمت کا سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا ہے جس پر سابق دور میں 28 کروڑ روپے خرچ کئے گئے تھے ۔ سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 2 ہزار سے کم کرکے 5 سو کردی گئی ہے ۔ ہم قومی خزانے کے امین ہیں اور عوام کا پیسہ عوام کی فلاح وبہبود پر ہی خرچ کریں گے ۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ دفترکے بجٹ میں سب سے زیادہ کٹوتی کی گئی ہے ۔ آفس کے آپریشنل اخراجات میں 58فیصد کمی کی گئی جبکہ جاری اخراجات میں صرف 2;46;7 فیصد اضافہ کرکے سب سے کم اضافے کی ایک نئی مثال قائم کی ۔ یہ حقیقت ہے کہ سابقہ دور میں لاہورہی میں وزیر اعلیٰ آفس کے علاوہ بھی کئی آفس قائم تھے ۔ کیمپ آفس، نجی رہائشگاہ اوراپنی سہولت کے اعتبار سے کوئی بھی دوسرا دفترجس کی تزئین و آرائش اور عملہ کے اخراجات بھی سرکاری خزانے سے ادا ہوتے تھے ۔ جبکہ عثمان بزدار ایک ہی دفتر میں بیٹھتے ہیں جس کو دیکھ کر ان کی سادگی اور عوام دوستی کا تاثر مزید گہرا ہوتا ہے ۔ بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے گزشتہ سال کی نسبت 47 فیصد زیادہ فنڈز مختص کئے ہیں ۔ اسلامی فلاحی ریاست کے تصور کے پیش نظر ’’پنجاب احساس پروگرام‘‘ کے تحت 65 سال سے زائد عمر کے شہریوں کیلئے ’’باہمت‘‘ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے ۔ معذور افراد کیلئے ’’ہمقدم‘‘ پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے ۔ یتیموں اور بیواؤں کیلئے ’’سرپرست‘‘ پروگرام لایا جا رہا ہے ۔ معاشرے کے محروم طبقے کیلئے ’’مساوات پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے ۔ تیزاب گردی کا شکار خواتین کی بحالی کیلئے ’’نئی زندگی‘‘ پروگرام لائے جا رہے ہیں ۔ حالیہ بجٹ میں پنجاب میں صحت کا سب سے بڑا ڈویلپمنٹ بجٹ دیا جا رہا ہے جو تقریباً46فیصد ہے ۔ اس سے پنجاب میں 9 نئے ہسپتال بنا ئیں گے اور 36 اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کے ذریعے 70 لاکھ خاندانوں کومعیاری نجی ہسپتالوں میں علاج معالجے کی بہترین سہولت فراہم کرنے کا پروگرام بھی روبہ عمل ہے ۔ عام آدمی کیلئے نیاپاکستان ہاوَسنگ سکیم کے تحت اگلے 5 سال میں پنجاب میں 25 لاکھ گھر بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ صوبے میں 6 نئی یونیورسٹیاں بنائیں گے ۔ کاشتکاروں کو سہولت دینے کے لئے زرعی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں اور کاشتکاروں کو زرعی کریڈٹ کارڈ بھی دئیے جائیں گے ۔ پنجاب میں نئی ایگریکلچر پالیسی نافذ کر دی گئی ہے ۔ حالیہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کےلئے بھی بہت زیادہ فنڈز مختص کئے گئے ہیں ۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کیلئے فنڈز مختص کر دئیے گئے جبکہ جگہ کا تعین اتفاق رائے سے کیا جائے گا ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ماضی کی حکومت نے جنوبی پنجاب کی ترقی کیلئے فنڈز دیگر منصوبوں کو منتقل کئے ۔ زیادہ تر فنڈز لاہور اور اپر پنجاب کے بڑے شہروں میں مہنگے منصوبوں میں جھونک دیئے گئے ۔ جنوبی پنجاب کے عوام پسماندگی اور غربت کی چکی میں پستے رہے اور سابق حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کے عوام کو ترقی کے نام پر دھوکہ دیا ۔ بزدار حکومت نے جنوبی پنجاب کی ترقی کیلئے بجٹ میں 35فیصد فنڈز رکھے ہیں جبکہ ماضی صرف 14 یا 17 فیصد بجٹ ہی رکھا جاتا تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب سے ملتان ڈویژن کے ارکان صوبائی اسمبلی نے ملاقات میں اپنے حلقوں ، علاقوں کے مسائل کے حل اور فلاح عامہ کے منصوبوں کے بارے میں تجاویز دیں ۔ جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اراکین اسمبلی کی تجاویز اور سفارشات پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے کہا کہ ہم نے مل کرصوبے کے عوام کی امیدوں اور توقعات پر پورا اترنا ہے ۔ نیا پاکستان منزلیں آسان پراجیکٹ کے تحت پنجاب کے دور دراز کے دیہات کو ترقی کے عمل میں شامل کیا جا رہا ہے اور 15 سوکلومیٹر طویل کارپٹڈ سڑکیں بنائی جا رہی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کی 14 بڑی شاہراہوں کی تعمیر اور توسیع کا منصوبہ بھی تیار ہے ۔ اس مقصد کےلئے بجٹ میں 42 ار ب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر پنجاب میں پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کےلئے ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کی مانیٹرنگ کا موَثر میکنزم نافذ کیا جا رہا ہے جس کی بدولت ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل میں قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کیا جائےگا اور ترقیاتی منصوبوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی ۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں حکومت پنجاب کا بجٹ عام آدمی کی فلاح و بہبود کےلئے ہے اور اس بجٹ میں عام لوگوں کا احساس کیا گیا ہے ۔ مشکل حالات کے باوجود بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں اور بجٹ تحریک انصاف کے منشور کے عین مطابق بنایا گیا ہے ۔ تمام علاقوں کی پائیدار اور متوازن ترقی کو ترجیح دی گئی ہے ۔ سماجی شعبے کی بہتری کیلئے بے مثال اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ۔ پہلی بار ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کی ترقی پر خرچ کرنے کیلئے پائیدار اقدامات کئے گئے ہیں ۔ بجٹ میں حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کئے ہیں اور صوبے کے عوام کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ترجیحات کا تعین کیا گیا ہے ۔ سردار عثمان بزدارکی قیادت میں پنجاب اسمبلی کارکردگی کے حوالے سے سب سے متحرک اسمبلی ہے اور اسے قانون سازی میں دیگر اسمبلیوں کے مقابلے میں برتری حاصل ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایک با صلاحیت اور بے لوث سیاسی رہنماء ہیں ان کی قیادت میں صوبہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے ۔ پنجاب حکومت عام آدمی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور عوامی مسائل کو حل کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔