- الإعلانات -

وزیر اعظم عمران خان کا قومی اسمبلی سے خطاب

وزیر اعظم عمران خان نے بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بجا طور اپوزیشن کو ;200;ئینہ دکھایا اور انہیں یاد دلایا کہ ملکی معیشت اس نہج پر کیسے پہنچی ۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر سے پوچھا کہ وہ کس منہ سے ڈالرکی بات کرتے ہیں ;238; وہ خود ہی ڈالرمہنگا کرنے کے ذمے دار ہیں اور ڈالر باہر لے جاتے رہے،انہوں نے روپے کی قدرگرنے کی ذمے داری ماضی کی حکمران اشرافیہ پر ڈالتے ہوئے کہاوہ ملک سے منی لانڈرنگ کرتی رہی ۔ اپوزیشن کو ;200;ڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ کی بات وہ کر رہے ہیں جن کی مینوفیکچرنگ ہی فوجی آمروں کی نرسری میں ہوئی،اس حوالے سے وزیراعظم نے کونڈالیزا کی کتاب کا بھی حوالہ دیا جس میں این ;200;ر او بارے تفصیل درج ہے ۔ قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ منی لانڈرنگ کرنے والوں سے مجرمانہ سلوک کرے ۔ وزیراعظم نے خطاب میں دل کے پھپھولے کھول کر رکھتے ہوئے ملکی معیشت کی زبوں حالی اور ماضی کی حکومتوں کی مفادپرستانہ پالیسیوں کو جہاں تنقید کا نشانہ بنایا وہ اپنی حکومتی کوششوں کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے، کوشش ہے نچلے طبقے پر کم سے کم بوجھ پڑے، بجٹ میں بھی یہی کوشش کی ہے ۔ قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ ملک کی سب سے بڑی لعنت ہے اور یہ معاشی خسارے کی بڑی وجہ بھی ہے ۔ حکومت کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ملا جو ساڑھے 19 ارب ڈالر تھا ۔ دنیا جانتی ہے جب ملک میں ڈالر کی کمی ہوتی ہے تو اسکی قیمت اوپر چلی جاتی ہے ۔ وزیراعظم کی یہ بات بھی سوفیصد درست ہے کہ جب صاحب اقتدار پیسہ چوری کرکے لے جاتے ہیں تو پھر آپ کسی کو نہیں روک سکتے ۔ زرداری فیملی اور اومنی گروپ سے جعلی اکاونٹس کی چیزیں سامنے آرہی ہیں ، پیسہ چوری کرکے ہنڈی حوالے سے باہر بھجوایا گیا، ہل میٹل اور حدیبیہ مل کا پیسہ پاکستان سے باہر گیا،اس حولے سے اپوزیشن لیڈر کس منہ سے بات کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے اسمبلی پر بھی تنقید کی کہ وہ لوگ جن پر عوام کا پیسہ چوری کرنے کا الزام ہے وہ ایوان میں آکر کیسے تقریر کرسکتے ہیں ;238; ۔ انہوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہ وہاں اگر کسی پر کرپشن کا دھبہ لگ جائے یا ٹیکس کے پیسے کی چوری کی تو نہ اس ملک کا میڈیا اسے انٹرٹین کرتا ہے اور نہ وہ پارلیمنٹ میں جاکر گھنٹوں تقریرکر سکتا ہے وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی پر وہ آکر بیٹھ جاتا ہے جس پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزام ہیں ، جن پر 30 سال سے کرپشن کے الزام ہیں ، وہ اس کمیٹی پر کیسے بیٹھ جاتا ہے ۔ انہوں نے ملکی معیشت کی زبوں حالی سے نکالنے کےلئے سب سے بڑا چیلنج کرنٹ اکاونٹ خسارہ کو قرار دیا کہ اسے برابر کرنا ہے، مشکل حالات میں ہم نے کرنٹ اکاونٹ خسارہ 30 فیصد کم کیا ہے ۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے زرمبادلہ بڑھتے جارہے ہیں ، باہر سے سرمایہ کاری کیلئے آسانیاں پیدا کررہے ہیں ، ہم نے درآمدات کم کردی ہیں ، لگژری امپورٹس بھی کم کریں گے ۔ احساس پروگرام کو 100 ارب سے 190 ارپ روپے کردیا ہے، 217 ارب روپے کی سبسڈی بجلی میں رکھی ہے تاکہ نچلے طبقے پر بوجھ نہ پڑے، ہاوَسنگ میں کوشش کررہے ہیں ، نچلے طبقے کے لیے پہلی مرتبہ ہاوَسنگ اسکیم لے کر آئے ہیں ، اس کے لیے 5 ارب رکھا ہے جو مزیدبڑھے گا ۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ نوجوانوں کے لیے 100ارب روپے رکھے ہیں تاکہ انہیں روزگار دے سکیں ، زراعت اور کسان کے لیے کوشش کررہے ہیں ، آنے والے ہفتے میں کسانوں کیلئے تفصیلی پیکج لے کر آئیں گے ۔ پاکستان میں ڈی انڈسٹریلائزیشن ہوئی ہے ، دنیا آگے اور ہم پیچھے چلے گئے، اگر نوجوانوں کو روزگار دینا ہے تو انڈسٹری اہم چیز ہے، بزنس کمیونٹی دیکھے گی 60 کی دہائی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ حکومت نے انڈسٹری اٹھانے کے لیے پورا زور لگایا ہے ۔ ملک کا مسئلہ رہا ہے کہ جو ترقی ہوئی اور جس طرح لوگ آگے بڑھے، امیر امیر ہوا اور غریب کو اس کا اثر نہیں ہوا، کئی علاقے پیچھے رہ گئے لیکن ہم نے بجٹ میں کوشش کی ہے، اس بار ان علاقوں کو آگے لائیں جو پیچھے رہ گئے، اس میں بلوچستان اور فاٹا شامل ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار فاٹا اور بلوچستان پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لایا جا چکا ہے کہ جب بلوچستان کی محرومی کے خاتمے کےلئے ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ پاک فوج کے دفاعی بجٹ کو منجمد کرنے سے بچنے والے پیسے کو بلوچستان میں لگانے کا عندیہ دیا گیا ہے ،وزیراعظم نے اس کا بھی حوالہ دیا کہ آرمی چیف جنرل جاوید قمر باجوہ نے خاص طور پر کہا کہ ہم چاہتے ہیں دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کرنے سے جو پیسہ بچے وہ بلوچستان اور فاٹا پر خرچ ہو،جس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہاں کی عوام کی سماجی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔ لہٰذا اپوزیشن پوائنٹ سکورنگ کے جھنجٹ سے نکل کر ملکی ترقی کی خاطر بلاوجہ کی ہلڑ بازی سے گریز کرے ۔

کم ظرف افغان کرکٹ شائقین کا قابل مذمت رویہ

ورلڈ کپ میں پاکستان کے ہاتھوں افغان ٹیم کی شکست افغان شائقین کو ہضم نہ ہوئی اور کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپے سے باہر ہوگئے ۔ افغان تماشائیوں کا یہ شرمناک رویہ تمام کرکٹ لووور کےلئے شرمندگی کا باعث بنا ۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے مگر پاکستان کی جیت پر جشن منانے والے پاکستانی تماشائیوں پر گراءونڈ کے اندر دھاوا بول دینا ، کرسیوں ، لاتوں اور گھونسوں کا استعمال ،میچ وننگ اننگ کھیلنے والے وہاب ریاض اور عماد وسیم پر حملے کی کوشش شرمناک اور قابل مذمت رویہ ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے میچز اس سے بھی زیا دہ سنسنی خیز ہوتے ہیں لیکن دونوں ممالک کی عوام سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کبھی ایسی صورتحال پید ا نہیں کی جو افغان تماشائیوں نے کی ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور شر پسند عناصر کسی کی ہلہ شیری پر کھیل کے میدان کو سیاسی میدان جنگ بنانے آئے تھے ۔ پاکستانی شائقین نے کمال تحمل کا مظاہرہ کیا ورنہ کشیدگی بڑھ سکتی تھی ۔ یہاں برطانوی انتظامیہ کی بھی نا اہلی ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے بروقت انتظامات نہ کئے ، میچ کے آغاز سے قبل ہی افغان تماشائیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی تھی، کئی افغان تماشائی ٹکٹ کے بغیر ہی میدان میں زبردستی گھس گئے اور انہوں نے اسٹیڈیم میں دوسروں کی نشستوں پر قبضہ کرلیا،اس حوالے سے پاکستانی شائقین شکایات کرتے ہوئے نظر آئے ۔ آئی سی سی کو اس حوالے سے ایکشن لینا چاہیے کہ آئندہ ایسا نہ ہو، سکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہوں ۔ یہاں افغان حکومت کو بھی اس بات کا نوٹس لینا چاہئے اور وہ اپنی عوام کو تنبیہ کرے کہ ایسا جاہلانہ رویہ کسی بھی کھیل کےلئے تباہ کن ہو سکتا ہے ۔

مری کیبل کار حادثہ،آپریٹرکی غفلت

مری میں تیز آندھی کے باعث پتریاٹہ میں کیبل کار کا رسہ پلی سے اتر گیا،جس سے 12کیبل کاروں میں سوار خواتین اور بچوں سمیت 100کے قریب سیاح پھنس گئے ۔ صد شکر کہ کوئی بڑا سانحہ پیش نہیں آیا اور تمام سیاحوں کو چھ گھنٹوں کے مسلسل ریسکیو آپریشن کے بعد وہاں سے نکال لیا گیا لیکن اس امر کا سخت نوٹس لینا چاہئے کہ آخر ایسا کیوں ہوا ۔ ہزاروں لوگ روزانہ کی بنیاد پر ان چیئر لفٹوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی سیر کو پر لطف بناتے ہیں ، اگر اس طرح کے ناقص انتظامات کئے گئے ہیں تو یہ سیاحوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔ ان کیبل آپریٹرکو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اس کی فٹنس کا مکمل بندوبست رکھیں ۔