- الإعلانات -

دشمنوں کے پروپیگنڈوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں

بلوچستان جغرافیائی اور معدنی حوالے سے پاکستان کا انتہائی اہم صوبہ ہے ۔ اس صوبہ کی آبادی کم اور رقبہ زیادہ ہے ۔ معدنی ذخائر،تیل گیس سے مالا مال یہ صوبہ عرصہ دراز سے دہشت گردی اور بے چینی کا شکار ہے ۔ کئی حکومتیں آئیں اور وعدے کر کے چلی گئیں لیکن حقیقت میں بلوچستان کے مسائل اور معاملات کو کسی نے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کو صرف سیاسی مقاصد اور ذاتی مفادات کےلئے استعمال کیا گیا ۔ ان جماعتوں نے بھی عوامی مسائل کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی ۔ جس کے نتیجے میں بلوچستان میں مایوسی پھیلتی گئی ۔ قائد اعظم محمد علی جناح ;231;کا بھر پور ساتھ بلوچستان کے عوام نے دیا ۔ یہاں کے اس وقت کے سیاسی رہنماءوں کی قیام پاکستان کے لیئے جدوجہد، قربانیوں اور قائد اعظم کے ساتھ کھڑے ہونے سے کون واقف نہیں ہے ۔ اگر ناواقف ہے تو بلوچستان کے مسائل سے پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی قیادت ناواقف ہے ۔ سونے،تیل ،گیس اور معدنی ذخائر سے بھرپور اس صوبہ کے عوام انتہائی غربت اور بے روزگاری کے شکار ہیں ۔ یہاں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ سرکاری ملازمتوں کے معاملے میں بھی امتیازی سلوک کیا جاتا ہے ۔ عوامی مایوسی کو نفرتوں میں بدل دیا جاتا ہے ۔ دشمن عناصر بیرونی آقاءوں کے ساتھ مل کر انجام دیتے ہیں ۔ بلوچستان میں مختلف ادوار میں بڑے بڑے آپریشن کیئے گئے ۔ متعدد باغی گروہ ان آپریشنز کے دوران پہاڑوں پر چلے گئے جن کو دوسرے اور تیسرے درجے کے نام نہاد کمانڈرز لیڈ کرتے رہے جبکہ ان کے بڑے لیڈر پڑوسی ممالک میں بیٹھ کر ان کو اسلحہ اور مالی مدد فراہم کرتے رہے ۔ پاکستان دشمن ممالک نے ان باغیوں کو استعمال کیا اور اس طرح ایک طویل عرصے تک یہ صوبہ تخریب کاری اور افراتفری کا شکار رہا ۔ اس کے بعد جب افغانستان میں حالات خراب ہونا شروع ہوئے ۔ طالبان اور القاعدہ وغیرہ نے بلوچستان کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ۔ اس کے نتیجے میں بلوچستان کے حالات نے نیا رخ اختیار کیا ۔ یہاں دہشت گردی کا آغاز ہوا ۔ بیرونی دشمنوں نے ان باغی رہنماءوں کو استعمال کرنا شروع کیا اور بلوچستان میں ایک طرح سے گوریلا جنگ شروع کرائی ۔ پاک فوج کی کانوائز پر حملے شروع ہوئے ۔ سول مقامات پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے ہونے لگے ۔ پاک فوج ۔ ایف سی اور لیویز اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سویلین افراد شہید ہوئے ۔ جب حالات زیادہ ابتر ہونا شروع ہوئے تو پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائیاں شروع کیں ۔ اس کے بعد ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں کی جگہ خود کش حملوں نے لے لی اور پاک فوج کو خاص نشانہ بناناشروع کیا ۔ پاک فوج نے بھی اپنی حکمت عملی کی اور نہ صرف بیرونی دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں شروع کیں بلکہ ملک اور خاص طور پر بلوچستان کے اندر ان دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا قلع قمع بھی شروع کیا ۔ پاک فوج کی ان بھر پور کارروائیوں کے نتیجے میں پورے ملک کی طرح بلوچستان میں بھی امن کی فضاء قائم ہوئی ۔ خود کش حملے،بم دھماکے اور اغواء کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر رہ گئیں ۔ پاک فوج کی کارروائیاں جاری رہیں حتیٰ کہ بلوچستان میں امن و امان قائم ہوگیا ۔ کئی باغی جن کو فراری کہا جاتا ہے انہوں نے ہتھیار پھینک دیئے اور پاک فوج کے سامنے سرنڈر کیا ۔ ان کامیابیوں میں انٹیلی جنس اداروں نے بھی نہایت اہم کردار ادا کیا ہے ۔ بلوچستان میں امن کے قیام کے بعد چین گوادر میں بین الاقوامی بندرگاہ اور سی پیک منصوبہ کیلئے آمادہ ہوا ۔ بلوچستان میں تعمیر ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوا اور بلوچستان کے مایوس لوگوں کو امید کی کرن نظر آئی ۔ جوں جوں ان اہم منصوبوں پر پیش رفت ہوتی رہی عوام کا اعتماد بڑھتا گیا ۔ بلاشبہ ان منصوبوں پر کام کے آغاز اور بلوچستان کے عوام کے اعتماد کی بحالی کا سہرا پاک فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے سر ہے ۔ اس تمام بیان کردہ صورت حال کے آغاز سے امن کی بحالی تک جو عجیب بات دیکھی گئی وہ بلوچستان کے سیاستدانوں کا کردار ہے ۔ گنتی کے چند سیاسی قائدین کے علاوہ باقی کسی نے بلوچستان میں قیام امن کے لیئے کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا ۔ بلکہ اس تمام عرصے میں مختلف سیاسی حکومتیں قائم ہوئیں ۔ انھوں نے نہ تو قیام امن کیلئے کوئی خاص کردار ادا کیا نہ ہی بلوچستان کے عوام کی خوشحالی اور صوبے کی ترقی کےلئے کوئی اقدامات کیئے ۔ ان سیاسی حکومتوں کے اکابرین نے غریب عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے وفاق کی طرف سے دیئے گئے اربوں روپے کے فنڈز پر ڈاکے ڈالے اور بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر جاری بھاری رقوم ہڑپ کر گئے ۔ ان کی دیکھا دیکھی بعض سرکاری افسران نے بھی لوٹ مار کا بازار گرم کئے رکھا ۔ بعض سرکاری افسران کے تو گھروں سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے ۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ کوئی بھی سیاسی حکومت کرپشن میں ملوث نہیں رہی ہے تو ان حکومتوں کو دور میں سرکاری افسران کو اربوں روپے کی کرپشن کی ہمت کیسے ہوئی ۔ ایسی کوئی مثال شاید ہی موجود ہو کہ کسی بھی سیاسی حکومت کے دور میں کرپٹ افسران میں سے کسی کے بھی خلاف کوئی قانونی کاروائی ہوئی ہو ۔ ذرا غور کریں کہ ایک طرف پاک فوج صوبے میں امن کیلئے کوشاں جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہے ۔ پولیس اور لیویز اہلکار شہید ہو رہے ہیں اور دوسری طرف قومی رہنمائی کے دعویدار صوبے کو لوٹنے میں مصروف ہوں ۔ ان میں مخلص اور ایماندار سیاسی رہنماء بھی موجود ہیں لیکن نقار خانے میں طوطے کی آواز کون سنتا ہے ۔ اب پھر پاک فوج ہی ہے جس سے عوام کی امیدیں وابستہ ہیں اور وہی ان دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے پھر سرگرم عمل ہے ۔ قدرتی آفات،بیماریوں کے پھیلنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والی فوج ہی ہے لیکن کریڈٹ لینے کے لیئے دوسرے آکر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں بعض لوگ یہاں داعش کی موجودگی سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اس بارے میں تو انٹیلی جنس ادارے بہتر جانتے ہیں ۔ آئی ایس پی آر کو اس سلسلے میں بتانا چاہیئے ۔ لیکن ایک حقیقت یہ ہے کہ بے بنیاد اور بلاشواہد کے بیرونی دشمنوں کے پروپیگنڈوں پر کان نہیں دھرنے چا ہئیں ۔ یہ سی پیک اور پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی مذموم کوششیں ہیں ۔ پاک فوج دہشت گردوں اور دشمنوں کی شرارتوں کے خاتمے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے ۔ پاکستان میں امن کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی ۔