- الإعلانات -

انتہا پسند ہندووَں کے ہاتھوں مسلمان کی شہادت

بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم ’بجرنگ دل‘ کا کہنا ہے کہ ہندوستان صرف ہندووَں کا ہے ۔ اس میں مسلمانوں سمیت کسی بھی اقلیت کو رہنے نہیں دیا جائے گا ۔ یہ تنظیم حکمران جماعت بی جے پی کی ہی ایک شاخ ہے جس کا دعویٰ ہے کہ مسلمانوں کی نسل کشی کر کے بھارت کو ہرصورت ہندو ملک بنائے گی ۔ بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ کے شہر خرساون میں انتہا پسند ہندووَں نے مسلمان موٹر مکینک نوجوان پر سرعام وحشیانہ تشدد کر کے شہیدکر دیا ۔ گو کہ اس علاقے کے 2 پولیس افسروں کو معطل جبکہ تشدد کے ذمہ دار پپو منڈل سمیت 5 انتہا پسندوں کو حراست میں لے لیا گیا مگرزیر حراست افراد سے وی آئی پی سلوک کیا جا رہا ہے ۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ24 سالہ شسمس تبریز انصاری جو پونا میں ویلڈنگ کا کام کرتا تھا چھٹیوں پر اپنے شہر آیا ۔ انتہا پسند ہندووَں نے آر ایس ایس رہنماؤں کے اشارے پر موٹرسائیکل چوری کا الزام لگا کر پکڑا اور گرین بیلٹ میں لگے کھمبے سے باندھ کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ۔ انتہا پسند غنڈوں نے تبریز سے اس کا نام پوچھا اور پھر ڈنڈوں چھڑیوں سے مارنا شروع کر دیا ۔ 18 گھنٹے تک اسے اندھا دھند مارا جاتا رہا اور اس سے جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگواتے رہے ۔ آخر حالت غیر ہونے پر اسے 18 جون کو پولیس کے حوالے کر دیا ۔ پولیس کے افسر اور علاقے کے سیاسی رہنما اس ہولناک واقعہ کے دوران غائب رہے ۔ شمس تبریز انصاری جب ان کی تحویل میں آیا تو بروقت اور مناسب علاج نہ کرایا ۔ بعد میں پولیس شمس تبریز کو حالت بہت زیادہ خراب ہونے پر جمشید پور کے صدر ہسپتال لیکر آئی جہاں سے اسے ٹاٹا ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ دم توڑ گیا ۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب بھارت کسی نہ کسی ریاست میں کسی مسلمان کی گرفتاری کی خبر نہ چپھے اور یہ اسے دہشت گرد نہ بنا دیا جائے ۔ پاکستانی جاسوس اور نہیں تو کم از کم جعلی کرنسی کا دھندا کرنے والا اور پھر سب کے کیس خصوصی عدالتوں میں چلانے کےلئے بھیج دیے جاتے ہیں ۔ بھارت میں ایسے بے شمار واقعات روزانہ کی بنیاد پر وقوع پذیر ہوتے ہیں کہ جن کا ہدف صرف اور صرف مسلمان ہیں یا کوئی مسلمان کے نام کے طور پر استعمال ہونے والا شخص ہوتا ہے ۔ مخصوص ہندوانہ ذہن اپنی بیمار ذہنیت کو تقویت پہنچانے کےلئے مسلمانوں کو اپنی نفرت کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر اپنے ظلم کو بڑھاتے جا رہے ہیں اور اپنی اسی ذہنیت کی بنیاد پر بھارت میں مسلمانوں کےلئے عرصہ حیات کو مزید تنگ تر کرتے جا رہے ہیں کہ وہ یا تو یہ ملک چھوڑ جائیں یا ان کے مکمل باجگزار بن جائیں ۔ بھارت میں صرف پاکستانی شہریوں سے ہی برا سلوک نہیں کیا جاتا بلکہ خود بھارتی مسلمانوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک ہوتا ہے ۔ بھارت میں مسلم کش فسادات معمول کی بات ہے ان میں بھارتی درندگی، بربریت اور سفاکی کا بدترین مظاہرہ ہوتا ہے ۔ احمد آباد اور گجرات میں دو ہزار سے زائد لوگوں کو زندہ جلا کر مار ڈالا گیا ۔ سات ہزار بچے یتیم کر دیے گئے اور عورتوں کے ساتھ وہ برتاؤ کیا گیا کہ انہیں اپنے عورت ہونے پر شرم آنے لگی ۔ ایک لاکھ کے قریب رہائشی اور تجارتی مراکز کو تاراج کیا گیا اور تلافی کے نام پر چند سکے متاثرین کو تھما دیے گئے ۔ موت کے اس ننگے ناچ پر سارا عالم چیخ اٹھا ۔ بین الاقوامی سطح پر اس سانحے کی مذمت کی گئی لیکن بھارتی حکمران اس درندگی پر آج بھی نازاں ہیں اور مجرم آزاد پھر رہے ہیں ۔ بھارتی مسلمان آج بھی سہمے ہوئے ہیں ۔ ان کا معاشی اور سماجی بائیکاٹ جاری ہے ۔ کئی انکوائریاں اور تحقیقات ہوئیں لیکن آج تک کسی مجرم کو سزا نہیں ملی، کیونکہ سیاسی اثرو رسوخ رکھنے والے قاتلوں اور فسادیوں کو سزا دیے جانے کی روایات بھارت میں نہیں ہیں ۔ یہ بھارت کے سیکولر اور جمہوریت پسند عناصر کے سوچنے کی بات ہے کہ اگر بھارت میں مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ہندو انتہا پسندوں کو یونہی چھوٹ دی جاتی رہی تو کیا بھارت کے اتحاد و سلامتی کی ضمانت دی جا سکتی ہے ۔ ہندو بہت مکار ،عیاراور چالاک ہے ۔ وہ بغل میں چھری اور منہ سے رام رام پکارتا ہے ۔ ہندو قطعاً نا قابل اعتماد ہے ۔ اس نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ۔ ہندو طاقت کے ذریعے پاکستان پر قبضہ نہیں کر سکتالیکن وہ اپنی عیاری اور منافقت کے ذریعے ہمارے وطن عزیزکو اپنے مال کےلئے منڈی بنانا چاہتاہے اور مقبوضہ کشمیر پر بھی اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ حالات و واقعات نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ بھارت میں سیکولر ازم نام کی کوئی چیز نہیں ۔ وہاں کا معاشرہ اب بھی انتہاپسندی، ذات پات، تعصب اور درجہ بندی کے ہزاروں سال پرانے نظریات پر قائم ہے ۔ سیکولر بننے کےلئے تحمل، بردباری، برداشت اور دوسرے کے خیالات اور مؤقف کو سمجھنے اور سہنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ذات پات پر مبنی انسانی استحصال کے معاشرے میں ایسا معیار اب کم ہی دکھائی دیتا ہے ۔ ہندوؤں کی اسی انتہاپسندی اور تعصب نے ایک صدی پہلے ہندوستان کے مسلمانوں کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ اپنے لئے الگ وطن کی جدو جہد کا آغاز کریں ۔