- الإعلانات -

ایمنسٹی اسکیم سے مستفید ہونے کا ایک اور موقع

حکومت نے ایمنسٹی اسکیم میں عوام کی سہولت کو درپیش رکھتے ہوئے بدھ 3 جولائی تک توسیع کردی ہے تاکہ اگر کسی شخص کو اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے میں تاخیر ہوگئی ہو تو وہ اس سے مستفید ہوسکے ۔ نیز حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ عوام کو قطار دراندرقطار سے بھی بچانا چاہتی ہے ۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ ، وزیر مملکت حماد اظہر، مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی مالیاتی ٹیم نے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی مدت میں 3جولائی تک توسیع کردی ہے تاکہ تمام شہری اس اسکیم سے بھرپورفائدہ اٹھائیں اگر اسکیم سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو یکم جولائی سے بے نامی قانون کا اطلاق ہو جائے گا اس مقصد کے لئے کمیشن بھی بنایا گیا ہے یہ کمیشن اثاثے اورجائیدادیں ظاہر نہ کرنے والوں کاتعاقب کرے گا،ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کیلئے ایک لاکھ کے لگ بھگ درخواستیں آئی ہیں ، اگست کے بعد قومی شناختی کارڈ نمبر این ٹی این بن جائے گالگژری آءٹم پر ٹیکس بڑھایا جائے گامعیشت کی بہتری کے لیے سخت سے سخت اقدامات سے گریز نہیں کیا جائے گا،امیر طبقوں سے ٹیکس لینے کے سوا حکومت کے پاس کوئی چارہ نہیں ، برآمدی صنعت پر کوئی نیا ٹیکس لگایا گیاٹیکس نیٹ میں اضافہ تک بہتری نہیں آئے گی ۔ مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ وزیرمملکت محصولات حماد اظہرچیئرمین ایف بی آرشبرزیدی نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی کوشش ہے عوام سے سچ بولا جائے اور اقتصادی صورت حال کو بغیر چھپائے پیش کیا جائے ۔ بجٹ کا محور پاکستان کے عوام ہیں کرنٹ اکاءونٹ خسارے کو ساڑھے 13سے گرا کر 7ملین ڈالر کرنے کا ہدف ہے ،کفایت شعاری مہم کے تحت اخراجات کو کم سے کم سطح پر لانے کیلئے بھی کوشاں ہیں ،بجٹ میں حکومتی اخراجات 50 ارب روپے کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو ٹیکسز اکٹھا ہوتے ہیں ان میں سے 56فیصد صوبوں کا حصہ دینا ہے ،ہم سب نے مل کر ملک کی معیشت کو بہتر بنانا ہے حکومت صرف کمزور طبقے پر پیسہ خرچ کرے گی، صنعت کاروں کو بجلی، گیس اور قرضوں کیلئے حکومت سبسڈی فراہم کرے گی ۔ مقررہ مدت گزرنے کے بعد اگر کسی نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا تو وہ قانون کے سخت شکنجے میں آئے گا اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ حکومت نے وقت دیدیا ہے ، متعلقہ لوگوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے، ملکی معیشت کی بہتری کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ٹیکس ادائیگی کے ساتھ ساتھ بے نامی اثاثوں کا بھی اظہار کیا جائے تاکہ ملک کو مضبوط قدموں پر کھڑا کیا جاسکے ، اس کیلئے عوامی تعاون انتہائی ضروری ہے ساتھ ساتھ عنان حکمرانی میں بیٹھے ہوئے افراد کیلئے بھی لازمی ہے کہ وہ بھی اس اسکیم میں شامل ہوں اور اگر اس سلسلے میں کسی قسم کا بھی احتساب کا سلسلہ شروع کیا جائے تو وہ اوپر سے کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کے سامنے ایک مثال قائم ہوسکے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ۔

مہنگائی کے ہوشربا طوفان کو کنٹرول کرنے کی ضرورت

ملک بھر میں مہنگائی کا ویسے ہی شورشرابا ہے، ہر چیز مہنگی ہے ، گو کہ وزیراعظم نے اس سلسلے میں نوٹس لیا مگر ساتھ ہی اشیائے خوردونوش کے ساتھ ساتھ بجلی مہنگی ہوگئی، گیس مہنگی ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ، رہی سہی کسر سی این جی سیکٹر کیلئے بھی گیس مہنگی کردی گئی ہے ۔ گھریلو،کمرشل صارفین اور سی این جی سیکٹر کیلئے گیس مہنگی کا اطلاق ہوگیا ہے جس کاباقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا، ماہانہ 100مکعب میٹر گیس استعمال کرنےوالے گھریلوں صارفین کیلئے قیمت 127سے بڑھا کر300روپے ہوگئی، سی این جی کی قیمت میں بھی 22روپے فی کلوتک اضافہ ہوگیاہے ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ماہانہ 200 مکعب میٹر گیس استعمال کرنے والوں کے لیے گیس کی قیمت 264 روپے سے بڑھا کر 553 روپے جب کہ ماہانہ 300 مکعب میٹر گیس استعمال کرنے والوں کیلئے 275 روپے سے بڑھا کر 738 روپے کی گئی ہے ۔ اسی طرح ماہانہ 400 مکعب میٹر گیس استعمال کرنے والوں کیلئے گیس کی قیمت 780 روپے سے بڑھا کر 1107 روپے، ماہانہ 400مکعب میٹر گیس سے زائد گیس استعمال پر گیس کی قیمت 1460 روپے برقرار رکھی گئی ہے ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کھاد کارخانوں کے لیے بطور فیڈ گیس کی قیمت میں 61 فیصد جب کہ بجلی کارخانوں ، سی این جی اور جنرل انڈسٹری کیلئے تمام شعبوں میں گیس کی قیمت 31 فیصد بڑھائی گئی ۔ آخر اس مہنگائی میں غریب عوام دو وقت کی روٹی کیونکر پوری کرسکے گی ۔ اتنی تاریخی مہنگائی کو روکنے کیلئے حکومت کی جانب سے فوری اقدامات ضروری ہیں ۔

چیئرمین سینیٹ کا معاملہ، حکومت ڈٹ گئی

چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کے معاملے پر حکومت اور اتحادی ڈٹ گئے ہیں ، ادھر بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال بھی متحرک ہوگئے ہیں ، چونکہ اپوزیشن پورا زور لگا رہی ہے کہ کم ازکم وہ چیئرمین سینیٹ کو ہی تبدیل کراکے اپنی خفت کو مٹا سکے کیونکہ آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن کو کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی اور اپوزیشن کے 12 ویں کھلاڑی کی تجاویز کو اکثریتی تعداد نے مسترد کردیا، مولانا فضل الرحمن چاہتے تھے کہ ایوان سے استعفے دے دئیے جائیں پھر انہوں اور بھی دیگر معاملات اٹھائے لیکن بلاول بھٹو زرداری نے سب کو مسترد کردیا ۔ اگر یہ کہا جائے کہ اے پی سی قطعی طورپر ناکام ہوگئی تو غلط نہ ہوگا، اب اسی طرح سینیٹ کی چیئرمین کی تبدیلی کے معاملے پر اپوزیشن کو ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑے گا ۔ وزیراعظم سے ن لیگ کے ممبران اسمبلی نے ملاقات کی اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ۔ اس کے بعد ن لیگ جُزبُز ہونا شروع ہوگئی اور احسن اقبال نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر کسی فلور کراسنگ کی تو وہ سمجھ لے کہ وہ اپنے سیاسی ڈیتھ وارنٹ پردستخط کردئیے ہیں ، ابھی تو یہ ابتداء ہے ہماری اطلاعات کے مطابق ابھی مزید ارکان بھی ن لیگ سے روانگی سے پر تول رہے ہیں اور وہ بھی جلد وزیراعظم سے ملاقات کرینگے ، اس لحاظ سے کپتان کی سیاست بالکل صحیح زاویے پر جارہی ہے بس اگر وہ مہنگائی اور ڈالر کو کنٹرول کرجاتے ہیں تو پھر تمام کامیابیوں کے دروازے ان کے سامنے وا ہیں ۔

ایس کے نیازی کی خبر سچ ثابت ہوئی

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روز نیوز کا ہمیشہ سے یہ خاصا رہا ہے کہ اس نے اپنے قارئین اور ناظرین کرام کو بروقت ، قبل ازوقت باخبر رکھنے کا اعزاز برقراررکھا اسی سلسلے میں پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے 25 جون کو اپنے قارئین اور ناظرین کو اس بات سے آگاہ کیا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم کی تاریخ میں توسیع کردی جائے گی اور حکومت نے گزشتہ روز باقاعدہ اس کا اعلان کیا ، اس اعتبار سے ایس کے نیازی کی خبر سچ ثابت ہوئی جس میں انہوں نے کہہ دیا تھا کہ اس اسکیم کی تاریخ بڑھا دی جائے گی تاکہ رہ جانے والے لوگ اس سے فائدہ اٹھاسکیں ۔ یہ صر ف ایک ایمنسٹی اسکیم کی ہی بات نہیں بلکہ ماضی کو دیکھا جائے تو اکثر و بیشتر ایس کے نیازی واضح طورپر اور بین السطور ایسی اہم خبروں سے قبل ازوقت آگاہی کرادیتے ہیں جن کے بارے میں با اختیار ایوانوں میں فیصلے ہورہے ہوتے ہیں ۔