- الإعلانات -

بھارتی خفیہ اداروں کے نئے سربراہان اور!

یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند روز پہلے بھارتی خفیہ اداروں کے سربراہان کی تبدیلی ہوئی ہے اور ;826587; اور انڈین ;7366; کے نئے چیف بنائے گئے ہیں ۔ راء کا نیا سربراہ سمانت گوئل کو مقرر کیا گیا ہے ۔ بھارتی مرکزی کابینہ کی اپوائنٹمنٹ کمیٹی آف کیبنٹ (;656767; ) کے اجلاس اور توثیق کے بعد عمل میں آنے والی اس تقرری کو دلچسپ قرار دیتے مبصرین نے کہا ہے کہ 1984 کے بیچ سے تعلق رکھنے والے سمانت گوئل کا تعلق بھارت کی پنجاب کیڈر سے ہے ۔ وہ بلاشبہ ایک پیشہ ور افسر ہیں مگر ان کی تقرری کے حوالے سے بھارت کے تمام انگریزی اور ہندی اخبارات نے جو مختصر سرکاری پریس ریلیز یا ہینڈ آءوٹ شاءع کیا ہے، اس میں شامل مواد پاکستان کے ہر ذی شعور کیلئے توجہ کا باعث ہونا چاہیے ۔ سمانت گوئل کی نئی تقرری کے ضمن میں شاءع مختصر خبر میں واضح انداز میں کہا گیا ہے کہ وہ بھارت کی نام نہاد بالا کوٹ ایئر سٹراءک کے ماسٹر مائنڈ تھے ۔ 2016 میں سرجیکل سٹراءک کے ڈرامے کو بھی انہی کے ذہن کی اختراع مانا جاتا ہے ۔ وہ 1990 کے بعد بھارتی پنجاب میں سکھوں کا خون بہانے کی اضافی شہرت بھی رکھتے ہیں ۔ وہ راء میں ڈائریکٹر آپریشنز کی سیٹ پر کام کر رہے تھے اور پاکستانی امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں ۔ دوسری جانب ’’اروند کمار ‘‘ کو بھارتی انٹیلی جنس بیورو کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا ہے ۔ انھیں مقبوضہ کشمیر سے متعلق معاملات کا ایکسپرٹ سمجھا جاتا ہے ۔ ان کی خاصیت مقبوضہ کشمیر سے بھارتی ’’ ;65;ssets ‘‘ کی صورت میں مہرے تلاش اور تیار کرنا ہے ۔ ان کا تعلق آسام میگھالیہ کیڈر سے ہے جبکہ سربراہ مقرر ہونے سے پہلے بھی وہ آئی بی میں سپیشل ڈائریکٹر فار کشمیر افیئرز کے طور پر کام کر رہے تھے ۔ غیر جانبدار حلقوں کے مطابق یہ مختصر الفاظ اپنے آپ میں ایک پوری داستان اور انکشاف ہیں ۔ کیونکہ ظاہر ہے یہ افراد سندھ، بلوچستان اور مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی ادارے، ہسپتال اور سڑکیں بنانے کے کارہائے نمایاں تو یقینا سر انجام نہیں دیتے رہے ۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ حضرات ماضی قریب میں پاکستانی مفادات کو ضرب پہنچانے اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم و زیادتی کی داستانیں رقم کرنے کی کاروائیوں میں مصروف عمل رہے ، اپنے ان مقاصد میں ان کو کافی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ۔ تبھی تو حالیہ برسوں میں بدقسمتی سے پاکستانی معاشرہ بھی تقسیم در تقسیم کے عمل سے گز رہا ہے ۔ مذہبی، لسانی اور گروہی اختلافات کے ساتھ ساتھ مختلف اداروں کے مابین تصادم کی فضا پیدا کرنے کا تاثر یقینا ایسے کارہائے نمایاں ہیں ، جن کو بھارتی نکتہ نظر سے بڑی کامیابی ہی قرار دیا جا سکتا ہے ۔ لہٰذا دہلی سرکار ایسے کارناموں کو انجام دینے والوں کو نہ صرف ;826587; اور ;7366; کی سربراہی بلکہ جو بھی انعام دے وہ کم ہے ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ یہ چند افراد محض اپنے بل بوتے پر ایسی فضا پیدا نہیں کر سکتے ، لازمی بات ہے کہ انھیں اپنی کار گزاریوں کے لئے بہت سی پاکستانی کٹھ پتلیوں کا تعاون اور سہولت کاری بھی حاصل رہی ہو گی ۔ گویا ’’ہوئی اگر تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا‘‘ والا معاملہ ہے ۔ مگر یہ امر طے ہے کہ ان تمام کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں ان کے دہلی کے آقا ہی ہلاتے ہیں اور تاحال اسی کام میں مصروف ہیں ۔ اس تمام مذموم مہم کے نتاءج بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔ وطن عزیز میں پاک فوج اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کی ناکام سعی ان کا واحد مقصد ہے ۔ اس کے علاوہ سی پیک اور بلوچستان کی بابت شر انگزیزیوں کا جو لامتناہی سلسلہ جاری ہے، وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ تقریباً سبھی قومی اداروں میں ایک نام نہاد ’’تصادم‘‘ کی تھیوری کو حقیقت بنا کر پیش کرنے کا منفی عمل بھی جاری و ساری ہے ۔ اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ بھارت میں کوئی بھی چھوٹا بڑا ناخوشگوار واقعہ یا حادثہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری پاکستانی قومی سلامتی کے اداروں خصوصاً آئی ایس آئی پر ڈال دی جاتی ہے ۔ اس بھارتی روش کی وجہ سے اکثر اوقات اعتدال پسند حلقے ہندوستانی سرکار کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں ۔ مگر آج یہ عالم ہے کہ پاکستان کے اندر کسی بھی کونے میں کوئی حادثہ یا نا خوشگوار واقعہ رونما ہوتا ہے ، چاہے کسی کی گاڑی کا ٹائر بھی پنکچر ہو جائے تو وطن عزیز کی سول سوساءٹی اور میڈیا کا ایک حلقہ فوری طور پر اس کے لئے پاک فوج اور خفیہ اداروں کو ذمہ دار ٹھہرانا اپنا فرض اولین سمجھتا ہے ۔ ظاہر ہے اس سے بھارتی طبقات کو ہی فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔ اب یہ پاکستانی عوام، حکومت اور مقتدر حلقوں پر منحصر ہے کہ وہ ان ممکنہ بھارتی سازشوں کا جواب کس قدر اتحاداور توانائی کے ساتھ دیتے ہیں ۔ ایسے میں عالمی رائے عامہ کے ساتھ خود بھارت کے انسان دوست حلقوں کا بھی فرض ہے کہ وہ دہلی سرکار کی اس معاندانہ روش کی حوصلہ شکنی کرے ۔