- الإعلانات -

جماعت اسلامی کراچی کا مہنگائی کیخلاف عوامی مارچ (1)

جماعت اسلامی نے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی سیاست اوراحتجاج میں شریک نہ ہونے کا اعلان کیا تھا ۔ کیوں کہ جماعت اسلامی اسے عوام کے حقوق کی اپوزیشن نہیں سمجھتی ۔ بلکہ اسے کرپشن بچاءو مہم سمجھتی ہے ۔ جماعت اسلامی نے حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے پورے پاکستان میں مہنگائی کے طوفان،ٹیکسوں کی بھر مار اور ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کرنے کے سلسلے کی عوامی بیداری مہم کے تحت لاہور اور فیصل آباد کے بعد کراچی میں بھی ’’کراچی عوامی مارچ‘‘ کا اعلا ن کیا ۔ جماعت اسلامی کراچی کے مطابق ،مہنگائی کے علاوہ روشنیوں کے شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ہیں ، جس کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں ۔ واٹر بورڈ کی نا اہلی کی وجہ سے شدید گرمی میں پانی کی بوندھ بوندھ کو ترس رہے ہیں ۔ شہر میں ٹینکر مافیا کا راءج ہے ۔ شہر کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ شہر میں ٹرانسپورٹ کا کوئی انتظام نہیں ۔ عوام ویگنوں کی چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرتے ہیں ۔ کے الیکٹرک ے شہر بھر میں طویل لوڈ شیڈنگ شروع کر رکھی ہے ۔ جب کے اس شہر کا میئر ایم کیو ایم پاکستان کا ہے ۔ گورنر پی ٹی آئی کا ہے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ پیپلز پارٹی کا ہے ۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے مل کر اس شہر پر تیس سال حکومت کی ۔ مگر یہ شہر کھنڈر جیسا لگتا ہے ۔ کیا یہ شہر ایسا ہی رہے گا ;238; ۔ نہیں ! بلکہ چمکتا دمکتا مہکتا ماضی کا کراچی پھر سے آباد ہو سکتا ہے ۔ تعمیر و ترقی کاسفر پھر سے شروع ہو سکتا ہے ۔ کراچی کے عوام آگے بڑھو،اپنا حق مانگو، متحد ہو کر ایک ہی مطالبہ بن جاءو وہ کیاوہ کیا’’ کراچی کو عزت دو‘‘ یہ پیغام جماعت اسلامی کراچی کی لیڈر شپ نے کراچی عوامی مارچ میں کراچی کے عوام کو دیا ۔ کراچی کبھی روشنیوں کا شہر تھا ۔ اس شہر میں امن و امان تھا ۔ اس شہر کی سیاست کو پورے پاکستان میں احترام سے دیکھتے اور اس پر عمل کرتے تھے ۔ یہ شہر منی پاکستان کہلاتا تھا ۔ اس شہر میں ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والوں ،سندھ کے انصار اور پورے پاکستان کے لوگ روزی تلاش کرنے کے لیے آتے تھے ۔ اس شہر نے امت مسلمہ کی ساری قوموں کو اپنے دامن میں پناہ دی ۔ یہ شہرایک اسلامی اور غریب پرور شہر تھا ۔ جماعت اسلامی ہمیشہ اس شہر کی نمائندگی کیا کرتی تھی ۔ مرحوم پروفیسر غفور نے ذوالفقار بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں ،پاکستان کا اسلامی آئین بنانے میں شرکت کی تھی ۔ اس شہر نے دو ٹرم کراچی کی بلدیہ میں جماعت کے عبدالستار افغانی مرحوم کو انتخابات میں جتوایا ۔ ایک دفعہ قومی اسمبلی کا ممبرچنا ۔ نعمت اللہ خان صاحب کو شہر کے ناظم کی سیٹ پر منتخب کیا ۔ اس دور میں کراچی میں اتنے ترقیاتی کام ہوئے، جتنے گذشتہ دور میں بھی نہیں ہوئے تھے ۔ پھراس شہر کو پاکستان کے دشمن گریٹ گیم کے اہل کار بھارت ، امریکا اور اسرائیل نے تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ کیونکہ ان کو اسلامی پاکستان اور ایٹمی پاکستان ہر گز برداشت نہیں ۔ کراچی کو تباہ کرنے کے لیے ان کو غدار ِپاکستان الطاف مل گیا ۔ الطاف نے امریکا ، اسرائیل کی آشیر اباد اوربھارت سے فنڈ لے کر دہشت گردی کی ۔ جسکی تصدیق بھارت کے حاضر سروس نیوی کمانڈر جاسوس گلبھوشن یادیو نے اپنے اعترافی بیان میں بھی کی ۔ جو شہر پاکستان کو ستر فی صد ریونیو کما کر دیتا تھا اس کو تباہ کر دیا گیا ۔ الطاف نے پاکستان کاجھنڈا جلایا ۔ جی ایم سید کے ساتھ اتحاد کر پنجابی اور پٹھانوں کا قتل عام کرایا ۔ پاکستان کے دو قومی اور اسلامی نظریہ کی مخالفت کرتے ہوئے بھارت میں کہا کہ ہندوستان کا بٹوارہ ایک تاریخی غلطی تھی ۔ بھارتیوں کو کہا کہ ہم واپس آئین تو قبول کرو گے;238; الطاف نے پاکستان کو ایک ناسور کہا، بھارت، اسرائیل اور امریکا سے مدد مانگی ۔ اپنے کارکنوں کو میڈیا پر حملہ کرنے کا حکم دیا ۔ کارکنوں نے جی بھائی جی بھائی کی پرانی گردان پڑھ کر میڈیا پر حملہ کر دیا ۔ بلا آخرپاکستان کی فوج نے ایکشن لیا ۔ گرفتاری کے بعد ایم کیو ایم کے فاروق ستار نے یو ٹرن لیا ۔ ایک ہی دن میں ایم کیو ایم کی مقامی لیڈر شپ نے دہشت گرد الطاف سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ ایم کیو ایم ڈر ا ور خوف کی وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان بن گئی ہے ۔ اب ایم کیو ایم لندن، ایم کیو ایم پاکستان، اور ایم کیو ایم پاکستان کے بھی دودھڑے بہادر آبادد اور پی آئی بی کالونی، مہاجر قومی موومنٹ، پاکستان سرزمین پارٹی میں بٹ چکی ہے ۔ پاکستان سرزمین پارٹی کے علاوہ دوسری پارٹیوں کے دماغ سے مہاجر کی خبط ابھی بھی نہیں نکلی ۔ ہم اپنے متعدد کالموں میں مہاجر کی تشریع کر چکے ہیں ۔ عجیب با ت ہے کہ کہیں سے بھی، کسی بھی وجہ سے، ہجرت کرکے آنے والے ہمیشہ مقامی قوموں میں ضم ہو جاتے رہے ہیں ۔ مگر دہشت گرد الطاف کے چیلے اب بھی کبھی کبھی مہاجر صوبہ اور مہاجر حقوق کی رٹ لگاتے رہتے ہیں ۔ قومیت ایک قسم کی زہر ہے ۔ جسے اسلامی معاشرے میں کبھی بھی برداشت نہیں کیا گیا ۔ قوم صرف پہچان کے لیے ہے ۔ حقوق پاکستان کے آئین میں رہ کر ہی مانگے جا سکتے ہیں ۔ اگر صرف جماعت اسلامی کے کارکنوں پر الطاف کے دہشت گردوں کے مظالم کی بات کی جائے تومجھے یاد ہے ۔ جب پہلی دفعہ ایم کیو ایم کو کراچی میں اقتدار ملا تو شہر میں جماعت اسلامی پر مظالم کی حد کر دی ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر منور حسن صاحب ،جو اُس وقت کراچی کے امیر تھے ۔ مظالم کے لیے الطاف سے ملنے گئے ۔ الطاف سے کہا کہ بھائی آپ انتخابات جیت گئے ہو ۔ ہم نے اپنی ہار تسلیم کر لی ۔ پھریہ دہشت گردی کیوں ;238; ۔