- الإعلانات -

کرکٹ ورلڈکپ کا احوال اور پاکستان کیخلاف پراگسی وار

ورلڈکپ ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا ہے ;200;سٹریلیا، بھارت، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ اس وقت پہلی چار پوزیشنوں پر موجود ہیں جبکہ پاکستان پانچویں نمبر پر ہے سیمی فائنل کےلئے کوالیفائی کرنے کےلئے انگلینڈ اور پاکستان کےلئے دو اہم میچ ابھی کھیلنے باقی ہیں انگلینڈ کا مقابلہ بدھ تین تاریخ کو نیوزی لینڈ کے ساتھ ہے اگر یہ میچ انگلینڈ نیوزی لینڈ سے جیت جاتا ہے تو انگلینڈ کے 12 پوائنٹس ہونگے اس کا مطلب یہ ہے کہ انگلینڈ کو تیسری پوزیشن حاصل ہوجائے گی پھر اگر پاکستان بنگلہ دیش کو شکست دینے میں جمعہ پانچ تاریخ کو کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر فیصلہ نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر ہوگا اگر انگلینڈ نیوزی لینڈ سے ہار جاتا ہے اور پاکستان بنگلہ دیش سے جیت جائے تو پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ سکتا ہے ہم دعا ہی کرسکتے ہیں بنگلہ دیش کی ٹیم پر اس میچ کے دوران کوئی پریشر نہیں ہوگا چونکہ وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہوچکی ہے البتہ پاکستان کی ٹیم پر سیمی فائنل میں پہنچنے کےلئے سخت دباءو اور پریشر ہوگا بظاہر ہماری ٹیم کی فتح یقینی دکھائی دیتی ہے ۔ پاکستان کےلئے یہ صورتحال 92 کے ورلڈکپ جیسی نظر ;200;رہی ہے ۔ ہ میں ہر حالت میں پاکستان کی سپورٹ کرنی ہے اور ہمارے کھلاڑیوں کو بھی اس کا ادراک ہے برطانیہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی سپورٹ بہت زیادہ ہے اس کی وجہ پاکستانیوں اور کشمیریوں کی یہاں ;200;بادی اور تیسری چوتھی نسل ہے جوردو بھی نہیں جانتی نہ کبھی اس نسل نے پاکستان دیکھا ہے لیکن پاکستان کےلئے یہاں سپورٹ بہت زیادہ کی جاتی ہے ۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کی دیرینہ دشمنی ہرجگہ نظر ;200;تی ہے افسوس کہ کھیل کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہئے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں بھارتی کھلاڑیوں نے کرکٹ کے میدان میں بھارتی فوج سے اظہار یکجہتی کےلئے یونیفارم کا استعمال کیا بھارتی کھلاڑیوں نے 30 جون کو برمنگھم کے ایجبسٹن سٹیڈیم میں انگلینڈ سے جان بوجھ کر میچ ہار کر پاکستان سے اپنی دشمنی ثابت کردی میچ فکسنگ کا یہ سب سے بڑا سکینڈل کرکٹ کے شائقین کےلئے ناقابل فہم ہے جسے خود بھارت میں اور انگلینڈ کے تمام تجزیہ نگاروں نے ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے پاکستان اور افغانستان کا میچ دیکھنے اور کور کرنے کے لئے میں لندن سے ہینڈنگلے لیڈز گیا تھا میچ کا نتیجہ تو پاکستان کے حق میں ;200;یا لیکن افغانستان کے تمائشیوں نے جو کیا وہ ناقابلِ فراموش اور ناقابل یقین ہے لیڈز بریڈفورڈ کا نواحی ٹاءون ہے جہاں پاکستانیوں کی اکثریت ;200;باد ہے اسی لئے بریڈفورڈ کو منی پاکستان کہا جاتا ہے وہاں جاکر یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم پاکستان کے کسی شہر میں ہیں یا انگلینڈ میں ہیں یہاں افغانیوں کی بھی خاصی بڑی تعداد موجود ہے میچ پر پہنچنے سے پہلے میرے ہمراہ سفر کرنے والوں میں پیٹربرا میں مقیم چودھری عبدالعزیز اور وٹفورڈ کے جمیل منہاس پاکستان اور افغانستان کے میچ کے بارے میں فرما رہے تھے کہ یہ دو برادر پڑوسی اسلامی ممالک کے درمیان میچ ہے بلکہ میرا خیال یہ تھا کہ اگر پاکستان کےلئے یہ میچ لازمی جیتنا ضروری نہ ہو تو افغانستان بھی جیت جائے تو ہ میں زیادہ تلملانا نہیں چاہیئے لیکن بعض افغان تماشیوں نے جس طرح پاکستانی تماشائیوں کو مارنا پیٹنا شروع کردیا اور ماحول خراب کرنے کی کوشش کی پاکستان کے جھنڈے کو روندا گیا تو مجھے ایسا لگا جیسے یہ باقاعدہ سے پلاننگ کی گئی ہو وگرنہ جتنے افغانی مجھے ملے جیت سے پہلے اور جیت کے بعد وہ یقینا ناخوش تھے لیکن انکے جذبات پاکستان مخالف نہیں تھے میچ ختم ہونے کے بعد گیٹ سے باہر بہت سارے افغان تماشیوں کے میں نے انٹرویو کیے انہوں نے کوئی منفی بات نہیں کی ۔ جنہوں نے پاکستان زندہ باد افغانستان زندہ باد کے نعرے بھی لگائے لیکن جن لوگوں نے گڑ بڑ کی وہ باقاعدہ بھیجے گئے تھے افغانیوں کی ایک اکثریت ایسی بھی یہاں موجود ہے جو غالباً پاکستانی پاسپورٹس پر برطانیہ ;200;ئی ہوگی اور مسلسل افغانستان میں بدامنی کی وجہ سے انہیں یہاں سیاسی پناہ ملی ہوگی ایک گیٹ پر تماشائی ٹکٹ نہ ہونے کی وجہ سے گیٹ پھلانگ کر اندر ;200;ئے جب سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں دبوچا تو ایک وقت میں ایسا لگا جیسے باہر والے تماشائی گیٹ ہی توڑ دیں گے انہوں نے لوہے کے گیٹ سے ہاتھ اندر ڈال کر سیکورٹی والوں کو بھی زدوکوب کیا بعد میں پولیس بلا لی گئی میں سوچنے لگا کہ افغان شاید کرکٹ سے پیار کچھ زیادہ ہی کرتے ہیں اور ابھی ان کی ٹیم نئی ہے یورپ میں فٹ بال کے فین ایسی حرکتوں کی وجہ سے بدنام ہیں لیکن افسوس کہ میرا اندازہ اس وقت غلط نکلا جب میں نے پاکستان مخالف بینرز اور چھوٹا جہاز گراءونڈ کے اوپر سے فلائی کرتے ہوئے دیکھا جس پر بلوچستان کے حق میں نعرے درج تھے یہاں میں بتاتا چلوں کہ بلوچستان میں بھارت نے پاکستان کے خلاف پراگیسی وار چھیڑی ہوئی ہے اور بیرونی ممالک میں بھارت نے بعض ضمیر فروش بلوچوں کو خرید رکھا ہے جن کی تعداد ;200;ٹے میں نمک کے برابر ہے ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں بلوچستان کی عوام کی اکثریت پاکستان کی وفادار ہے لیکن ہ میں بلوچستان کی محرومیوں کو ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے پاکستانی میڈیا میں خبریں بڑھا چڑھا کر اپنے اپنے طریقے سے نشر کی گئی ہیں اس کے نقصانات بہت ہیں بھارت کے پیش نظر ;200;گ لگانی ہے اور اس ;200;گ کو ملکی مفادات میں ہ میں بڑھکانا نہیں ہے برطانیہ میں بھی پاکستانیوں اور افغانستان کے باشندوں کے درمیان تعلقات کو نارمل رکھنا ہماری زمہ داری ہے حکومتی سطح پر بھی اور سماجی اور مذہبی تنظیموں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ اور دیگر علاقوں میں حالیہ دنوں میں پاکستان مخالف قوتوں نے ہمارے لئے محاذ کھول رکھے ہیں ہمارے سفارت خانے کو اس کو کاءونٹر کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنی ہوگی ۔ ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم کی کارگردگی اور پاکستان کرکٹ بورڈ پر تجزیہ پھر سہی چونکہ جب ٹورنامنٹ جاری ہو تو ٹیم کے مراحل کو بلند رکھنا ہوتا ہے تنقید اور سستی شہرت کی خاطر محب وطن لوگوں کا شیوہ نہیں ،بریڈ فورڈ میں مقیم مقامی صحافیوں بدر نذیر، حافظ ادیب مشتاق، اویس کیانی اور برمنگھم کے احمد ندیم اور ملک عارف اور دیگر سینکڑوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم سیمی فائنل اور پھر فائنل میں بھی کھیلے گی ۔