- الإعلانات -

ایمنسٹی سکیم۔۔۔آج کے بعدایکشن شروع ۔ ۔ ۔ ۔ !

آج ایمنسٹی سکیم کی مدت ختم ہورہی ہے اوراس کے بعد حکومت نے واضح کردیاہے کہ وہ کسی صورت بھی اضافہ نہیں کرے گی،لہٰذا جن لوگوں نے فائدہ اٹھالیا وہ ٹھیک، باقی بے نامی اثاثوں کے خلاف وسیع پیمانے پرآپریشن ہوگا اورایسی جائیدادیں جن کو ظاہرنہیں کیاگیا بحق سرکار ضبط کرلی جائیں گی، وزیراعظم نے ایک نجی ٹی وی میں اپنے اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں کوتنبیہ کرتے ہوئے کہاہے کہ عام شہری اسکیم سے فائدہ اٹھا لیں ورنہ بعد میں کوئی ایمنسٹی نہیں ملے گی، بہت جلد سیاستدانوں کی بے نامی پراپرٹیز کے خلاف ایکشن شروع ہونےوالا ہے، ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعدعام لوگوں کی بے نامی پراپرٹیز ضبط ہونا شروع ہوجائیں گی، پاک فوج حکومت کے ساتھ کھڑی ہے ،آئی ایم ایف سے بہت جلدمیٹنگ ہے ،افراتفری ختم ہوگی ،اصلاحات میں پہلی چیز یہ ہے کہ لوگ فائلر بنیں ،معیشت درست کرنے کیلئے اصلاحات کے راستے پر چلنا ہوگا،ایک فیصد پاکستانی 22 کروڑ پاکستانیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، سابقہ حکومت نے 61ارب ڈالر سے گروتھ ریٹ بنایا تو ملک مقروض ہوگیا، اتنے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ نہ ہوتی تو خسارہ اتنا بڑا نہ ہوتا، ملک کنگال چھوڑ کرجانے والے ہم سے حساب مانگ رہے ہیں ، شریف خاندان کے بیٹوں نے این آر او کےلئے دو ممالک سے رابطے کئے ،این آر اوکےلئے مجھ پر کسی ملک کا دباوَ نہیں ، مشرف نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کواین آر او د یئے ، بعد میں دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو این آر او دیئے ،اپوزیشن نے جو باتیں کیں اور قوم کو دھوکہ دیا انہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے ، پاکستان میں جیل بنانا شروع کردیں تو گروتھ ریٹ بڑھ جائے گا، ہاءوسنگ اسکیم تیار کرنے میں وقت لگا، اگلے ہفتے افتتاح کریں گے ، ہاءوسنگ سیکٹر پیچھے رہ گیا اس لیے پرائیویٹ سیکٹر کو لے کر آرہے ہیں ، ہاءوسنگ سیکٹر بہتر ہونے سے ملک اوپر کی طرف جائے گا، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا سوچاہے اور نہ ہی یہ ایسا سوچنے کا وقت ہے ۔ نیز وزیر اعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی، ملاقات میں ملکی سلامتی اور سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا جبکہ پاک فوج کے پیشہ ورانہ امور پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ۔ دونوں اہم شخصیات نے امن و امان کی صورتحال اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی گفتگو کی ۔ دونوں سربراہان نے ملاقات میں خطے کی صورتحال پربھی غوروخوض کیا، جہاں تک وزیراعظم کی ایمنسٹی کے حوالے سے گفتگو کاتعلق ہے تو آج وقت ختم ہونے کے بعد حکومت کو چاہیے کہ وہ آپریشن سب سے پہلے اپنی صفوں میں شروع کرکے ایک مثال قائم کرے ۔

راناثناء اللہ گرفتار۔۔۔قانون سب کے لئے ایک

مسلم لیگ نون کے سابق صوبائی وزیراور رہنماراناثناء اللہ کو منشیات کے الزام میں انسداد منشیات فروش نے دھرلیاہے جس پرساری اپوزیشن جُز بُزہورہی ہے شہبازشریف ،بلاول بھٹو اوردیگراپوزیشن رہنماءوں نے اس کی مذمت کی ہے اور حکومت کو موردالزام ٹھہرایا کہ راناثناء اللہ کو اس لئے گرفتار کیاگیا کیونکہ وہ بہت دلیرانہ موقف رکھتے تھے، مریم نواز نے بھی اس حوالے سے مذمت کی ہے ،جہاں تک راناثناء اللہ کی گرفتاری کاتعلق ہے تو اس سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ قانون سے کوئی بالاترنہیں لیکن یہی طریقہ کارحکومتی صفوں میں بھی اپناناچاہیے، ہ میں کپتان کے ارادوں پرقطعی طورپرکوئی اعتراض نہیں تاہم ان کے مشیرجوطریقہ کاراپنانے کے لئے مشورہ دیتے ہیں اس پراعتراض ضرور کیاجاسکتاہے،کرپشن اورمنشیات ہمارے معاشرے کے دوایسے کینسرزدہ ناسور ہیں جن کو ختم کرناوقت کی انتہائی اہم ضرورت ہے اگر راناثناء اللہ کے پاس سے منشیات برآمد ہوناحقیقت ثابت ہوجاتاہے توپھرایسی عبرتناک سزادیناچاہیے کہ وہ دنیا کے لئے ایک مثال بن جائے ۔ وزیراطلاعات ونشریات کے بارے میں وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے 20کروڑ روپے مالیت کی 15 کلو گرام کلو ہیروئن برآمد ہوئی ہے ۔ ترجمان اے این ایف ریاض سومرو نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے منشیات کی بڑی مقدار برآمد ہوئی ، وزیر مملکت انسداد منشیات شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ نئے پاکستان میں کوئی قانون سے بالا تر نہیں ہے،اے این ایف ایک پروفیشنل فورس ہے،جس کے سربراہ میجر جنرل ہیں کسی کے ساتھ کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے،اس کے موقف کا انتظار کرنا چاہیے ۔ تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کو ن لیگ سیاسی رنگ دے رہی ہے،مریم صفدر کے بیان کی مذمت کرتے ہیں ۔ سیاسی شخصیات نے بھی رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے ۔ شہباز شریف نے رانا ثنا کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عمران کا ذاتی عناد کھل کر سامنے آگیا ہے،بلاول بھٹو نے کہا کہ گرفتاریاں حکومت کی مایوسی ظاہر کرتی ہیں ۔ مریم نواز نے کہا کہ رانا ثناء کی گرفتاری میں براہ راست وزیراعظم کا ہاتھ ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان کے اندر سیاسی انتقام کی آگ بھری ہوئی ہے جس پر کرپشن کا الزام ثابت نہ ہو انہیں کسی دوسرے جعلی مقدمے میں پکڑ لیا جاتا ہے ۔ رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کے بعد کارکن انکے ڈیرہ پر جمع ہو گئے اور کارکنوں نے سمندری روڈ پر ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کر کے احتجاج کیا اس دوران پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا ۔

کرپشن بارے سپریم کورٹ کے فکر انگیز ریمارکس

سپریم کورٹ میں مرحوم ڈی ایس پی جمیل اختر کیانی اور اہلیہ مسمات ریاض بی بی کی کرپشن کیس میں جرمانے کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی ۔ عدالت نے اپیل مسترد کرتے ہوئے کرپشن کی تین کروڑ روپے کی رقم ادا کرنے کا حکم دے دیا ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کرپشن پر ہونے والاجرمانہ مرنے کے بعد بھی معاف نہیں ہوگا، کرپشن کی رقم تو واپس کرنا ہوگی، مجرموں نے جتنے کی کرپشن کی جرمانہ کی رقم اس سے بہت کم ہے،50 سال قبل لئے گئے پلاٹ کی موجودہ مالیت ڈھائی ارب روپے سے زیادہ ہوگی،2003ء میں کیا گیا 3کروڑ جرمانہ آج کے حساب سے انتہائی کم ہے ، معاملہ یہ نہیں کہ اثاثوں پر مزے کئے گئے، معاملہ یہ ہے نو کروڑ کے اثاثے کب اور کیسے بنے ۔ جمیل اختر کیانی پولیس میں 1959 میں بھرتی اور 1995 میں ڈی ایس پی کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوا، اس پر کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مقدمہ تھا، ٹرائل کورٹ نے جمیل اختر اور اس کی اہلیہ کو بالترتیب 10 اور 5 سال قید کی سزا کیساتھ 3 کروڑ روپے جرمانہ کیا، ملزمان نے سزا کے خلاف اپیل کی لیکن ہائیکورٹ نے بھی فیصلہ برقرار رکھا ۔ ملزمان کے وکیل نے سپریم کورٹ میں اپیل میں کہا کہ ڈی ایس پی جمیل اختر کیانی کا انتقال ہوچکا ہے، جرمانہ کی تین کروڑ رقم ادا نہیں کر سکتے، نیب نے ہمارے 1995 کے بعد کے اکاءونٹ بھی ضبط کر لئے تھے ۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد مجرموں کی جرمانے کے خلاف اپیل مسترد کردی ۔